مخصوص واقعات میں مبینہ غلط استعمال کا جائزہ لینے کیلئے تیار ہیں،سپریم کورٹ کی مرکز اور آر اے ایف کو نوٹس
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۳۰جولائی
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ جب تک غیر معمولی حالات میں ہجوم پر قابو پانے کے لیے پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت دینے والے قانونی ضوابط کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاتا، اس وقت تک ان پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ وہ پیلیٹ گن کے مبینہ غلط استعمال کے مخصوص واقعات کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جوئے مالیا باگچی بھی شامل تھے، سابق اسپیشل ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو یشووردھن آزاد اور دو ایسے افراد کی درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا، جو مبینہ طور پر پیلیٹ گن سے زخمی ہوئے تھے۔ درخواست گزاروں نے شہری مظاہروں کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلیٹ گن کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس جوئے مالیا باگچی نے کہا’’درخواست میں پیلیٹ گن کے استعمال پر پابندی کی استدعا کی گئی ہے، لیکن غیر معمولی حالات میں پولیس ضابطے اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر آپ پیلیٹ گن کو مرحلہ وار ختم کرانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان ہی قانونی دفعات کو آئین کے آرٹیکل۲۱ کے منافی قرار دینے کی درخواست دائر کرنا ہوگی‘‘۔
عدالت نے مرکز اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے انسپکٹر جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جنتر منتر میں کوکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران تعینات آر اے ایف اہلکاروں کے گولہ بارود کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔
درخواست گزاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شہری مظاہروں کے دوران ہجوم منتشر کرنے کے لیے پمپ ایکشن رائفلوں یا پروجیکٹائل ایکشن گنز (پی اے جی) سے فائر کیے جانے والے دھاتی یا جزوی دھاتی پیلیٹس سمیت تمام دھاتی حرکی پروجیکٹائلز کے استعمال پر پابندی یا انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ان ہتھیاروں کو’کم مہلک‘ یا’غیر مہلک‘ قرار دیا جاتا ہے، تاہم اگر انہیں قریب سے کسی بڑے ہجوم پر استعمال کیا جائے تو یہ جان لیوا یا شدید زخمی کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، خصوصاً جب پیلیٹس جسم کے حساس اعضاء سے ٹکرائیں۔
انہوں نے۲۰ جولائی کو زخمی ہونے والے۱۹ سالہ ساحل لوچھب کی آنکھ میں لگنے والی چوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ شہری مظاہرین کے خلاف اس ہتھیار کے سنگین اور تباہ کن اثرات کا ثبوت ہے۔
درخواست گزاروں نے اقوام متحدہ کے ’کم مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق رہنما اصولوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ہدایات کے مطابق ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے دھاتی پیلیٹس والے ہتھیار استعمال نہیں کیے جانے چاہئیں کیونکہ یہ آئینی اصولوں ’ضرورت، تناسب اور معقولیت‘ پر پورا نہیں اترتے۔
درخواست گزاروں کی وکیل ورندا گروور نے عدالت کو بتایا کہ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر ڈی) کی جانب سے ہجوم پر قابو پانے کے لیے جاری معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) میں پیلیٹ گن کے استعمال کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اس پر جسٹس باگچی نے کہا کہ مذکورہ دستاویز محض ایک تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہجوم پر قابو پانے کے لیے پہلے اسے غیر قانونی اجتماع قرار دیا جاتا ہے، پھر منتشر ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے اور اس کے بعد مرحلہ وار طاقت استعمال کی جاتی ہے، جس میں بعض صورتوں میں پیلیٹ گن بھی شامل ہے۔
ورندا گروور نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس او پی میں پیلیٹ گن کا ذکر موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیلیٹس ربڑ، پلاسٹک یا دھات کے ہو سکتے ہیں، لیکن اس معاملے میں متاثرہ نوجوانوں کے جسم سے دھاتی پیلیٹس برآمد ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقت اور ہتھیار کے انتخاب کا فیصلہ اجتماع کی نوعیت کے مطابق معقولیت، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
جسٹس باگچی نے ریمارکس دیے کہ جب تک پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت دینے والے قواعد کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواست نہیں دی جاتی، اس وقت تک انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کی استدعا مبہم ہے۔
انہوں نے کہا’’ہم کسی مخصوص واقعے میں پیلیٹ گن کے استعمال کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ کسی بھی مرحلے پر دھاتی پیلیٹس استعمال نہیں کیے جا سکتے تو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ موجودہ قواعد کے تحت ان کا استعمال جائز نہیں ہے‘‘۔
جسٹس باگچی نے مزید کہا کہ بعض انتہائی حالات میں مرحلہ وار طاقت کے استعمال کے ضوابط گولی چلانے تک کی اجازت دیتے ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ گولی تو چلائی جا سکتی ہے لیکن پیلیٹ نہیں، ایک ہی معیار پر پرکھا نہیں جا سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ درخواست گزار ایسے حالات کے لیے ایک واضح پروٹوکول وضع کرنے کی عدالت سے استدعا کر سکتے ہیں۔
جسٹس باگچی نے یاد دلایا کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک بار پولیس ضابطے کی اس شق کو کالعدم قرار دیا تھا، جس میں گولیاں جسم کے سینے پر چلانے کی ہدایت دی گئی تھی تاکہ گولہ بارود کی بچت ہو۔ عدالت نے اسے آرٹیکل۲۱ کے منافی قرار دیا تھا۔
مرکز اور دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ غالباً وہ ضابطہ نوآبادیاتی دور کا تھا۔عدالت نے درخواست گزاروں سے کہا کہ اگر وہ متعلقہ اسٹینڈنگ آرڈرز کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو اپنی درخواستوں میں مناسب ترمیم کریں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ دہلی حکومت پیلیٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد کو مناسب طبی سہولیات فراہم










