کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی موجودگی گزشتہ کچھ عرصے سے ایک عجیب صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ایک طرف پارٹی مسلسل یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنی تنظیم کو وسعت دے رہی ہے، زمینی سطح پر اپنا دائرۂ اثر بڑھا رہی ہے اور بالخصوص وادیٔ کشمیر میں علاقائی جماعتوں کا متبادل بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن دوسری طرف اس کے کشمیر یونٹ سے متعلق سامنے آنے والی خبریں اس دعوے کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پارٹی خبروں میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ایسے واقعات کی وجہ سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے جو اس کی ساکھ، تنظیمی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کے لیے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
گزشتہ ماہ 13 جولائی کو اننت ناگ میں بی جے پی کی ایک ریلی کے دوران پارٹی کارکنوں کی جانب سے کشمیر کی خواتین کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز نعرے بازی کی خبر سامنے آئی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن اگر اختلافِ رائے کو ذاتی یا اجتماعی توہین کی سطح تک لے جائیں تو اس کا نقصان صرف مخالفین کو نہیں بلکہ خود اس جماعت کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ کشمیر جیسے حساس سماجی ماحول میں، جہاں سیاسی بیانیے کے ساتھ ساتھ عزت، وقار اور سماجی جذبات بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، ایسے واقعات کو محض کارکنوں کی جذباتی حرکت قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد پلوامہ سے بی جے پی کے ضلع صدر، انجینئر سید شوکت غیور اندرابی کی معطلی کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس میں درج ایف آئی آر میں ان کے خلاف مبینہ طور پر بھتہ خوری، دھمکانے، مجاز کام میں رکاوٹ ڈالنے اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پارٹی نے ایف آئی آر کے بعد انہیں تمام تنظیمی عہدوں اور ذمہ داریوں سے فوری طور پر معطل کر دیا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں اور معاملہ تفتیش اور تادیبی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔
یہی احتیاط اننت ناگ کے حالیہ معاملے میں بھی ضروری ہے، جہاں بی جے پی کے ضلع جنرل سیکریٹری عابد نینگرو کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی اور فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام عائد کیا کہ اسے پولیس محکمہ میں ایس پی او کی ملازمت دلانے اور پہلگام میں امرناتھ یاتریوں کے لیے خیمے نصب کرنے کی اجازت دلانے کے نام پر اس سے 8 لاکھ 25 ہزار روپے لیے گئے۔
لیکن انفرادی مقدمات سے قطع نظر اصل سوال بی جے پی کی تنظیمی ذمہ داری کا ہے۔ ایک سیاسی جماعت اپنے کارکنوں اور عہدیداروں کے ہر مبینہ فعل کی ذمہ دار قانونی طور پر شاید نہ ہو، لیکن سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے اسے اپنے لوگوں کے طرزِ عمل کا جواب ضرور دینا پڑتا ہے۔ عوام یہ دیکھتے ہیں کہ پارٹی اپنے کارکنوں کے خلاف شکایت آنے پر کیا رویہ اختیار کرتی ہے، قیادت کتنی جلدی کارروائی کرتی ہے اور کیا اس کی پالیسی محض بیانات تک محدود ہے یا عملی طور پر بھی نافذ ہوتی ہے۔
بی جے پی نے قومی سطح پر خود کو نظم و ضبط، دیانت داری اور بدعنوانی کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے پلوامہ کے ضلع صدر کو ایف آئی آر کے بعد معطل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ کم از کم تنظیمی سطح پر کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہی معیار ہر جگہ، ہر کارکن اور ہر عہدیدار کے لیے یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ اگر کسی کارکن یا لیڈر پر عوامی سطح پر سنگین الزام لگتا ہے تو پارٹی کا ردعمل اس شخص کے سیاسی قد، اثر و رسوخ یا تنظیمی اہمیت سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
کشمیر میں بی جے پی کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ وادی میں اس کی سیاسی بنیاد اب بھی انتہائی کمزور ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں وادیٔ کشمیر میں پارٹی کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال میں اگر بی جے پی واقعی کشمیر میں ایک سنجیدہ سیاسی متبادل بننا چاہتی ہے تو اسے محض انتخابی مہم، بڑے دعووں اور مرکزی قیادت کی حمایت پر انحصار نہیں کرنا ہوگا۔ اسے سب سے پہلے مقامی سطح پر اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اور اعتماد تقریروں سے نہیں بلکہ کردار سے پیدا ہوتا ہے۔
کشمیر کے عوام کسی بھی سیاسی جماعت سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کو سمجھے، ان کی عزت اور حساسیت کا خیال رکھے اور ان کے لیے روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کی کوشش کرے۔ جو سیاسی کارکن لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ان مشکلات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں، ان کے بارے میں شکایات پیدا ہوں، یا جن کے بیانات سے ایک پورے طبقے یا معاشرے کی دل آزاری ہو، وہ جماعت کے لیے سیاسی اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتے ہیں۔
بی جے پی اگر کشمیر میں اپنی جگہ بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں کو یہ بنیادی سبق دینا ہوگا کہ سیاست اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ عوامی خدمت کی ذمہ داری بھی ہے۔ سرکاری ملازمت کا وعدہ کرکے کسی شہری سے رقم لینا، اگر الزام ثابت ہوجائے، محض ایک فرد کے ساتھ دھوکہ نہیں بلکہ ان لاکھوں نوجوانوں کے جذبات سے کھیلنا ہے جو برسوں سے روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ اسی طرح کسی مجاز تعمیراتی یا سرکاری کام میں مبینہ طور پر رکاوٹ ڈالنا اور کام جاری رکھنے کے عوض رقم طلب کرنا، اگر ثابت ہو، تو اختیارات اور سیاسی اثر و رسوخ کے غلط استعمال کے زمرے میں آئے گا۔
اسی طرح خواتین یا کسی بھی طبقے کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنا بھی سیاسی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، لیکن تضحیک، تحقیر اور گالی گلوچ جمہوری سیاست کو کمزور کرتی ہے۔ بی جے پی کو خاص طور پر اپنے کشمیر یونٹ کو یہ سمجھانا ہوگا کہ وادی میں سیاسی جگہ بنانے کے لیے پہلے کشمیری معاشرے کے مزاج، حساسیت اور وقار کو سمجھنا ضروری ہے۔
یہ وقت بی جے پی کی کشمیر قیادت کے لیے محض دفاعی بیانات دینے کا نہیں بلکہ اپنی تنظیم کا سنجیدہ جائزہ لینے کا ہے۔ اگر پارٹی واقعی یہ سمجھتی ہے کہ وہ دوسری جماعتوں سے مختلف ہے اور بدعنوانی، بدعنوان طرزِ عمل اور سیاسی بے ضابطگیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتی ہے تو اسے یہ پالیسی عملی طور پر دکھانی ہوگی۔ کارروائی صرف اس وقت نہیں ہونی چاہیے جب کوئی معاملہ میڈیا کی سرخی بن جائے؛ تنظیم کے اندر احتساب کا ایسا مستقل نظام ہونا چاہیے جو شکایات کو بروقت دیکھے اور الزامات کی غیر جانب دارانہ جانچ کو یقینی بنائے۔
کشمیر میں سیاسی متبادل بننے کی خواہش اپنی جگہ، لیکن کسی بھی جماعت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ متبادل صرف انتخابی نشان یا تنظیمی ڈھانچے سے نہیں بنتا۔ متبادل وہ بنتا ہے جس پر عوام اعتماد کریں۔ بی جے پی اگر واقعی وادی میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوگی۔ جن عناصر کے بیانات کشمیریوں کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں، جن کے مبینہ اقدامات پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور جن پر بدعنوانی یا استحصال جیسے سنگین الزامات سامنے آتے ہیں، ان کے معاملات میں شفاف، غیر جانب دار اور بلاامتیاز کارروائی ہی پارٹی کے دعووں کو اعتبار دے سکتی ہے۔





