ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۱۱ جولائی
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام عائد کیا کہ وہ نیشنل کانفرنس میں پھوٹ ڈال کر ان کی حکومت گرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حضرت بل میں اپنے دادا دادی کے مزار پر بیگم اکبر جہاں کی۲۶ ویں برسی کے موقع پر منعقدہ کارکنان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ان کے اراکینِ اسمبلی کو خریدنے کے لیے دولت کا استعمال کر رہی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’نیشنل کانفرنس کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جب پیسے اور وزارتوں کی لالچ کارگر ثابت نہیں ہوئی تو اب بی جے پی میرے اراکینِ اسمبلی سے بند کمروں میں کہہ رہی ہے کہ ہمارے ساتھ آ جاؤ، ہم تمہیں ریاستی درجہ دلا دیں گے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید دعویٰ کیا کہ جموں سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے ایک رکنِ اسمبلی نے انہیں بتایا کہ بی جے پی کے ایک عہدیدار، جو سپریم کورٹ کے وکیل بھی ہیں، نے انہیں پارٹی چھوڑ کر بی جے پی کی حمایت کرنے کے عوض۲۰ سے۳۰ کروڑ روپے، وزارت اور ریاستی درجے کی بحالی کی پیش کش کی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’خدا گواہ ہے کہ جموں کے ایک رکنِ اسمبلی نے مجھے بتایا کہ بی جے پی کے ایک عہدیدار، جو سپریم کورٹ کے وکیل بھی ہیں، نے انہیں کہا کہ ہمارا ساتھ دو، ہم تمہیں۲۰ سے۳۰ کروڑ روپے، وزارت اور ریاستی درجہ دیں گے۔ انہیں لگتا ہے کہ لوگوں کا ایمان اتنا کمزور ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس کے اراکینِ اسمبلی خود کو فروخت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا’’اس اسٹیج پر موجود ایک بھی رکنِ اسمبلی ایسا نہیں جو۲۰ کروڑ یا حتیٰ کہ ۱۰۰ کروڑ روپے کے عوض اپنی دیانت فروخت کرے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے‘‘۔
بی جے پی کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پچھلے دروازے سے جموں و کشمیر میں اقتدار حاصل نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا’’یہ نہ سمجھیں کہ ہم اتنے کمزور ہیں کہ آپ پچھلے دروازے سے داخل ہو جائیں گے۔ آپ کبھی بھی پچھلے دروازے سے آ کر اگلی کرسی تک نہیں پہنچ سکتے۔ عوام نے آپ کو پیچھے بٹھایا ہے اور آپ وہیں رہیں گے۔‘‘










