لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکاسرینگر میں ۷۷ویں میگا جاب فیئر سے خطاب‘کا نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی نہیں
’ آپ کے ہاتھوں میں نہ صرف آپ کا کیریئر بلکہ ملک کی ترقی کی سمت بھی ہے،آپ آتم نربھر بھارت‘ کے حقیقی علمبردار ہیں‘
سرینگر؍۲۸جولائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں کیونکہ وہ محض ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے معمار ہیں۔
سرینگر کے ایک کالج میں منعقدہ۷۷ ویں میگا جاب فیئر سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگی میں تین بنیادی اصولوں کو اپنائیں، جن میں بڑے خواب دیکھنا، مسلسل سیکھنے کا جذبہ برقرار رکھنا اور ہمیشہ جدت و اختراع کو اختیار کرنا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگراموں کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’آپ صرف ملازمت کے خواہش مند نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آپ کے ہاتھوں میں نہ صرف آپ کا کیریئر بلکہ ملک کی ترقی کی سمت بھی ہے۔ آپ ’اسکل انڈیا‘ کی طاقت، ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا چہرہ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے حقیقی علمبردار ہیں۔‘‘
ایل جی نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں اور نئی دریافتوں پر توجہ دیں۔ ان کے مطابق مستقبل انہی لوگوں کا ہے جو نئے حل تلاش کرتے ہیں، نئی سوچ کو فروغ دیتے ہیں اور تبدیلی کی قیادت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب وہ اخلاقیات اور ذمہ داری کے ساتھ حاصل کی جائے۔
اس جاب فیئر میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی، صحت، بینکنگ، مالیاتی خدمات، مینوفیکچرنگ، ریٹیل، مہمان نوازی، تعلیم، لاجسٹکس اور انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی۵۰ سے زائد معروف کمپنیوں نے شرکت کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جاب فیئر کو نوجوانوں کی امنگوں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سنہا نے کہا، ’’یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں خوابوں کو سمت ملتی ہے، تعلیم کا صنعت سے ربط قائم ہوتا ہے اور ایک نئے جموں و کشمیر کی بنیاد مضبوط کی جا رہی ہے۔‘‘
ایل جی نے اس بات پر زور دیا کہ کالجوں اور جامعات کو ایسے اداروں میں تبدیل ہونا چاہیے جو طلبہ کو صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے تیار کریں۔انہوں نے کہا، ’’تعلیم کو صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر طالب علم کو اعتماد، مہارت اور عملی فہم کے ساتھ زندگی کے سفر کا آغاز کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے صنعتی اداروں کے نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ صرف بھرتی کرنے والے ادارے ہی نہ رہیں بلکہ نوجوانوں کی رہنمائی اور مستقبل کی افرادی قوت کی تشکیل میں شراکت دار کا کردار بھی ادا کریں۔
ایل جی نے کہا، ’’اگر صنعت اور تعلیمی ادارے مل کر کام کریں تو ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے جہاں علم اور تجربہ ایک دوسرے کو مضبوط کریں اور جدت و روزگار ساتھ ساتھ آگے بڑھیں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ نوجوانوں میں کاروبار شروع کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے اور۲۰۲۰ سے اب تک لاکھوں نوجوان کاروباری بن چکے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ۲۰۲۱۔۲۲ میں جموں و کشمیر نے پردھان منتری روزگار پیدا کرنے کے پروگرام کے نفاذ میں ملک میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی جموں و کشمیر اختراع، اسٹارٹ اپس اور جدید صنعتوں کے میدان میں نئی شناخت قائم کرے گا۔
ایل جی نے کہا کہ بے روزگاری کا مسئلہ صرف سرکاری ملازمتوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سرکاری آسامیوں کی تعداد محدود ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے تین ترجیحات بیان کیں: مہارتوں کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا، ایم ایس ایم ایز اور ایس ایم ایز کے ذریعے نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا، اور انٹرن شپ، مینٹورشپ اور کیریئر رہنمائی کے ذریعے کالج سے عملی زندگی تک منتقلی کو آسان بنانا۔
آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آئیے عہد کریں کہ۷۷واں میگا جاب فیئر جموں و کشمیر کی روزگار کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔‘‘










