یہ لو کر لو گل……. ڈیڑھ اینٹ تک سمٹ کے رہنے والی پی ڈی پی، جسے مرحوم و مغفور مفتی صاحب کے زمانے میں پاپا ڈاٹر پارٹی بھی کہا کرتے تھے……. کی ماں، بیٹی میں کوئی سیاسی ہم آہنگی نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ بیٹی کچھ کہتی ہے تو ان کی والدہ ماجدہ کچھ اور فرماتی ہیں۔دونوں میں تضاد ہے ‘ بیانات میں تضاد۔اگلے روز جب خان صاحب……. عمران خان صاحب کو جیل سے ہسپتال اور ہسپتال سے جیل آن واحد لیا گیا تو بیٹی صاحبہ نے اس اقدام کو’ ظالمانہ‘ قرار دیا تھا……. ان کا جذباتی بیان پڑھ کر اگر ہم کچھ سمجھ گئے تو یہی ایک بات سمجھ گئے کہ……. کہ یہ بھی اُن اندھ بھگتوں میں سے ایک ہیں جنہیں خان صاحب سے عقیدت……. والہانہ عقیدت ہے۔اب ان کی والدہ ماجدہ کو بھی سن لیجیے۔ محترمہ کہنا ہے، معاف کیجیے، فرمانا ہے کہ خان صاحب کے ساتھ اس وقت وہی کچھ ہو رہا ہے جو انہوں نے اپنے حریفوں……. سیاسی حریفوں کے ساتھ کیا۔ دوسرے الفاظ میں میڈم جی نے خان صاحب کے ساتھ ان کی بیٹی صاحبہ کے الفاظ میں ’ظالمانہ‘ سلوک کو مکافاتِ عمل قرار دیا……. آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ والدہ ماجدہ نے خان صاحب کے ساتھ سلوک کو اپنی دخترِ نیک اختر کے برعکس ’ظالمانہ‘ نہیں بلکہ جیسی کرنی ویسی بھرنی قرار دیا، اور سو فیصد قرار دیا۔نہیں صاحب! آپ غلط سمجھ رہے ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے……. یا ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر یہ عام ماں، بیٹی کا کچن میں کون سا سالن پکانے پر پایا جانے والا اختلاف ہوتا……. جہاں ماں اَلِ(لوکی) تو بیٹی وانگن(بینگن) پکانے کی ضد کرتی……. یہ عام ماں، بیٹیوں والا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک پارٹی کی صدر اور اس پارٹی کی متوقع جانشین، جو آپس میں ماں اور بیٹی ہیں، کے درمیان تضاد کا معاملہ ہے۔خان صاحب کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے یا یہ مکافاتِ عمل ہے، اس پر ہم بعد میں بات کریں، اس کا ہم بعد میں فیصلہ کریں گے……. لیکن اس سے پہلے ماں، بیٹی آپس میں یہ طے کر لیں کہ اُس پار……. سرحد کے اُس پار اپنے خان صاحب کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ دونوں، ماں اور بیٹی، اس پر ایک ہی رائے رکھیں، ایسی رائے جس میں تضاد نہ ہو……. بالکل بھی نہ ہو۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔





