یہ محض اتفاق ہے یا حالات کی ایک ایسی ستم ظریفی جس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کہ ایک ہی دن دو اہم بیانات سامنے آتے ہیں۔جمعہ کو سری نگر کے نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان آغا روح اللہ مہدی اپنی پارٹی اور پارلیمانی نشست سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی، خصوصاً دفعہ۳۷۰ کے بارے میں اپنے انتخابی وعدے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔
دوسری طرف جمعہ کو ہی مرکزی وزیر کرن رجیجو لداخ پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو یہ خوشخبری سناتے ہیں کہ مرکز جلد ہی لداخ کے لیے آئین کی دفعہ۳۷۱کے تحت خصوصی انتظامات کرنے جا رہا ہے۔ دونوں اعلانات الگ الگ سیاسی واقعات ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک ایسا تضاد ضرور موجود ہے جو جموں و کشمیر کی گزشتہ سات برس کی سیاست کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
آغا روح اللہ کا مؤقف واضح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دفعہ۳۷۰؍اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے جدوجہد کرے گی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد پارٹی نے اس وعدے سے عملاً دستبرداری اختیار کرلی۔ ان کے نزدیک یہ محض سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ وعدہ خلافی ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے پارٹی سے الگ ہونے اور دوبارہ عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری طرف نیشنل کانفرنس کا استدلال یہ ہے کہ جس بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے دفعہ۳۷۰ختم کی، اس سے اس کی بحالی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ یعنی ایک طرف وعدہ ہے، دوسری طرف اقتدار کی عملی حدود کا اعتراف۔یہی وہ مقام ہے جہاں لداخ کی کہانی اچانک کشمیر کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتی ہے۔
۲۰۱۹ میں جب جموں و کشمیر کی تنظیم نو ہوئی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا گیا تو لداخ کو اس وقت کوئی ایسی واضح آئینی خصوصی حیثیت دینے کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ لداخ کے بہت سے لوگوں کے لیے اس فیصلے کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہیں کشمیر سے الگ ایک براہ راست انتظامی شناخت مل گئی۔ اس وقت یہ احساس بھی نمایاں تھا کہ اب وہ کشمیر کی سیاست، کشمیر کے تنازع اور دہلی و سری نگر کے درمیان طویل کشمکش سے ’’آزاد‘‘ ہوچکے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لداخ کے اندر بھی زمین، روزگار، آبادی کے تناسب، ماحولیات اور مقامی شناخت کے تحفظ جیسے سوالات شدت اختیار کرتے گئے۔ یہی وہ سوالات تھے جنہوں نے مختلف سیاسی وابستگیوں رکھنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ مطالبے پر جمع کردیا۔
یہاں اصل سبق موجود ہے۔لداخ کے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ محض مرکز کے زیر انتظام علاقہ بن جانا کافی نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے اپنی زمین، شناخت، روزگار اور مقامی مفادات کے تحفظ کی آئینی ضمانت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریاتی حلقوں سے اوپر اٹھ کر اجتماعی آواز پیدا کی۔ ان کے مطالبات میں اختلافات ہوسکتے ہیں، ان کے سیاسی طریقۂ کار پر بحث ہوسکتی ہے، لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اجتماعی مفاد کو مرکز بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مرکز کی جانب سے دفعہ۳۷۱کے تحت خصوصی انتظامات کا اشارہ محض ایک سرکاری اعلان نہیں بلکہ لداخ کی مسلسل سیاسی جدوجہد کا ممکنہ نتیجہ بھی نظر آتا ہے۔
اس کے مقابلے میں کشمیر کی تصویر زیادہ پیچیدہ اور افسوسناک ہے۔
جموں و کشمیر کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے دفعہ۳۷۰کی منسوخی کو اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنایا۔ کسی نے اسے آئینی حق کی بحالی قرار دیا، کسی نے تاریخی حیثیت کی واپسی، اور کسی نے اسے انتخابی منشور کا حصہ بنایا۔ لیکن سات برس گزرنے کے بعد سوال یہ ہے کہ اس سیاست سے عملی طور پر کیا حاصل ہوا؟ کیا دفعہ۳۷۰ واپس آئی؟ کیا پارلیمنٹ کے اندر اس کے لیے کوئی مؤثر راستہ پیدا ہوا؟ کیا مرکزی حکومت کا مؤقف تبدیل ہوا؟ کیا اس مسئلے پر ملک کی سیاسی قوتوں میں ایسی حمایت پیدا ہوئی جس سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت ممکن ہوسکتی؟ بدقسمتی سے ان سوالات کے جواب حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
یہاں آغا روح اللہ کا اعتراض اپنی جگہ اہم ہے، لیکن نیشنل کانفرنس کا جواب بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حقیقت یہ ہے کہ مرکز دفعہ۳۷۰ بحال کرنے پر آمادہ نہیں، تو پھر محض اس وعدے کو دہراتے رہنا کس حد تک موثر سیاسی حکمت عملی ہے؟ کیا سیاسی جماعتوں کا کام صرف یہ کہنا ہے کہ ہم اس حق کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں گے، یا انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس جدوجہد کا سیاسی، آئینی اور پارلیمانی راستہ کیا ہوگا؟ اگر انتخابی منشور میں ایک وعدہ کیا جائے اور اقتدار میں آکر اسے ناقابلِ عمل قرار دے دیا جائے تو عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن اگر ایسا وعدہ کرتے وقت ہی معلوم ہو کہ اسے پورا کرنے کے لیے مطلوبہ سیاسی طاقت موجود نہیں، تو پھر عوام کے سامنے اس کی حقیقت بیان کرنا بھی سیاسی دیانت داری کا تقاضا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے کہ کشمیر کی سیاست نے طویل عرصے سے علامتی سوالات کو عملی حکمت عملی پر فوقیت دے رکھی ہے۔
دفعہ۳۷۰ ایک انتہائی اہم آئینی اور سیاسی مسئلہ ہے، لیکن عوام کی زندگی صرف آئینی دفعات سے نہیں چلتی۔ انہیں زمین کا تحفظ، روزگار، کاروبار، تعلیم، سرمایہ کاری، نمائندگی، بہتر انتظامیہ اور سیاسی استحکام بھی چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتیں ان تمام سوالات کو ایک بڑے نعرے کے سائے میں رکھ دیں تو انتخابی سیاست تو ممکن ہے، لیکن طویل المدتی سیاسی کامیابی مشکل ہو جاتی ہے۔
لداخ اور کشمیر کے راستوں کا فرق یہاں بہت واضح ہوجاتا ہے۔ لداخ نے اپنے مفادات کے گرد سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔ کشمیر میں سیاسی جماعتیں اکثر ایک دوسرے کے خلاف کھڑی رہیں، ایک دوسرے کی نیت پر سوال اٹھاتی رہیں اور اپنے اپنے سیاسی بیانیوں کو برتر ثابت کرنے میں مصروف رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ معاملات جن پر وسیع اتفاقِ رائے پیدا ہوسکتا تھا، وہ بھی جماعتی کشمکش میں الجھ گئے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ لداخ کے لوگوں کو جو کچھ ملنے جارہا ہے وہ صرف اس لیے مل رہا ہے کہ انہوں نے سیاست نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے بھرپور سیاست کی، لیکن ان کی سیاست کا مرکز نسبتاً زیادہ واضح طور پر مقامی حقوق اور مفادات رہے۔ انہوں نے اس سوال کو ثانوی نہیں بنایا کہ ان کی زمین کس طرح محفوظ ہوگی، مقامی نوجوانوں کو روزگار میں کیا تحفظ ملے گا، ان کی شناخت کیسے برقرار رہے گی اور انتظامی فیصلوں میں ان کی آواز کتنی مؤثر ہوگی۔ اس کے برعکس کشمیر میں ہماری سیاسی توجہ کا بڑا حصہ ایک منسوخ شدہ آئینی بندوبست کی واپسی کے سوال پر مرکوز رہا، جبکہ موجودہ آئینی اور انتظامی حقیقتوں کے اندر عوام کے لیے فوری اور قابلِ حصول حقوق کی جد جہد نسبتاً پیچھے چلی گئی۔
دفعہ۳۷۱ کے تحت لداخ کے لیے خصوصی انتظامات کا مجوزہ اعلان اسی لیے ہمارے لیے محض ایک خبر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک سیاسی سبق ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مرکز کے ساتھ اختلاف یا مطالبات اپنی جگہ، لیکن جب کوئی خطہ اپنے بنیادی مفادات پر اجتماعی اتفاق پیدا کرکے مسلسل اور منظم انداز میں اپنی آواز بلند کرتا ہے تو اس کے مطالبات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہتا۔





