منگل, ستمبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سرینگر کی ازسرنو ترتیب

ٹریفک کا حل یا روزگار کے نئے بحران کی بنیاد؟                

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-01
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر شہر اس وقت جس ٹریفک، بے ہنگم تعمیرات، محدود پارکنگ اور بڑھتی ہوئی آبادی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اس کے پیش نظر شہر کی منصوبہ بندی پر ازسرنو غور ناگزیر ہے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں تاریخی، انتظامی، تجارتی اور رہائشی سرگرمیاں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکی ہوں، وہاں محض سڑکیں چوڑی کرنا یا نئی ٹریفک پابندیاں عائد کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔ اسی تناظر میں سرینگر ماسٹر پلان۲۰۲۳۵کے تحت مرکزی سرینگر سے۲۱؍اہم سرکاری دفاتر اور عوامی اداروں کو شہر کے مضافاتی علاقوں میں منتقل کرنے کی تجویز ایک اہم قدم قرار دی جا سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کے فوائد جتنے نمایاں ہیں، اس کے ممکنہ معاشی اور سماجی اثرات کو نظرانداز کرنا بھی اتنا ہی خطرناک ہوگا۔

اس تجویز کا بنیادی مقصد بظاہر قابلِ فہم ہے۔ مرکزی سرینگر میں واقع بڑے سرکاری ادارے روزانہ ہزاروں ملازمین، سائلین، وکلا، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور دیگر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً شہر کے قلب میں ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے، پارکنگ کا مسئلہ سنگین ہوتا ہے اور سڑکوں پر آمدورفت دشوار ہو جاتی ہے۔ اگر ان اداروں کو مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شہر کے مضافاتی علاقوں میں منتقل کیا جائے تو مرکزی علاقوں پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور وہاں موجود قیمتی شہری اراضی کو پارکنگ، عوامی مقامات، سبزہ زاروں، سیاحتی سہولیات اور دیگر اجتماعی ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماسٹر پلان۲۰۳۵ کے مطابق سرینگر کا تعمیر شدہ رقبہ آنے والے برسوں میں تقریباً۷۶۶ مربع کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے جبکہ آبادی تقریباً۱۲ لاکھ سے بڑھ کر۲۰ لاکھ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس صورت حال میں شہر کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھنا یقیناً دانش مندی نہیں ہوگی۔ آبادی میں ممکنہ طور پر ڈھائی گنا اضافہ ہو اور سرکاری ادارے اسی محدود مرکزی حصے میں موجود رہیں تو شہری مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے۔

متعلقہ

ایک ہی دن کے دو اعلانات: لداخ کو۳۷۱، کشمیر کو۳۷۰ کی سیاست؟                

کشمیر میںبی جے پی لیڈروں پر مقدمات                

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض دفاتر کو شہر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں منتقل کرنا ہی ڈی کنجیشن کا حل ہے؟ جواب نفی میں ہے۔ کسی بھی کامیاب شہری منصوبہ بندی کے لیے دفتر کی نئی عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ سڑکیں، پبلک ٹرانسپورٹ، پارکنگ، پیدل چلنے کے راستے، بنیادی سہولیات، بازار، رہائشی انتظامات اور دیگر شہری ڈھانچہ بھی تیار کرنا ہوگا۔ اگر سرکاری دفاتر کو مضافاتی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن وہاں مناسب عوامی ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات دستیاب نہ ہوئیں تو ٹریفک مرکزی شہر سے نکل کر نئے علاقوں میں منتقل ہو جائے گا۔ یوں مسئلہ ختم ہونے کے بجائے صرف اس کا جغرافیہ بدل جائے گا۔

اس منصوبے کا سب سے حساس پہلو مقامی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات ہیں۔ مرکزی سرینگر کے متعدد بازاروں میں چھوٹی دکانیں، ریستوران، چائے خانے، ٹرانسپورٹ سروسز، فوٹو اسٹیٹ اور دستاویزات کی دکانیں، ٹائپنگ مراکز اور دیگر چھوٹے کاروبار سرکاری دفاتر سے آنے والے ملازمین اور سائلین کی روزانہ آمدورفت پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک سرکاری دفتر صرف چند سو ملازمین کا نام نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ایک پورا معاشی ماحولیاتی نظام وابستہ ہوتا ہے۔

اگر سول سیکریٹریٹ سمیت اہم دفاتر مرکزی شہر سے باہر منتقل ہو گئے تو ان علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے جہاں آج ہزاروں افراد روزانہ آتے جاتے ہیں۔ تاجروں کا یہ خدشہ اس لیے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایک دکان یا ریستوران کے پیچھے کسی خاندان کی روزی روٹی وابستہ ہوتی ہے۔ حکومت اگر شہری منصوبہ بندی کے نام پر ایک مسئلہ حل کرتے ہوئے ہزاروں چھوٹے کاروباروں کے لیے نیا مسئلہ پیدا کر دے تو اسے کامیاب منصوبہ بندی نہیں کہا جا سکتا۔

