تو صاحب، اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ، عمر عبداللہ صاحب کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ جو ہو رہا ہے، وہی ہوگا اور…….اور جو ہو رہا ہے، اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی، اور وہ ادا کر رہے ہیں یا آئندہ ادا کریں گے۔ نہیں صاحب، یہ کوئی پہیلی نہیں ہے۔ اصل میں وزیرِ اعلیٰ صاحب ایک انٹرویو میں جموں و کشمیر میں دوہرے نظامِ حکومت پر بات کر رہے تھے، جس میں جناب نے بے بسی کا اظہار کیا……. اور اس لیے کیا کہ ان کے پاس جو کچھ ہونا چاہیے، وہ نہیں ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں ہونا چاہیے، اس کے پاس بہت کچھ ہے۔یہ بات وزیرِ اعلیٰ نے پہلی بار نہیں بولی اور ہمیں یقین ہے کہ آخری بار بھی نہیں……. ایسے کئی مواقع آئیں گے اور آئیں گے، جب وزیرِ اعلیٰ صاحب یہ شکوہ کرتے رہیں……. لیکن انٹرویو میں انہوں نے ایک بات کہی۔ وہ بات گورے گورے بانکے چھورے نے پہلی بار کہی یا نہیں، یہ تو صاحب ہمیں معلوم نہیں ہے……. بالکل بھی معلوم نہیں ہے، لیکن اچھی بات کہی……. یہ بات کہی کہ انہیں معلوم تھا اور پہلے سے معلوم تھا کہ اس بے بسی اور بے اختیاری کا انہیں ذاتی طور پر خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘ اس کی انہیں سیاسی قیمت……. بھاری سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ان کی والدہ بھی انہیں سمجھاتی رہتی ہیں کہ اگر باورچی خانے کی گرمی، اس کی تپش برداشت نہیں کر سکتے ہو تو پھر باورچی خانے میں داخل ہی کیوں ہوتے ہو……. اور اب جبکہ وزیرِ اعلیٰ صاحب اس باورچی خانے میں داخل ہو گئے ہیں، اور دو سال پہلے ہو گئے ہیں، اس لیے انہیں اس کی گرمی، اس کی تپش کو بھی برداشت کرنا پڑے گا…….وہ بھی بنا کسی شکوے یا شکایت کے۔مگر……. مگر بات یہاں لوگوں کی ہے، عام لوگوں کی۔ کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کو معلوم تھا اور پہلے سے معلوم تھا کہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، یہ بات تو صاحب ٹھیک ہے……. لیکن بے چارے عام لوگوں کی کیا خطا؟ ان کی کیا غلطی کہ یہ بے چارے تو کسی باورچی خانے میں داخل نہیں ہوئے تھے، پھر یہ بے چارے باورچی خانے کی گرمی، اس کی تپش کیوں برداشت کریں……. ان بے چاروں کو تو کچھ بھی معلوم نہیں تھا……. وزیرِ اعلیٰ کی طرح یہ پہلے سے کسی بات سے باخبر نہیں تھے…….ہوتے تو شاید یہ اس بات کو یقینی بناتے کہ آپ بھی……. جی ہاں، وزیرِ اعلیٰ صاحب، آپ بھی باورچی خانے میں نہ جاتے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔





