نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور سری نگر کے رکن لوک سبھا آغا سید روح اللہ مہدی کے درمیان اختلافات اب اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں محض پارٹی کے اندرونی اختلافات قرار دے کر نظر انداز کرنا مشکل ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے آغا روح اللہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے آئینی حقوق، دفعہ ۳۷۰ کی بحالی، ریاستی حیثیت اور نیشنل کانفرنس کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے جو بیانات سامنے آتے رہے ہیں، ان پر پارٹی قیادت کی ناراضی بھی اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا آغا روح اللہ سے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جانے کا مطالبہ اور اس کے جواب میں روح اللہ کا یہ کہنا کہ وہ ’’ڈاکٹر صاحب کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیج سکتے‘‘ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کی واضح علامت ہے۔
یہ صورت حال نیشنل کانفرنس کے لیے بھی تشویش کا باعث ہونی چاہیے اور آغا روح اللہ کے لیے بھی۔ کیونکہ یہاں معاملہ محض دو سیاسی شخصیات کے درمیان اختلاف کا نہیں بلکہ ایک ایسے پارلیمانی حلقے کے مینڈیٹ کا ہے جس نے ۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں آغا روح اللہ کو اپنا نمائندہ منتخب کیا تھا۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فاروق عبداللہ درست ہیں یا روح اللہ، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کشمکش میں سری نگر کے ووٹروں کے مینڈیٹ کا کیا ہوگا اور ان کے مفادات کس طرح محفوظ رہیں گے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آغا روح اللہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار کی حیثیت سے لوک سبھا انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ انہیں پارٹی تنظیم، کارکنوں اور انتخابی نشان کی حمایت حاصل تھی۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والا امیدوار صرف اپنی ذاتی مقبولیت کے بل پر کامیاب نہیں ہوتا۔ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ، کارکنوں کی محنت، انتخابی منشور اور جماعت کی مجموعی سیاسی ساکھ بھی اس کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا یہ کہنا کہ پارٹی امیدوار کو تنظیم اور کارکنوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے، مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہے۔
اسی طرح یہ توقع بھی فطری ہے کہ پارٹی کا منتخب نمائندہ جماعت کے بنیادی سیاسی موقف اور انتخابی وعدوں کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔ اگر کسی رکن کو پارٹی کی پالیسی، حکومت کے فیصلوں یا انتخابی وعدوں سے اختلاف ہو تو جمہوری جماعتوں میں اختلاف کی گنجائش ہونی چاہیے، لیکن اختلاف کا اظہار کس فورم پر اور کس انداز میں کیا جائے، یہ بھی سیاسی اخلاقیات کا اہم حصہ ہے۔ پارٹی کے اندر اختلاف کو حل کرنے کی کوشش پہلے ہونی چاہیے۔ مسلسل عوامی سطح پر اختلافات کا اظہار نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ ووٹروں کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آخر ان کے منتخب نمائندے اور اس جماعت کے درمیان تعلق کس نوعیت کا رہ گیا ہے جس کے امیدوار کی حیثیت سے انہیں ووٹ دیا گیا تھا۔
لیکن دوسری جانب آغا روح اللہ کے اعتراضات کو بھی محض پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کے دوران جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے جن سیاسی وعدوں اور توقعات کو رکھا تھا، ان میں آئینی حقوق، ریاستی حیثیت اور جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل سے متعلق امور نمایاں تھے۔ اگر آغا روح اللہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان وعدوں اور موجودہ سیاسی طرز عمل کے درمیان فرق پیدا ہوگیا ہے تو اس سوال پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ عوام نے صرف ایک امیدوار کو ووٹ نہیں دیا تھا بلکہ ایک سیاسی پروگرام، ایک امید اور ایک وعدے پر بھی اعتماد کیا تھا۔
