جموں/۲۲؍اگست
جموں و کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سورندر چودھری نے ہفتہ کو ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پنچایتی راج اداروں کے انتخابات میں تاخیر کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا انتظامی اور سیاسی نظام ہونا چاہیے جس میں منتخب نمائندے حقیقی طور پر اپنے اختیارات استعمال کر سکیں۔
موجودہ مرکز کے زیر انتظام خطے کے نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آج یہ عمر عبداللہ کی حکومت ہے، لیکن ہمارے پاس نہ پولیس ہے اور نہ ہی ہمارا اپنا آئی پی ایس یا آئی اے ایس کیڈر۔ تو پھر یہ کیسی حکومت ہے؟‘‘
چودھری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت صرف اس لیے پی آر آئی انتخابات نہیں چاہتی کہ منتخب نمائندوں کو بعد میں نظر انداز کیا جائے، انہیں مناسب احترام نہ دیا جائے اور افسران انہیں تسلیم تک نہ کریں۔ وہ بی جے پی کے اس الزام سے متعلق سوال کا جواب دے رہے تھے کہ این سی کی قیادت والی حکومت جان بوجھ کر پنچایت اور شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں تاخیر کر رہی ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم انتخابات نہیں چاہتے۔ ہم نے کہا ہے کہ ہمیں ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔ وہ (بی جے پی کی قیادت) کہتے ہیں کہ مناسب وقت پر ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا۔‘‘
اس سے قبل حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مقامی اداروں کے انتخابات کرانے کا عمل جاری ہے اور ووٹر فہرستوں کی تیاری، ریزرویشن اور حلقہ بندی سمیت انتظامی رسمی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔
ڈپٹی وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا، ’’آج اگر ہم کسی کو سرپنچ یا ضلع ترقیاتی کونسل کا رکن بنا دیں تو کیا افسران واقعی اس کی بات سنیں گے؟‘‘
چودھری نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کا مقصد محض منتخب نمائندے مقرر کرنا نہیں بلکہ انہیں مؤثر اختیارات، انتظامی تعاون اور مناسب احترام فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔
ایجنسیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔









