نئی دہلی/۲۲؍اگست
۱۸ویں لوک سبھا میں اب تک پیش کیے گئے نصف سے زیادہ بل اسی اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اس رجحان میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ یہ بات پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ کے اعداد و شمار کے تجزیے میں سامنے آئی ہے۔
پی آر ایس کے اجلاس وار اعداد و شمار کے مطابق۱۸ویں لوک سبھا کی تشکیل کے بعد اب تک۶۴ بل پیش کیے گئے، جن میں سے۳۴ یعنی۵۳ فیصد ایسے تھے جو پیش کیے جانے والے ہی اجلاس میں دونوں ایوانوں سے منظور ہو گئے۔
اس کے مقابلے میں۱۶ ویں لوک سبھا کے دوران پیش کیے گئے۱۸۹ بلوں میں سے۶۳ یعنی۳۳ فیصد اسی اجلاس میں منظور ہوئے تھے۔۱۷ ویں لوک سبھا میں یہ تناسب تقریباً دوگنا ہو کر۶۲ فیصد تک پہنچ گیا، جب۱۹۰ میں سے۱۷۷؍بل اسی اجلاس میں منظور کیے گئے۔
تاہم پی آر ایس کے مطابق۱۸ ویں لوک سبھا کے آغاز میں یہ رجحان نسبتاً سست تھا۔۲۰۲۶کے بجٹ اجلاس میں پیش کیے گئے۱۰ بلوں میں سے پانچ اسی اجلاس میں دونوں ایوانوں سے منظور ہوئے۔
مانسون اجلاس میں یہ رجحان سب سے زیادہ نمایاں رہا، جو۱۳؍ اگست کو اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کے دوران پیش کیے گئے۱۲ بلوں میں سے۱۱ بل منظور کر لیے گئے۔ صرف انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ بل۲۰۲۶ زیر التوا رہا۔
حکومت کے اصل قانون سازی ایجنڈے میں پانچ نئے بل پیش اور منظور کرنے جبکہ دو زیر التوا بلوں پر غور اور منظوری کی تجویز شامل تھی، لیکن آخرکار پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے۱۱ بلوں میں سے چھ ایسے تھے جن کا اصل ایجنڈے میں ذکر ہی نہیں تھا۔
دوسری جانب حکومت کے ایجنڈے میں شامل زیر التوا دو بل—وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل۲۰۲۵؍اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل۲۰۲۶ منظور نہیں ہو سکے۔ وکست بھارت بل کی جانچ کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے ابھی اپنی رپورٹ پیش نہیں کی، جبکہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو اپوزیشن کے شدید مطالبے پر واپس لینے کی درخواست کے درمیان مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔
پی آر ایس پہلے بھی نشاندہی کر چکا ہے کہ بل پیش کیے جانے اور ان کی منظوری کے درمیان مختصر وقفہ ارکانِ پارلیمنٹ کو مجوزہ قانون سازی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کم وقت دیتا ہے اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے مواقع محدود کر دیتا ہے۔ مانسون اجلاس میں کئی بلوں پر بہت کم وقت صرف ہونا اس تشویش کو مزید تقویت دیتا ہے۔
پی آر ایس کے مطابق نو بل ایسے تھے جن پر متعلقہ وزیر کے علاوہ کسی رکنِ پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔ مزید یہ کہ۱۱ میں سے سات بل پانچ منٹ یا اس سے بھی کم وقت میں منظور کر دیے گئے۔
۲۰۲۴ میں صورت حال بالکل مختلف تھی۔ ۲۰۲۴کے بجٹ اجلاس میں پیش کیے گئے۱۱ بلوں میں سے ایک بھی اسی اجلاس میں دونوں ایوانوں سے منظور نہیں ہوا۔ اس کے بعد آنے والے سرمائی اجلاس میں پیش کیے گئے چاروں بل بھی اجلاس کے اختتام تک زیر التوا رہے۔۲۰۲۴کے سرمائی اجلاس میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والا واحد بل بھارتیہ وایویان ودھییک۲۰۲۴ تھا، جو اس سے قبل بجٹ اجلاس میں پیش کیا جا چکا تھا۔
صورت حال میں تبدیلی۲۰۲۵سے نمایاں ہوئی۔۲۰۲۵کے بجٹ اجلاس میں پیش کیے گئے پانچ بلوں میں سے تین اسی اجلاس میں منظور ہوئے۔۲۰۲۵ کے مانسون اجلاس میں۱۳ میں سے آٹھ بل اسی اجلاس میں منظور کیے گئے جبکہ باقی پانچ کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سپرد کیا گیا۔
یہ تناسب۲۰۲۵کے سرمائی اجلاس میں مزید بڑھ گیا، جب پیش کیے گئے نو بلوں میں سے سات اسی اجلاس میں منظور ہوئے اور باقی دو کمیٹیوں کو بھیج دیے گئے۔
رواں سال۲۰ جولائی سے۱۳؍ اگست تک جاری رہنے والے مانسون اجلاس میں۱۹ نشستیں ہوئیں۔ پی آر ایس کے مطابق لوک سبھا نے اپنے مقررہ وقت کا محض۱۵فیصد کام کیا جبکہ راجیہ سبھا نے۳۳فیصد وقت کام کیا۔ اجلاس بار بار خلل کا شکار رہا، جن میں نیٹ یو جی پیپر لیک، جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور ایودھیا میں رام مندر کے عطیات کی مبینہ چوری جیسے معاملات شامل تھے۔
لوک سبھا میں سوالیہ وقفہ اپنے مقررہ وقت کے صرف ایک فیصد تک محدود رہا جبکہ راجیہ سبھا میں یہ شرح۱۲ فیصد رہی۔ پی آر ایس کے مطابق لوک سبھا میں پورے اجلاس کے دوران سوالیہ وقفہ محض نو منٹ جاری رہا اور فہرست میں شامل۳۸۰ سوالات میں سے صرف دو کے زبانی جوابات دیے گئے۔
پارلیمانی امور کے ماہرین کے لیے یہ اعداد و شمار اس بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لاتے ہیں کہ قانون سازی کی رفتار بڑھنا جمہوری کارکردگی کی علامت ہے یا پارلیمانی جانچ، بحث اور مشاورت کے لیے دستیاب وقت میں کمی کی علامت۔
۔۔۔۔۔









