کشتواڑ؍۲۲؍اگست
جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ایک۱۵ سالہ لڑکی کے ساتھ گزشتہ کئی ماہ سے اس کے اسکول کے ایک استاد کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار عصمت دری کیے جانے اور اس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنے کے بعد حمل گرانے کی کوشش کے دوران اس کی موت واقع ہو گئی۔
پولیس نے واقعے کے سلسلے میں مبینہ ملزم استاد اور اس کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے۔
لڑکی کی جمعرات کی دیر شام موت کے بعد ضلع کشتواڑ کے چھاترو اور دیگر علاقوں میں شدید احتجاج شروع ہوگیا۔
حکام کے مطابق پولیس نے خالد احمد شیخ نامی استاد کو گرفتار کیا ہے، جو ٹیچر گریڈ دوم کے طور پر تعینات تھا اور اندرواال کے مڈل اسکول بمل پورہ میں قائم مقام ہیڈ ماسٹر بھی تھا۔ اس کے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لڑکی کو حمل گرانے کے لیے جمعرات کو جموں لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی حالت بگڑ گئی اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ بعدازاں اس کی لاش اور مردہ پیدا ہونے والے بچے کی لاش اس کے گاؤں لے جائی گئی، جس کے بعد چھاترو اور ضلع کے دیگر علاقوں میں احتجاج شروع ہوگیا۔
پولیس نے جمعہ کو چھاترو پولیس اسٹیشن میں متعلقہ دفعات اور تحفظِ اطفال از جنسی جرائم ایکٹ(پاکسو)کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق لڑکی کئی ماہ سے حاملہ تھی۔ تقریباً دو ہفتے قبل اسے پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی، جس پر اسے مقامی صحت مرکز لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے دوران اس کے حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا۔ بعدازاں لڑکی نے اپنے والدین کو بتایا کہ متعلقہ استاد نے اس کے ساتھ بار بار جنسی زیادتی کی تھی۔
مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ مبینہ ملزم نے لڑکی کے اہل خانہ کو رقم کی پیشکش کی اور پولیس سے رجوع کرنے کی صورت میں دھمکیاں بھی دیں۔
ذرائع کے مطابق بدھ کے روز مبینہ ملزم اور اس کا بھائی لڑکی کو، اس کے والد اور چچا کے ہمراہ، حمل گرانے کے لیے کشتواڑ کے ایک طبی مرکز لے گئے۔ طبی معائنے کے بعد اسے مزید علاج کے لیے دوسرے مرکز منتقل کیے جانے کی اطلاع ہے، جہاں سرجری کے ذریعے زچگی کا عمل شروع کرنے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طبی کارروائی کے دوران لڑکی کی حالت بگڑ گئی اور اس نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ اس کے بعد لڑکی کی بھی موت واقع ہوگئی۔
واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات اور تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جمعہ کو چھاترو علاقے میں مکمل بند بھی منایا گیا، جبکہ نمازِ جمعہ کے بعد کشتواڑ کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ پھیل گیا۔
چیف ایجوکیشن آفیسر کشتواڑ‘ سنجے ڈوگرا نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کو استاد کے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد اسے معطل کر دیا گیا تھا۔
ڈوگرا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’جمعرات کی رات سوشل میڈیا پر ہمیں اس واقعے سے متعلق اطلاعات ملنا شروع ہوئیں اور ایک کمسن بچی سے متعلق اتنا سنگین واقعہ سن کر میں صدمے میں تھا۔ آج صبح میں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسکول سے واقعے کے بارے میں معلومات طلب کیں۔‘‘
چیف ایجوکیشن آفیسر نے کہا، ’’اسے معطل کیا گیا اور بعدازاں پولیس نے گرفتار کر لیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچی کی تاریخِ پیدائش۱۲؍ اکتوبر۲۰۱۰تھی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور وکیل شیخ ناصر حسین نے کمسن بچی سے مبینہ عصمت دری اور اس کی موت کی منصفانہ، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے یا عدالتی تحقیقات کرانے اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی مانگ کی۔
پولیس اور انتظامیہ نے ابھی تک ان طبی مراکز کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں جہاں لڑکی کو مبینہ طور پر حمل گرانے اور بعدازاں زچگی کے لیے لے جایا گیا تھا۔واقعے میں طبی علاج کی مکمل ترتیب اور لڑکی کی موت تک پیش آنے والے حالات سمیت مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
۔۔۔۔
ایجنسیاں