یہاں اقتصادی اثرات کا باقاعدہ جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو ہر بڑے ادارے کی منتقلی سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ موجودہ مقام پر کتنے کاروبار براہ راست یا بالواسطہ اس ادارے سے وابستہ ہیں، کتنے افراد کا روزگار متاثر ہو سکتا ہے اور نئی جگہ پر منتقل ہونے سے معاشی سرگرمی کس انداز میں پیدا ہوگی۔ تاجروں، ٹرانسپورٹروں، رہائشیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مرکزی سرینگر سے خالی ہونے والی اراضی کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جائے گا۔ اگر یہ زمین دوبارہ کسی اور سرکاری یا تجارتی تعمیرات کی نذر ہو گئی تو ماسٹر پلان کا بنیادی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ ان اراضی کو واقعی عوامی مقاصد کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ پارکنگ، سبزہ زار، کھیل کے میدان، پیدل گزرگاہیں، عوامی بیٹھکیں، ثقافتی مراکز اور کمیونٹی سہولیات مرکزی شہر کی زندگی میں حقیقی بہتری لا سکتی ہیں۔

سول سیکریٹریٹ کی نوگام منتقلی اس پورے منصوبے کا سب سے بڑا اور اہم حصہ ہے۔ تقریباً دس کلومیٹر دور نئی انتظامی جگہ قائم کرنے سے مرکزی شہر میں ٹریفک کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے لیے نوگام اور قومی شاہراہ بائی پاس کے گرد پہلے سے جامع شہری منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اگر ہزاروں ملازمین اور روزانہ آنے والے ہزاروں سائلین کو نئی جگہ پہنچنے کے لیے ذاتی گاڑیوں پر انحصار کرنا پڑا تو ٹریفک کا دباؤ نئی جگہ منتقل ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں پبلک ٹرانسپورٹ کو منصوبے کا مرکزی ستون بنانا ہوگا۔ بس ریپڈ ٹرانزٹ، مناسب بس روٹس، پارک اینڈ رائیڈ سہولیات، پیدل چلنے کے راستے اور سائیکلنگ کے لیے بنیادی ڈھانچہ اگر پہلے تیار کیا جائے تو منتقلی کے فوائد کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر نئی سرکاری عمارتیں تو بن جائیں گی مگر شہری نقل و حرکت کا مسئلہ برقرار رہے گا۔

یہ بات بھی خاص طور پر تشویش کا باعث ہے کہ جس بٹہ مالو منی سیکریٹریٹ میں کئی اہم دفاتر منتقل کرنے کی تجویز ہے، وہ خود ابھی مکمل نہیں ہوا۔۲۰۱۸ میں سنگ بنیاد رکھے جانے اور تقریباً۸۰ء۲۶ کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کے باوجود فنڈز کی کمی کے باعث منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بڑے ماسٹر پلان صرف کاغذ پر نہیں بلکہ مسلسل مالی وسائل، انتظامی عزم اور مؤثر نگرانی سے کامیاب ہوتے ہیں۔

سرینگر محض ایک انتظامی شہر نہیں؛ یہ ایک تاریخی، تجارتی، ثقافتی اور سیاحتی شہر بھی ہے۔ اس کی مرکزی آبادی کو سرکاری دفاتر سے محروم کر کے محض ایک خاموش تاریخی مرکز بنا دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ مرکزی سرینگر میں کاروبار، ثقافت اور سیاحت کو زندہ رکھتے ہوئے انتظامی دباؤ کم کرنا ہی متوازن راستہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سرینگر کے مستقبل کو صرف سرکاری فائلوں میں نہیں بلکہ شہریوں، تاجروں، ماہرینِ شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ ماہرین اور مقامی اداروں کے ساتھ مشاورت سے تشکیل دیا جائے۔ مرکزی شہر سے جو زمین خالی ہوگی، وہ کسی بااثر طبقے کے لیے تجارتی مواقع کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی اثاثہ ہونی چاہیے۔ اسی طرح جو کاروبار منتقلی سے متاثر ہوں، ان کے خدشات کو بھی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔

۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

اسکائی روٹ ایرواسپیس نوجوانوں کی صلاحیت، عزم اور کاروباری جذبے کی علامت ہے: مودی

Next Post

وعدے اور دعوے!                

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

ایک ہی دن کے دو اعلانات: لداخ کو۳۷۱، کشمیر کو۳۷۰ کی سیاست؟                

2026-08-30
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میںبی جے پی لیڈروں پر مقدمات                

2026-08-29
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

مالی خود مختاری: جموں کشمیر آخر کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا؟                

2026-08-27
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

استعفیٰ نہیں، مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے

2026-08-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

بجلی کے نرخ اور وعدوں کا بوجھ                

2026-08-25
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میں گرتی شرحِ پیدائش: مسئلہ صرف طب کا نہیں، معاشرے کا بھی ہے                

2026-08-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جدید مذبح خانہ: ایک ضرورت‘لیکن ایک ہی نہیں 

2026-08-22
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی تعداد

2026-08-20
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

وعدے اور دعوے!                

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.