پی او جے کے کی صورتِ حال پر مرکز کی خاموشی کیوں؟
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۹ جولائی
نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روز پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی صورتِ حال پر مرکزی حکومت کی ’خاموشی‘ پر سوال اٹھایا۔
این سی صدر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’جب وہ مسلسل یہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ (پی او جے کے) ہمارا حصہ ہے، تو اگر وہ آپ کا حصہ ہے تو پھر آپ اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے؟‘‘
حکمران جماعت کے صدر نے یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’میں اس بارے میں کئی مرتبہ بات کر چکا ہوں۔ میں نے اپیل کی ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) وہاں جائے، لوگوں کے مسائل دیکھے اور ان مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرے‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے مرکز کی جانب سے ایسا کوئی بیان نہیں سنا جس میں پی او جے کے میں تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔انہوں نے کہا’’وہ کیوں نہیں کہتے کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بند ہونا چاہیے؟ میں نے کہیں ایسا نہیں سنا۔ مجھے نہیں معلوم آپ نے سنا ہے یا نہیں، لیکن میں نے حکومت کی طرف سے ایسا کوئی بیان نہیں سنا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی او جے کے بھارت کا حصہ ہے تو’’پھر وہ اس پر بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ بات ہی نہیں کر رہے‘‘۔
منگل کے روز پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کم از کم۱۴ کارکن ہلاک جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے تھے، جب قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
بھارت نے ان انتخابات کو پاکستان کی جانب سے اپنے غیر قانونی قبضے کو چھپانے اور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا تھا۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں، بصورت دیگر یہ تحریک مزید پھیل سکتی ہے۔انہوں نے کہا’’اگر حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کرتی، ایف آئی آرز واپس نہیں لیتی، ان لوگوں کو ہراساں کرنا بند نہیں کرتی جنہوں نے مظاہرین کو کھانا اور پانی فراہم کیا اور ان کی دیکھ بھال کی، بلکہ ان اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بناتی رہے گی، تو یہ تحریک مزید بڑھے گی اور تبدیلی لا کر رہے گی‘‘۔
بہار میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے مظاہرین پر اے کے۴۷سے فائرنگ کیے جانے سے متعلق سوال پر این سی صدر نے کہا’’سب جانتے ہیں، اور آپ نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (نیہا) کی صدر کا بیان بھی سنا ہوگا۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔ طلبہ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ اس تحریک کو آگے لے جائیں گے‘‘۔
ڈاکٹر فاروقنے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے جنتر منتر میں دیے گئے حالیہ بیان پر معذرت کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے بھی انکار کر دیا۔انہوں نے کہا’’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا‘‘۔
واضح رہے کہ دہلی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے وادی کشمیر میں ماضی میں پیلٹ گنوں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتِ حال مختلف تھی کیونکہ وہاں سیکورٹی فورسز عسکریت پسندی سے نبرد آزما تھیں۔
منگل کے روز محبوبہ مفتی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی وجہ سے سیکورٹی فورسز کو طاقت کے استعمال کا’’بہانہ مل جاتا ہے‘‘، تاہم وہ خطاب کے دوران یہ لفظ ادا نہ کر سکیں۔
آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی کی برسی۵؍ اگست کو پی ڈی پی کی جانب سے احتجاج کے اعلان سے متعلق سوال پر فاروق عبداللہ نے کہا’’یہ ان کا کام ہے، وہ جو چاہیں کریں‘‘۔
پی ڈی پی صدر کے اس الزام کے بارے میں کہ نیشنل کانفرنس نے پارلیمنٹ حملہ کیس کے مجرم افضل گورو اور جے کے ایل ایف کے بانی مقبول بٹ کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کیے تھے، فاروق عبداللہ نے کہا’’انہیں جو کہنا ہے، کہنے دیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’میں محبوبہ کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ انہیں جو کہنا ہے، کہنے دیں‘‘۔
حکمران جماعت کے صدر نے اپنے اسکول کا ایک مقولہ دہراتے ہوئے کہا’’وہ جو کہتے ہیں، کہنے دیں، کیونکہ وہ وہی کہتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس مبینہ بیان کے بارے میں کہ گزشتہ چھ برسوں میں کشمیر میں تعمیر ہونے والے پانچ ہزار ہوٹلوں میں سے نوّے فیصد غیر قانونی ہیں، فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہیں اس بات پر شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ ہوٹل تعمیر ہوئے تاکہ وادی میں آنے والے سیاحوں کو رہائش مل سکے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’اس پر شکر ادا کریں کہ یہ ہوٹل بنے۔ سیاح یہاں آتے ہیں، وہ کہاں قیام کریں گے؟ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب لوگ ٹیکسیوں، گاڑیوں اور سڑکوں پر سوتے تھے کیونکہ رہنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ لوگوں نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا اور سرکاری ملازمتوں کے انتظار میں نہیں بیٹھے‘‘۔
این سی صدر نے وادی میں منشیات فروشی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔










