نئی دہلی، 09 جولائی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو میلبورن میں آسٹریلیا کی گورنر جنرل سیم موسٹن اے سی سے ملاقات کی۔
وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ہندستان-آسٹریلیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بڑھتے ہوئے دائرے اور تنوع پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور اختراع کے شعبے میں بڑھتے ہوئے باہمی تعلقات سے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد حاصل ہوں گے۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کھیلوں کے تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا اور ہندستان میں منعقد ہونے والے دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں 2030 اور آسٹریلیا میں منعقد ہونے والے اولمپک 2032 کی تیاریوں کے دوران مزید تعاون کی بات کہی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان متحرک تعلقات اس رشتے کی مضبوطی کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندستان-آسٹریلیا تعلقات کو آگے بڑھانے میں گورنر جنرل موسٹن کے مسلسل تعاون کی تعریف کی۔
ہندستان اور آسٹریلیا نے توانائی کے تحفظ ، مستحکم اور قابل اعتماد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں ممالک نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے توانائی، وسائل اور دیگر اہم اشیاء کی سپلائی چین اور قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپان کے وزیر اعظم انتھونی البنیز کے درمیان جمعرات کو میلبورن میں تیسرے سربراہ اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ کھلی مارکیٹ اور ضابطہ پر مبنی تجارت کے تئیں پرعزم ہیں۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری، صلاحیت سازی اور علم کے تبادلے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ ہندستان اور آسٹریلیا نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کی مصنوعات کے بلاتعطل بہاؤ کو جاری رکھنے، توانائی کی تجارت بڑھانے اور توانائی کی ویلیو چین میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے 2015 کے ہندستان-آسٹریلیا جوہری تعاون معاہدے کے تحت پرامن مقاصد کے لیے آسٹریلوی یورینیم کے ہندستان کو برآمد کے لیے ضروری بندوبست کر لیے ہیں۔
دونوں ممالک نے توانائی کی سپلائی چین کو مضبوط کرنے، قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے، توانائی کی منتقلی میں تیزی لانے اور علاقائی تعاون بڑھانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے علاقائی شراکت داروں سے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو کھلا رکھنے میں تعاون کی اپیل کی۔








