فی یونٹ کی کم از کم قیمت ۲ء۴۵ جبکہ زیادہ سے زیاہ۴ء۶۰ روپے مقرر/’سارا بوجھ صارفین پر ڈالا جاتا تو ۴۰ فیصد اضافہ کرنا پڑتا ‘
سرینگر/۲۲؍اگست
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بل ادا کرنا ہوں گے، کیونکہ مشترکہ بجلی ریگولیٹری کمیشن(جے ای آر سی) نے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷کے لیے جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ اور کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ کے نئے خوردہ بجلی نرخوں کی منظوری دے دی ہے۔
نظرثانی شدہ نرخوں میں اوسطاً۶ء۸۳فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ نرخ یکم ستمبر۲۰۲۶ سے۳۱ مارچ۲۰۲۷ تک نافذ رہیں گے، تاہم کمیشن ضرورت کے مطابق ان میں ترمیم یا مدت میں توسیع کر سکتا ہے۔
میٹر والے گھریلو صارفین کیلئے۲۰۰یونٹ تک بجلی کی قیمت۲ء۴۵ روپے فی یونٹ‘۲۰۱سے۴۰۰ یونٹ تک۴ء۲۰ روپے فی یونٹ جبکہ۴۰۰ یونٹ سے زائد استعمال پر۴ء۶۰ روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ۱۰ روپے فی کلوواٹ ماہانہ فکسڈ چارج بھی وصول کیا جائے گا۔
کمیشن نے بی پی ایل خاندانوں اور چھوٹے زرعی صارفین کیلئے رعایتی نرخ برقرار رکھے ہیں۔ اہل بی پی ایل صارفین جو ماہانہ۳۰ یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان سے۱ء۴۰روپے فی یونٹ اور۵روپے فی کلوواٹ ماہانہ فکسڈ چارج لیا جائے گا۔۲۰ ہارس پاور تک کے زرعی کنکشنز کے لیے بجلی کا نرخ۱ء۰۵ روپے فی یونٹ جبکہ فکسڈ چارج۲۳ روپے فی ہارس پاور ماہانہ ہوگا۔
تجارتی صارفین کے لیے بھی نئے نرخ نافذ ہوں گے۔ سنگل فیز غیر گھریلو صارفین کو۲۰۰ یونٹ تک۳ء۷۵ روپے فی یونٹ اور اس کے بعد۵ء۷۰ روپے فی یونٹ ادا کرنا ہوگا، جبکہ فکسڈ چارج۷۵ روپے فی کلوواٹ ماہانہ مقرر کیا گیا ہے۔
جے سی آر سی نے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷کے لیے جےپی ڈی سی ایل اورکےپی ڈی سی ایل کی مشترکہ سالانہ آمدنی کی ضرورت۱۰۲۷۵ء۷۲ کروڑ روپے منظور کی ہے۔ نظرثانی شدہ نرخوں سے۷۸۵۴ء۹۴ کروڑ روپے آمدنی متوقع ہے، جبکہ۲۴۲۰ء۷۸ کروڑ روپے کا فرق حکومت کی جانب سے سبسڈی اور گرانٹس کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔
کمیشن نے کہا کہ اگر پورا مالی خسارہ صرف صارفین سے وصول کیا جاتا تو بجلی کے نرخوں میں تقریباً۴۰ فیصد اضافہ کرنا پڑتا۔ اس کے مقابلے میں حکومتی مالی معاونت نے صارفین پر اضافی بوجھ محدود رکھنے میں مدد کی ہے۔
نظرثانی شدہ ٹیرف آرڈر میں صنعتی صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، سرکاری محکموں، ریلوے ٹریکشن، بلک سپلائی اور عارضی کنکشنز کے نرخ بھی شامل ہیں۔ گرین پاور ٹیرف۰ء۵۰روپے فی کلو واٹ گھنٹہ اضافی چارج کے ساتھ برقرار رکھا گیا ہے۔
جے ای آر سی نے جےپی ڈی سی ایل اور کےپی ڈی سی ایل کیلئے۲۰۶۶۔۲۷ سے۲۰۲۸۔۲۹تک کے عرصے کا بزنس پلان اور ملٹی ایئر ٹیرف فریم ورک بھی منظور کر لیا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ اگر اس پورے مالی فرق کو صرف بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی تو نرخوں میں تقریباً۴۰فیصد اضافہ کرنا پڑتا، جس سے صارفین پر بجلی کے بلوں کا غیر معمولی بوجھ پڑتا اور ’’ٹیرف شاک‘‘ پیدا ہوتا۔
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک )








