کم بخت یہ وعدے بھی بڑے کم بخت ہو تے ہیں ‘کبھی پورے ہی نہیں کئے جاتے ہیں ۔ شکایت کریں تو جواب دیا جاتا ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو پورا کیا جائے …….یا یہ کہ وعدہ تو توڑنے کیلئے ہی کیا جاتا ہے کہ اس کے ڈی این اے میں جوڑ نہیں ،توڑ ہے ۔اسے پورا کرنا اس کی ساخت اور مزاج کے خلاف ہے ‘ اس سے بغاوت ہے ۔ اس لئے صاحب آئندہ آپ گلہ نہ کریں کہ آپ سے کسی نے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کیا ‘اگر آپ شکوہ کریں گے تو ……. تو اللہ میاںکی قسم یہ زیادتی ہو گی ‘ وعدہ کرنے والے سے نہیں بلکہ خود وعدے سے زیادتی ہو گی ۔نہیں صاحب ہم یہاں وزیر اعلیٰ‘ عمرعبداللہ کے اُن وعدوں کی بات نہیں کریں گے جو انہوں نے الیکشن سے پہلے یا الیکشن کے بعد حکومت میں لوگوں سے کئے ……. ہم ان وعدوں کا بھی ذکر نہیں کریں گے جو دہلی نے کئے تھے ‘ عمرعبداللہ سے کئے تھے‘ اِن سے پہلے ان کے والد گرامی فاروق عبداللہ سے ہو ئے تھے اور اُن سے پہلے ان کے والد گرامی شیخ محمد عبداللہ سے کئے تھے ……. اللہ میاں کی قسم ہم ان وعدوں کی بات نہیں کریں گے …….اور اس لئے نہیں کریں گے کہ دہلی کے ان وعدوں سے ہی تو ہم نے یہ سیکھا ہے کہ ……. کہ وہ وعدہ ہی کیا جو پورا کیا جائے کہ وعدے ہوتے ہی نہیں توڑنے کیلئے …….اس لئے ہم ان وعدوں کی بات نہیں کریں گے ۔ ہم ایک دوسرے وعدے کی بات کریں گے جو بہار میںکیا گیا تھا ‘لڑکی والوں نے لڑکے والوں سے کیا تھا اور وہ وعدہ یہ تھا کہ جب وہ بارات لے کر آئیں گے تو ان کی تواضع گوشت سے کی جائے گی ۔ چنانچہ بارات آئی ‘ نکاح خوانی ہو ئی اور اب دعوت کی باری آئی …….سبھی باراتی گوشت کے انتظار میں تھے ……. اور اس لئے تھے کہ ان سے کم بخت وعدہ جوکیا گیا تھا ……. گوشت کھلانے کا وعدہ۔ پلیٹیں سجیں تو ان میں گوشت نہیں بلکہ چکن تھا ‘ مرغ تھا ۔ بس پھر کیا تھا کہ……. کہ باراتی غصے میں اتنے پک گئے جتنا چکن کو پکایا نہیں گیا تھا ……. پہلے چکن پیش کرنے پر اعتراض اور احتجاج……. پھر تکرار و تیز گفتار اور پھر آخر پر ایک دوسرے پر لاٹھیوں سے وار پر وار ۔احمق باراتی اگر پہلے ہم سے پوچھ لیتے ‘ ہم کشمیریوں سے تو مار پیٹ کی نوبت ہی نہیں آتی اور پُر امن طور پر شادی انجام پاتی ۔ہم انہیں زیادہ کچھ نہیں کہتے ‘ سوائے اس ایک بات کے کہ ……. کہ وہ وعدہ ہی کیا جو پورا کیا جائے ……. گوشت نہیں تو چکن ہی سہی،کچھ تو ملا …….بے چارے عمرعبداللہ کو تو ……. خیر !ہے نا؟