یہاں نیشنل کانفرنس کی قیادت کو بھی اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی ڈسپلن یقیناً ضروری ہے، مگر سیاسی جماعتیں صرف نظم و ضبط سے نہیں چلتیں؛ ان کے اندر اختلافِ رائے، مشاورت اور احتساب کی بھی گنجائش ہونی چاہیے۔ اگر کوئی منتخب رکن یہ سوال اٹھاتا ہے کہ پارٹی اپنے انتخابی وعدوں سے دور ہورہی ہے تو اسے خاموش کرانے کے بجائے اس کے اعتراضات کا جواب سیاسی اور منطقی انداز میں دیا جانا چاہیے۔ اس طرح کا طرز عمل پارٹی کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتا ہے۔
آغا روح اللہ کے لیے بھی صورتحال اتنی ہی سنجیدہ ہے۔ ان کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے اور اس مینڈیٹ کا اصل مقصد پارلیمنٹ میں سری نگر کے عوام کی آواز بننا ہے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے حقوق کی جدوجہد نامکمل ہے تو انہیں پارلیمنٹ کے اندر اپنی آواز زیادہ مؤثر انداز میں اٹھانی چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی انہیں یہی مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ دفعہ ۳۷۰ کی بحالی چاہتے ہیں تو اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔ اس سلسلے میں عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ ان کے منتخب نمائندے نے اب تک پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے حلقے کے مسائل کے لیے کیا عملی کردار ادا کیا ہے اور آئندہ ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔
استعفیٰ دینا کسی بھی منتخب نمائندے کا آئینی اور سیاسی حق ہوسکتا ہے، لیکن استعفیٰ محض اختلاف کے اظہار کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اگر آغا روح اللہ واقعی استعفیٰ دیتے ہیں تو اس کے بعد دوبارہ عوام کے پاس جانا بھی ایک سیاسی فیصلہ ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انہیں یہی چیلنج دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام سے ووٹ حاصل کرکے دکھائیں۔ لیکن اس چیلنج کا جواب محض سیاسی انا کی بنیاد پر نہیں دیا جانا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا سری نگر کے عوام دوبارہ انتخابات چاہتے ہیں؟ کیا وہ اپنے منتخب نمائندے کو اس وقت پارلیمنٹ سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں؟ اور کیا موجودہ سیاسی حالات میں ایک نئے انتخاب سے ان کے بنیادی مسائل حل ہوں گے؟
سری نگر کے ووٹروں نے آغا روح اللہ کو ایک مخصوص سیاسی پس منظر اور توقعات کے ساتھ منتخب کیا تھا۔ ان کے سامنے روزگار، شہری سہولیات، ترقی، بجلی، پانی، ٹریفک، سیاحت، نوجوانوں کے مسائل اور سب سے بڑھ کر جموں و کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت جیسے بڑے سوالات موجود ہیں۔ ان مسائل کے درمیان ایک اور انتخابی مقابلہ شاید عوام کی فوری ترجیح نہ ہو۔ عوام یہ دیکھنا چاہیں گے کہ ان کا نمائندہ ان کے لیے کیا حاصل کرسکتا ہے، نہ کہ وہ پارٹی قیادت کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے کب استعفیٰ دیتا ہے۔
اس لیے موجودہ صورتحال میں سب سے بہتر راستہ استعفیٰ نہیں بلکہ مفاہمت ہے۔ آغا روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کو بند کمرے میں بیٹھ کر اپنے اختلافات دور کرنے چاہئیں۔ روح اللہ کو اپنی سیاسی تشویش اور تحفظات واضح طور پر پارٹی کے سامنے رکھنے چاہئیں، جبکہ پارٹی قیادت کو بھی ان کے سوالات کو محض بغاوت یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی سمجھنے کے بجائے ان میں موجود سیاسی پیغام کو سمجھنا چاہیے۔
نیشنل کانفرنس کے لیے بھی یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ اگر پارٹی نے انتخابات کے دوران عوام سے کوئی وعدہ کیا تھا تو اسے پورا کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔ عوامی مینڈیٹ صرف حکومت بنانے کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہوتا ہے۔ وعدوں کی تکمیل میں تاخیر یا سیاسی ترجیحات میں تبدیلی سے پیدا ہونے والی بے چینی کو نظر انداز کرنا کسی بھی جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔





