اتوار, اگست 23, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’آئی آئی ایم جموں سرحدی معیشتوں پر تحقیق کو ترجیح بنائے‘

اگلی دہائی میں یہ ادارہ عالمی سطح پر شناخت اور احترام حاصل کرے گا:سنہا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-23
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
’جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا دور ختم ہو چکا ہے ‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

جموں/۲۲؍اگست

                جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں اگلی دہائی کے دوران عالمی سطح پر ایک باوقار اور معروف ادارے کے طور پر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ادارہ مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو دنیا بھر میں اس کا نام ’’بے حد فخر اور احترام‘‘ کے ساتھ لیا جائے گا۔

                تاہم، لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ آئی آئی ایم جموں کو اپنی منفرد اور جرات مندانہ سوچ متعین کرنی ہوگی، جموں و کشمیر اور لداخ کے کاروباری اداروں کے اجلاسوں کو حقیقی کیس اسٹڈیز میں تبدیل کرنا ہوگا، سرحدی معیشتوں اور فرنٹیئر ڈیولپمنٹ میں تحقیق کو بنیادی حیثیت دینی ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہر گریجویٹ کیمپس چھوڑنے سے پہلے کوئی حقیقی اور قابلِ قدر کام انجام دے۔

متعلقہ

صارفین کو بجلی کا جھٹکا ‘نرخوں میں ۷ فیصد اضافہ

معدوم ہوتی کشمیری بید سے وادی کی کرکٹ بیٹ صنعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان

                آئی آئی ایم جموں کے قیام کی ایک دہائی مکمل ہونے کے موقع پر بورڈ آف گورنرز، اساتذہ، طلبہ، سابق طلبہ اور دیگر معززین کے ساتھ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے ادارے کے شاندار سفر کو یاد کیا اور کہا کہ اس نے خطے کی تعلیمی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔

                سنہا نے کہا کہ محدود وسائل کے ساتھ ایک دہائی قبل شروع ہونے والا آئی آئی ایم جموں آج بھارت کے تیزی سے ابھرنے والے بزنس اسکولوں میں شامل ہو چکا ہے اور آنے والی دہائی کے لیے ایک بلند ہمت راستہ متعین کر رہا ہے۔

                ایل جی نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ آئی آئی ایم جموں نے دس برس قبل کینال روڈ پر ایک عارضی کیمپس میں محض۵۶ طلبہ کے ساتھ آغاز کیا تھا، لیکن آج یہ مینجمنٹ تعلیم کا قومی سطح پر تسلیم شدہ اور بین الاقوامی طور پر مربوط مرکز بن چکا ہے۔

                سنہا نے کہا کہ آئی آئی ایم جموں اب ملک کا پانچواں ایسا آئی آئی ایم ہے جسے AMBA اور EFMD دونوں کی منظوری حاصل ہے۔ ادارے نے فرانس، مراکش، جنوبی کوریا، یونان، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، پولینڈ، سویڈن، تائیوان اور حال ہی میں برازیل کے تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کی ہے۔

                ایل جی نے مزید کہا کہ ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور۲۰۱۷ میں صرف دو شائع شدہ تحقیقی مقالوں سے بڑھ کر اس سال یہ تعداد تقریباً۳۵۰تک پہنچ گئی ہے۔

                لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’میں نے ایک کے بعد ایک کامیابی اور متعدد منفرد اقدامات کی تفصیلات دیکھی ہیں، جو دوسرے بزنس اسکولوں کے لیے ایک متاثر کن مثال اور رول ماڈل بن چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں لوگ ان کامیابیوں کو ایک معیار اور مثال کے طور پر یاد کریں گے اور ان کی تقلید کی کوشش کریں گے۔‘‘

                ایل جی  نے کہا کہ اب آئی آئی ایم جموں کی ترقی کو نئی دریافتوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

                سنہا نے کہا، ’’آئی آئی ایم جموں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ سرحدی علاقوں کی معیشتوں میں انتظامیہ، پائیدار ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے شعبوں میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ عظیم ادارے اسی لیے عظیم ہوتے ہیں کہ جب قوم کو مشکل سوالات درپیش ہوں تو وہ ان سے جواب کی توقع کرتی ہے۔‘‘

                لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا، ’’اگر آئی آئی ایم جموں اگلے دس برس کے دوران مکمل اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو مجھے یقین ہے کہ دنیا بھر میں اس کا نام بے حد فخر اور احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔‘‘

                سنہا نے ہارورڈ، اسٹینفورڈ اور وارٹن کے قیام اور ترقی سے بھی سبق حاصل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ان اداروں نے صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ ایک منفرد تصور کے گرد اپنی عالمی شناخت قائم کی۔انہوں نے کہا کہ آئی آئی ایم جموں بھی اب ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آج کیے جانے والے فیصلے آنے والی کئی دہائیوں تک اس کی شناخت تشکیل دے سکتے ہیں۔

                لیفٹیننٹ گورنر نے ادارے کے لیے چار ترجیحات بیان کیں: بھارتی کاروباری حقائق سے جڑی ایک منفرد تعلیمی شناخت تیار کرنا، حقیقی دنیا کے منصوبوں کے ذریعے عملی تعلیم کو وسعت دینا، سرحدی معیشتوں، پائیدار ترقی اور فرنٹیئر انٹرپرینیورشپ پر تحقیق کو مزید مؤثر بنانا اور ایسے گریجویٹس تیار کرنا جو کمپنیاں چلائیں اور نئے کاروبار قائم کریں۔

                سنہا نے کہا، ’’حقیقی امتحانات کارپوریٹ بورڈ رومز، بازاروں اور خود زندگی میں ہوتے ہیں، جہاں معلومات نامکمل ہوتی ہیں، آراء مختلف ہوتی ہیں اور کوئی تیار شدہ جواب موجود نہیں ہوتا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی منوج سنہا کی نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات

Next Post

’پارلیمنٹ میں اسی اجلاس کے دوران بل پیش اور منظور ہونے کا رجحان بڑھا‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

صارفین کو بجلی کا جھٹکا ‘نرخوں میں ۷ فیصد اضافہ
اہم ترین

صارفین کو بجلی کا جھٹکا ‘نرخوں میں ۷ فیصد اضافہ

2026-08-23
معدوم ہوتی کشمیری بید سے وادی کی کرکٹ بیٹ صنعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان
اہم ترین

معدوم ہوتی کشمیری بید سے وادی کی کرکٹ بیٹ صنعت کے مستقبل پر سوالیہ نشان

2026-08-23
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا:کشمیر کیلئے بجلی کٹوتی کا شیڈول جاری
اہم ترین

’نیشنل کانفرنس حکومت نے ایک بار پھر عوام کو دھوکا دیا‘

2026-08-23
پاکستان:عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے بغیر پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی
اہم ترین

’پارلیمنٹ میں اسی اجلاس کے دوران بل پیش اور منظور ہونے کا رجحان بڑھا‘

2026-08-23
ایل جی منوج سنہا کی نئی دہلی  میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات
اہم ترین

ایل جی منوج سنہا کی نئی دہلی میں وزیر اعظم مودی سے ملاقات

2026-08-23
اودھم پور اور ریاسی میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف اے سی بی کی بڑی کارروائی
اہم ترین

منتخب نمائندوں کا احترام ہی نہ ہو تو انتخابات کا کیا فائدہ؟چودھری

2026-08-23
اہم ترین

کشتواڑ میں کم سن بچی سے مبینہ  عصمت دری، حمل گرانے کی کوشش کے بعد موت، استاد گرفتار

2026-08-23
ریاستی سرپرستی میں اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سبب: ہیومن رائٹس واچ
تازہ تریں

ریاستی سرپرستی میں اسرائیلی آبادکاروں کا تشدد، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا سبب: ہیومن رائٹس واچ

2026-08-22
Next Post
پاکستان:عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے بغیر پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی

’پارلیمنٹ میں اسی اجلاس کے دوران بل پیش اور منظور ہونے کا رجحان بڑھا‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.