پٹھانیا کی ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی وارننگ دی؛ شام لال کا این سی حکومت پر عوامی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام
جموں؍۱۱ جولائی
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا کہ بی جے پی نے نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کو رقم کی پیشکش کر کے پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ پارٹی نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں معتبر ثبوت متعلقہ حکام کے سامنے پیش کریں یا پھر عوام سے غیر مشروط معافی مانگیں۔
جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے وزیر اعلیٰ کے بیان کو’جھوٹا، بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سنگین الزامات بغیر ثبوت کے نہیں لگائے جا سکتے۔
پٹھانیا نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے پاس منتخب نمائندوں کو رشوت دینے کی کسی کوشش کا کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ اسے فوری طور پر جموں و کشمیر پولیس، انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) یا کسی بھی مجاز تحقیقاتی ایجنسی کے حوالے کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی ثبوت موجود نہیں ہے تو وزیر اعلیٰ کو اپنا بیان واپس لیتے ہوئے عوام سے غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے، بصورت دیگر بی جے پی ان کے خلاف فوجداری ہتکِ عزت سمیت مناسب قانونی کارروائی کرے گی۔‘‘
بی جے پی رہنما نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی کسی رکن اسمبلی کو سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے لیے رقم کی پیشکش کی گئی تھی تو اس سلسلے میں اب تک کوئی شکایت یا ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی گئی۔
پٹھانیا نے یہ بھی پوچھا کہ مبینہ پیشکش کس نے کی، بی جے پی کا کون سا عہدیدار اس میں ملوث تھا، نیشنل کانفرنس کے کس رکن اسمبلی سے رابطہ کیا گیا اور یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا۔
بی جے پی لیڈرنے کہا کہ اراکین اسمبلی کو رشوت دینے جیسے الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں اور یہ براہِ راست جمہوری اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے ایسے دعوے صرف قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہی کیے جانے چاہئیں، نہ کہ سیاسی بیانات کے طور پر۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ عوام کی توجہ حکمرانی سے متعلق مسائل اور برسراقتدار اتحاد کے اندر سے اٹھنے والی تنقید سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حالیہ ڈاچی گام اجلاس میں خود حکمران جماعت کے کئی اراکین اسمبلی نے وزراء پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے تھے۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ پارٹی جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں پر مکمل یقین رکھتی ہے اور اگر وزیر اعلیٰ معافی نہیں مانگتے تو بی جے پی اپنی ساکھ کے دفاع کے لیے فوجداری ہتکِ عزت سمیت تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔
دریں اثنا، بی جے پی کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی شام لال شرما نے بھی عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو نیشنل کانفرنس کے۲۰ جولائی کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج پر تشویش ہے۔ ان کے مطابق، حکمران جماعت کو احتجاجی مظاہروں کے بجائے عوامی مسائل کے حل اور بہتر طرز حکمرانی پر توجہ دینی چاہیے۔
شرما نے دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ حکومت اپنے اہم وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور نیشنل کانفرنس اپنی حکمرانی کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام ترقی، بہتر عوامی خدمات، روزگار کے مواقع اور مؤثر انتظامیہ کی توقع رکھتے ہیں، لیکن موجودہ حکومت ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔
بی جے پی رہنما نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس کا مجوزہ احتجاج محض ایک سیاسی مشق ہے اور سوال اٹھایا کہ اقتدار میں رہتے ہوئے کسی حکمران جماعت کو احتجاج کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور حکومت کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھے گی۔










