تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے…….بالکل بھی نہیں ہے کہ آپ اس کی جان لے لیں گے۔ جس طرح آپ اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں، سچ میں ہمیں فکر ہو رہی ہے‘ اس بات کی فکر کہ آپ کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں اور آپ سچ میں اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ‘عمر عبداللہ کی جان کے پیچھے پڑ گئے ہیں…….ہاتھ دھو کے پڑ گئے ہیں۔مانتے ہیں‘ ہم سو فیصد اس بات کو مانتے ہیں کہ اس سے غلطی ہوئی‘ ہم اس سے انکاری نہیں ہیں‘ لیکن غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں ہیں…….سو وزیرِ اعلیٰ سے بھی ہوئی۔ انسان جوش میں آکر کچھ بھی کہہ دیتا ہے اور اس کے ساتھ بھی ہوا ہے کہ اس نے بھی جوش میں آکر اپنے ہوش گنوا دیے اور مفت بجلی دینے کا وعدہ کر ڈالا۔وہ وعدہ نہیں تھا اور اس لیے نہیں تھا کہ ان کا پہلے دن سے اسے پورا کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اصل میں وزیرِ اعلیٰ کی زبان پھسل گئی تھی اور زبان کی اسی پھسلن کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب آپ چاہتے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ کے پیروں تلے زمین بھی پھسل جائے‘ نہیں صاحب، ایسا نہیں ہوگا…….ایسا نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔اس لیے نہیں ہوتا ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے پہلے اور نہ آخری سیاستدان ہو گا جو اپنے وعدوں سے مکر جائےگا…….ایسا ہوا ہے‘ ایسا ہو رہا ہے اور ایسا ہی ہوگا…….پھر ان جناب کو ہی نشانہ کیوں بنانا؟اسے نشانہ مت بنائیے کہ اسے نشانہ بنانے سے آپ کو کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ جو شخص یہ بھول گیا ہو کہ اس نے کشمیری قوم سے اسکی ’ٹوپس‘ کی لاج رکھنے کی فریاد کی ہو…….اس شخص کیلئےکیے ہوئے وعدوں کو بھلانا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس لیے صاحب، اس کی جان بخش دیجیے اور بھول جائیے…….وہ سب خواب‘ وہ سب خواہشیں‘ وہ سب امیدیں جو آپ نے عمر عبداللہ سے وابستہ رکھی تھیں…….نہیں رکھنی چاہیے تھیں اور اس لیے نہیں رکھنی چاہیے تھیں کہ وعدے ہوتے ہی ہیں توڑنے کے لیے۔یہ سیاست کا سنہرا اصول ہے…….ایسا اصول، جو کوئی اصول نہیں ہے‘ لیکن صاحب، آپ کریں گے کیا کہ یہی سیاست کا پہلا اور واحد اصول ہے۔اپنے وزیرِ اعلیٰ صاحب اسی اصول کی پاسداری کر رہاہے …….اور پلیز، اسے اس اصول کی پاسداری کرنے دیجیے…….ہم سے نہ سہی، سیاست سے اسے وفاداری نبھانے تو دیجیے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔




