بدھ, ستمبر 30, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

وزیراعلیٰ کی پاکستان پر تنقید، جموں و کشمیر کے دریاؤں کے پانی پر دعویٰ ناقابل قبول

کہا پاکستان کشمیریوں سے ہمدردی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پانی کے معاملے میں اس کی ہمدردی کہاں غائب ہوجاتی ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-15
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, مقامی خبریں
A A
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرار داد منظور

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

سرینگر؍ ۱۴ ؍اگست

                جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے دریاؤں کے پانی پر حق جتانے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو خطہ میں مقیم لوگوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار میں انتخابی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

                عمر عبداللہ سے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دیے گئے بیان پر سوال کیا گیا تھا۔

                 شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’’پانی کا ہر قطرہ ہماری سرخ لکیر ہے‘‘ اور خبردار کیا تھا کہ اگر پاکستان کے پانی کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہوا تو اسلام آباد ’’براہِ راست جواب‘‘ دے گا۔

                اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے صحافیوں سے کہا، ’’ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ ہمارا خون نچوڑ لیا گیا، یہ ہمارے دریا ہیں۔ سب سے پہلا حق ہمارا تھا۔ پاکستانی کہتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بہت بڑے ہمدرد ہیں، لیکن جب پانی کی بات آتی ہے تو ان کی ہمدردی کہاں غائب ہوجاتی ہے؟ جب ہمیں اپنے دریاؤں کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی تو اس وقت ان کی ہمدردی کہاں تھی؟‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چھ دریاؤں میں سے بھارت کے حصے میں تین دریا آئے جو پنجاب سے متعلق تھے، جبکہ ’’ہمارے تین دریا پاکستان کے حوالے کردیے گئے‘‘ اور اس کا خمیازہ جموں و کشمیر کو اس وقت سے بھگتنا پڑ رہا ہے۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’اس وقت سے آج تک ہم سندھ طاس معاہدے کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ہم چناب سے پینے کا پانی حاصل نہیں کرسکے، نہ ہم تول بل پر بیراج تعمیر کرکے دریائے جہلم کو آبی نقل و حمل کے لیے استعمال کرسکے اور نہ ہی اپنے کسی دریا پر بڑا ڈیم تعمیر کرکے پانی روک سکے۔‘‘

                خیال رہے کہ گزشتہ سال پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھ دیا تھا۔

                عمر عبداللہ نے دوٹوک انداز میں کہا، ’’ہمارا خون نچوڑ لیا گیا اور اب جبکہ سندھ طاس معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہے، اسے منسوخ ہی رہنا چاہیے تاکہ ہم اس پانی کا مناسب استعمال کرسکیں۔‘‘

                دریں اثنا، وزیراعلیٰ نے شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا، ’’ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ایسے حملے نہیں ہونے چاہئیں۔ اس سے پہلے امرتسر میں بھی ایک حملہ ہوا تھا، جس کے بعد کہا گیا تھا کہ ان کی سکیورٹی کا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور انہیں زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ لیکن زیڈ پلس کہاں ہے؟ دوسری بار حملہ ہوا، اس مرتبہ وہ زخمی بھی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے اسپتال لے جانا پڑا۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوریت میں اس نوعیت کے حملے نہیں ہونے چاہئیں اور اگر کسی شخص کے خلاف کوئی شکایت یا اختلاف ہے تو عوام انتخابات کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ’’حملہ کرنا جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔‘‘

                عمر عبداللہ نےکہا کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو لاحق دہشت گردانہ خطرات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔انہوں نے گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیری پنڈتوں پر ہونے والے متعدد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے موقف پر زور دیا۔

                وزیر اعلیٰ کاکہنا تھا ’’ہم بار بار سنتے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی ختم ہوگئی ہے، اب کوئی دہشت گرد باقی نہیں رہا۔ لیکن پھر یہ دھمکی کہاں سے آرہی ہے؟ جو لوگ سکیورٹی انتظامات کے ذمہ دار ہیں، انہیں ان دھمکیوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘

                وزیراعلیٰ نے مبینہ دھمکیوں کے پس پردہ عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کے لیے مکمل سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے پر زور دیا۔

                عمرعبداللہ نے کہا، ’’ایک یا دو سال پہلے مخصوص ہلاکتوں کے واقعات پیش آئے، خاص طور پر اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ میں ان لوگوں کے کتنے نام گنواؤں جنہیں نشانہ بنایا گیا؟ حتیٰ کہ بہت سے ملازمین یہاں سے جانے کی تیاری کررہے تھے۔ انہیں تقریباً حراست میں رکھ کر کیمپوں میں رکھا گیا۔ گیٹ بند کردیے گئے تھے۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’اس لیے اس دھمکی کو معمولی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کے پیچھے موجود لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور ان افراد کے لیے مکمل سکیورٹی انتظامات کیے جانے چاہئیں۔‘‘

                دریں اثنا، جب عمر عبداللہ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت نیشنل کانفرنس ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر زور دینے کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر مزید مارچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی آپشن موجود ہیں۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ظاہر ہے کہ ہم سب سے پہلے آپ کے ساتھ اس پر بات نہیں کریں گے۔ ہم آپس میں اس پر گفتگو کریں گے۔ بہت سے راستے موجود ہیں۔ اب مجھے بظاہر معلوم ہوا ہے کہ میری پارٹی جنتر منتر تک لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ یہ اچھی بات ہے، اس میں کوئی غلط بات نہیں۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام سے ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کوئی معمولی وعدہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا، ’’یہ وزیراعظم نریندر مودی کا وعدہ تھا۔ ہمارے ملک میں کہا جاتا ہے کہ کچھ عام وعدے ہوتے ہیں اور پھر ایک سپر وعدہ ہوتا ہے۔ یہ ایک سپر وعدہ تھا۔ آخر اس سپر وعدے کو اب تک پورا کیوں نہیں کیا گیا؟ ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں مل رہا۔‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کا احتجاج اختتام نہیں بلکہ آغاز تھا۔ ’’اب آگے ہمیں کیا کرنا ہے، یہ ہم دیکھیں گے۔‘‘

                جب ان سے پوچھا گیا کہ مرکز کے زیر انتظام خطے کی حیثیت سے جموں و کشمیر میں حکومت چلانا کتنا مشکل ہے تو نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ یہ ایک طویل داستان ہے اور ’’میرے دکھ کی کہانی سنانے کے لیے وقت کافی نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اب جو صورت حال ہے، وہ یہی ہے۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق زیادہ سے زیادہ کام کررہے ہیں۔ ابھی وقت ہے۔ ہم اس موضوع کو بار بار اٹھاتے رہیں گے۔ نہ میں کبھی اس معاملے پر خاموش رہا ہوں اور نہ رہوں گا۔ ہم بات کرتے رہیں گے۔‘‘

                وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ان کی حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے کاروباری قواعد کو منظوری دے کر نافذ کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے۔ ہم نے اپنی جانب سے ہر ممکن لچک دکھائی ہے۔ ہم نے انہیں غیر رسمی طور پر بھی شیئر کیا تھا۔ اب چند دن بعد مجھے مختلف امور پر بات کرنے کے لیے دہلی جانا ہے اور وزیر داخلہ سے ملاقات کرنی ہے۔ میں اس معاملے پر بھی بات کروں گا۔‘‘

                عمر عبداللہ نے کہا کہ کابینہ نے ریزرویشن کے معاملے پر اٹھائے گئے سوالات کا بھی جواب دے دیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’قواعد کے مطابق جواب لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ کوئی ہمیں بتائے، کیا ہمارا جواب دہلی بھیجا گیا ہے؟ کیا اسے منظوری مل گئی ہے؟‘‘

                وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں ریزرویشن کے معاملے پر ’’جن زیڈ‘‘ طرز کے احتجاج شروع ہوتے ہیں تو اس کے لیے ان کی حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’اگر یہاں جن زیڈ جیسے واقعات شروع ہوتے ہیں تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ ہم نے اپنا کام کردیا ہے۔ ہم نے جواب دے دیا ہے۔ ہم نے اس کی وجوہ بھی بیان کردی ہیں۔ لیکن یہ اچھی بات نہیں کہ ہماری کابینہ کے فیصلوں کو اس طرح دبا دیا جائے۔‘‘

                مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے بارے میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتخابات مناسب وقت پر کرائے جائیں گے۔انہوں نے کہا، ’’مناسب وقت پر۔ مقامی بلدیاتی انتخابات تو ہونے ہی ہیں۔ وہ کیوں نہیں ہوں گے؟ لیکن مناسب وقت پر۔ میں صرف اتنا ہی کہوں گا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

(ویب ڈیسک)

 

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’ٹریک۲ شرکاء پاکستان سے ذاتی حیثیت میں مذاکرات کررہے ہیں‘

Next Post

بھارت کی سخاوت اور تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے: ڈوول

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’۲۰۲۶میں ہی ڈیلی ویجرز کی مستقلی کا عمل شروع ہوگا‘
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرار داد منظور

2026-09-29
معراج ملک کی پی ایس اے کے تحت گرفتاری پر اسمبلی میں ہنگامہ
اہم ترین

جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، بی جے پی ارکان نے کاغذات پھاڑ دیے

2026-09-29
ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں
اہم ترین

ترقیاتی فنڈز میں جموں مخالف تعصب؟ حکومت کے اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں

2026-09-29
جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ
اہم ترین

جموںکشمیر کانگریس کا گیانیش کمارکے استعفے کا مطالبہ

2026-09-29
ڈوڈہ کے ملہوری علاقے میں سڑک حادثہ، دو افراد جاں بحق
اہم ترین

کرناہ میں سومو گہری کھائی میں جا گری، پانچ ہلاک، پانچ زخمی

2026-09-29
جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ اسمبلی تک پہنچاایجنسیز
اہم ترین

احتجاج کرنے والے چار ارکان کو ایوان سے باہر نکالا گیا

2026-09-29
’لداخ  یو وزیر اعظم مودی کی ترجیح‘
اہم ترین

دہشت گردی کے خلاف  کارروائی کیلئےخودکار ردعمل  کانظام ادارہ جاتی  شکل دینا ضروری: امت شاہ

2026-09-29
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
اہم ترین

سپریم کورٹ کی میڈیا کو جنسی  جرائم کی رپورٹنگ میں ذمہ دارانہ  اور ہمدردانہ صحافت کی ہدایت

2026-09-29
Next Post
سائبر اسپیس کی حفاظت بہت اہم: ڈوبھال

بھارت کی سخاوت اور تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے: ڈوول

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.