کیا ہم نے صحیح سنا؟ کہیں بڑھتی عمر کے ساتھ ہمارے کان بھی جواب تو نہیں دے رہے ہیں اور انہیں وہ کچھ سنائی دیا جو کسی نے کہا ہی نہیں، جس کی کوئی حقیقت ہی نہیں؟ پتا کرنے پڑے گا صاحب کہ معاملہ کوئی چھوٹا موٹا نہیں ہے……. اجی ہم اپنے کانوں کی صحت کی بات نہیں کر رہے ہیں، ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں دریافت کرنا پڑے گا کہ جو ہمارے کانوں نے سنا، کیا کہنے والے نے ایسا کچھ کہا یا کچھ اور؟وہ کیا ہے کہ کہنے والا ایسا ہے کہ اس کے منہ میں جو کچھ بھی آتا ہے، کہہ دیتا ہے……. جس طرح اس کی سیاسی وفاداریاں مشکوک ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ اس کی زبان کا بھی ہے کہ ان کے دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور آتا ہے اور……. اور اپنے نائب وزیر اعلیٰ، سریندر چودھری کی زبان پر یہ بات آئی ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں کانگریس، عمر عبداللہ کی لولی لنگڑی کابینہ میں شامل ہو جائے گی…….اگر واقعی ایسا ہے تو……. تو اللہ میاں کی قسم، یہ خوشی کی بات ہے، اس لیے ہے کیونکہ کانگریس نے عمر کابینہ میں شمولیت کو ریاستی درجے کی بحالی سے نتھی کر دیا تھا اور……. اور اگر اب وہ عمر عبداللہ سرکار میں شامل ہونے جا رہی ہے، جیسا کہ چودھری صاحب کہہ رہے ہیں، تو……. تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی عنقریب متوقع ہے، کہ اس کے بغیر کانگریس نے عمر عبداللہ کی کابینہ میں شامل ہونا خود پر حرام کر دیا ہے۔جہاں تک ہمارے مخبروں کا تعلق ہے تو صاحب، انہوں نے ہمیں یہ خبر دی ہے، پختہ خبر دی ہے کہ عمر عبداللہ کی سرکار کی عمر پانچ سال کی بھی ہو جائے گی، خود عمر کی عمر مزید پختہ ہو جائے گی، تو بھی ریاستی درجہ بحال نہیں ہو گا اور……. اور بالکل بھی نہیں ہو گا۔پھر اپنے نائب وزیر اعلیٰ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں، یہ کانگریس کی عمر کابینہ میں ممکنہ شمولیت کا دعویٰ کیوں کر رہے ہیں؟ تو صاحب، مخبروں……. ہمارے مخبروں کا کہنا ہے کہ چودھری صاحب کی باتوں کو بھی اگر کوئی سنجیدہ لے تو……. تو اس جیسا غیر سنجیدہ شخص کرۂ ارض پر کوئی نہیں ہو گا……. کوئی نہیں ہو سکتا۔نائب وزیر اعلیٰ کی بات ایک کان سے سننی اور دوسرے کان سے نکال باہر کر لینی چاہیے اور……. اور یقین کیجیے کہ ہم بھی ایسا ہی کیا، کیونکہ ہم اپنے کانوں کے خود ہی دشمن نہیں ہو سکتے ہیں جو ان کی کہی ہوئی بات کو اپنے کانوں میں گھر بنانے کی اجازت دیں۔ ہے نا؟





