منگل, اگست 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

مردم شماری: درست اعداد و شمار، بہتر مستقبل کی بنیاد                

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-18
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

کسی بھی ملک کی ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے یہ جاننا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ وہاں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان کی سماجی و معاشی حالت کیا ہے، ان کے روزگار کے ذرائع کیا ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ اسی لیے مردم شماری محض لوگوں کو گننے کا عمل نہیں بلکہ قومی زندگی کی ایک اہم مشق ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں کی پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد بنتے ہیں۔

                جموں و کشمیر اور لداخ میں مردم شماری۲۰۲۷  کے پہلے مرحلے، یعنی مکانات کی فہرست سازی اور خود اندراج، کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جا چکا ہے۔ اب برف پوش علاقوں میں مردم شماری کے دوسرے اور اہم مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے۔ موسم سرما میں ان علاقوں تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے، اس لیے وہاں مردم شماری پہلے مکمل کرنے کا فیصلہ ایک عملی ضرورت ہے۔۱۷سے۳۱؍ اگست تک متاثرہ علاقوں کے رہائشی خود اپنے کوائف آن لائن درج کرا سکیں گے، جبکہ یکم سے۳۰  ستمبر تک گھر گھر جاکر مردم شماری مکمل کی جائے گی۔

                آج جب برف پوش علاقوں میں مردم شماری کے اگلے مرحلے کی تیاری ہو رہی ہے تو سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ کوئی بھی فرد شمار ہونے سے نہ رہ جائے اور کوئی خاندان غلط معلومات فراہم نہ کرے۔ گھر کے تمام افراد کی درست تعداد، صحیح عمر، پیشہ، تعلیم اور دیگر مطلوبہ معلومات پوری ذمہ داری کے ساتھ فراہم کی جائیں۔ کیونکہ مردم شماری میں دیا گیا ہر درست جواب دراصل مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی میں ایک چھوٹا مگر اہم حصہ ہے۔

متعلقہ

آزادی کا جشن، امن کی حفاظت کا عہد                

آزادی کا سفر اور کشمیر کا بدلتا منظرنامہ

                یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام نے مردم شماری کے ابتدائی مرحلے میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مشکل جغرافیہ، دور افتادہ بستیاں اور بعض علاقوں کی موسمی دشواریاں اس عمل کو آسان نہیں بناتیں، لیکن عوامی تعاون کے باعث پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب دوسرے مرحلے میں بھی اسی ذمہ داری اور تعاون کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

                مردم شماری میں حصہ لینا ہر شہری کا قومی فرض ہے۔ بظاہر چند سوالات کے جوابات دینا یا گھر کے افراد کی صحیح تعداد بتانا معمولی عمل محسوس ہوسکتا ہے، لیکن یہی معلومات جب لاکھوں خاندانوں سے جمع ہوتی ہیں تو قومی سطح پر ایسا بنیادی ڈیٹا تیار ہوتا ہے جس کی بنیاد پر حکومتیں آئندہ کی پالیسیاں وضع کرتی ہیں۔ اس لیے ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی معلومات درست اور مکمل طور پر فراہم کرے۔

                یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مردم شماری صرف افراد کی تعداد معلوم کرنے تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے ذریعے عمر، جنس، تعلیم، روزگار، پیشہ، ازدواجی حالت، زرخیزی اور دیگر سماجی و معاشی پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس بار ذات سے متعلق معلومات بھی مردم شماری کا حصہ ہیں۔ اس جامع ڈیٹا سے حکومت کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی صورتحال کیا ہے اور کن علاقوں یا گروہوں کو کس نوعیت کی سہولتوں اور منصوبوں کی ضرورت ہے۔

                اس کا براہ راست تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ اسکول کہاں اور کتنے بننے چاہئیں، اسپتال اور طبی مراکز کہاں درکار ہیں، پینے کے پانی اور بجلی کی سہولت کہاں بڑھانے کی ضرورت ہے، سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے منصوبے کس علاقے میں ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں، روزگار کے مواقع کہاں پیدا کیے جائیں—ان تمام معاملات میں درست اعداد و شمار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر مردم شماری میں معلومات غلط دی جائیں یا کوئی فرد شمار ہونے سے رہ جائے تو اس کا اثر مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی پڑسکتا ہے۔

                جموں و کشمیر میں مردم شماری کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ خطہ جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے انتہائی متنوع ہے۔ ایک طرف بڑے شہری مراکز ہیں تو دوسری طرف پہاڑی، دور افتادہ اور برف پوش بستیاں۔ کہیں باغبانی روزگار کا اہم ذریعہ ہے، کہیں سیاحت اور کہیں سرکاری یا نجی ملازمت۔ ان تمام علاقوں کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوسکتیں۔ درست مردم شماری ہی یہ واضح کرسکتی ہے کہ کس علاقے میں آبادی کا دباؤ کتنا ہے، کہاں تعلیمی اور طبی سہولتوں کی کمی ہے اور کن علاقوں میں بنیادی ڈھانچے یا روزگار کی زیادہ ضرورت ہے۔

                لداخ کے لیے یہ مردم شماری مزید اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ۲۰۱۹ میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد یہ وہاں کی پہلی آزاد مردم شماری ہوگی۔ وسیع رقبے اور منتشر آبادی کے باعث لداخ کے لیے بھی درست اعداد و شمار آئندہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

                موجودہ مردم شماری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی اور خود اندراج کی سہولت استعمال کی جارہی ہے۔ اس سے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے میں مدد مل سکتی ہے، مگر ٹیکنالوجی اس وقت ہی مفید ثابت ہوگی جب شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے درست معلومات فراہم کریں۔ خود اندراج ہو یا گھر گھر مردم شماری، اصل مقصد ایک ہی ہے کہ کوئی فرد شمار ہونے سے نہ رہ جائے اور کوئی غلط معلومات درج نہ ہو۔

                ذرائع ابلاغ اور مقامی نمائندوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں اس عمل کے بارے میں آگاہی پیدا کریں اور یہ واضح کریں کہ مردم شماری کسی فرد یا خاندان کو کسی مشکل میں ڈالنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی کا بنیادی وسیلہ ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ شمار کنندگان کے ساتھ تعاون کریں، مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور کسی بھی مرحلے پر ابہام ہو تو متعلقہ حکام سے وضاحت حاصل کریں۔

                پہلے مرحلے میں عوام نے جس طرح تعاون کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ برف پوش علاقوں میں شروع ہونے والے اس مرحلے کو بھی اسی جذبے کے ساتھ کامیاب بنایا جائے۔ مردم شماری حکومت کی تنہا ذمہ داری نہیں بلکہ عوام اور حکومت کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔

                درست مردم شماری کا مطلب درست منصوبہ بندی، درست ترجیحات اور بہتر وسائل کی تقسیم ہے۔ آج فراہم کی جانے والی درست معلومات آنے والے برسوں میں بہتر اسکولوں، زیادہ مؤثر اسپتالوں، بہتر سڑکوں، مناسب بنیادی سہولتوں اور روزگار کے زیادہ مواقع کی صورت میں سامنے آسکتی ہیں۔ اس لیے مردم شماری میں حصہ لینا صرف ایک سرکاری عمل مکمل کرنا نہیں، بلکہ اپنے اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

آزاد تجارتی معاہدوں سے چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں اور ماہی گیروں کے لیے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں: مودی

Next Post

جام…. ٹریفک جام!                

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

آزادی کا جشن، امن کی حفاظت کا عہد                

2026-08-16
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

آزادی کا سفر اور کشمیر کا بدلتا منظرنامہ

2026-08-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

 کشمیر کی بدلتی تصویر اور ہر گھر ترنگا

2026-08-13
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

پارلیمنٹ کا تعطل، جمہوریت کا نقصان                

2026-08-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کانی شال کا اعزاز لیکن دستکار کی محنت کا معاوضہ؟                

2026-08-11
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر میں ترقی کی رفتار اور عام آدمی کی زندگی                

2026-08-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

شہباز شریف:پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیجئے!                

2026-08-08
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

دیوانے کا خواب یا قابلِ حصول حقیقت؟

2026-08-06
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

جام.... ٹریفک جام!                

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.