جمعہ, اگست 21, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی شہادت کو سب سے بہترین خراجِ عقیدت‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-07
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, قومی خبریں
A A
’آرٹیکل۳۷۰ کی منسوخی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی شہادت کو سب سے بہترین خراجِ عقیدت‘
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

مرحوم لیڈر نے ہمیشہ ’انڈیا فرسٹ‘ کو مقدم رکھا‘ جموں کشمیر کا مکمل انضمام ان کا خواب تھا جس کی اسگت ۲۰۱۹ میں تکمیل ہو ئی :مودی

(ویب ڈسیک)

متعلقہ

محکمہ تعلیم کیلئے نئی ٹرانسفر پالیسی وضع

لیفٹیننٹ گورنر کا کٹھوعہ کے ’وائبرنٹ ولیج‘ کرول کرشنا کا دورہ

سرینگر؍۶ جولائی

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی، بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی’شہادت‘ کو پیش کیا جانے والا سب سے موزوں خراجِ عقیدت ہے۔

ڈاکٹر مکھرجی کی یومِ پیدائش کے موقع پر اخبارات میں شائع اپنے دستخط شدہ مضمون میں مودی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ’انڈیا فرسٹ‘ اور بھارتی اقدار کو مقدم رکھا، ادارے قائم کیے اور ایسے نظام پروان چڑھائے جو اپنے دور کی روایتی سوچ سے مختلف تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہی جذبہ اس وقت بھی نمایاں تھا جب ڈاکٹر مکھرجی نے ایسے دور میں بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد رکھی، جب کانگریس پارٹی ہر سطح پر غالب تھی۔

بھارتیہ جن سنگھ موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی پیش رو جماعت تھی۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی۶ جولائی۱۹۰۱ ء کو پیدا ہوئے تھے اور۲۳ جون۱۹۵۳  کو سری نگر میں حراست کے دوران ان کا انتقال ہوا تھا۔ وہ جموں و کشمیر کو مکمل طور پر بھارت میں ضم کرنے اور آرٹیکل۳۷۰  کو ختم کرنے کے حامی تھے۔

مودی نے کہا کہ۶جولائی ان بے شمار لوگوں کے لیے ایک خاص دن ہے جو قوم پرستی اور بے لوث خدمت کے نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اپنے مضمون میں لکھا’’ہم ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی۱۲۵ ویں یومِ پیدائش منا رہے ہیں، جن کی زندگی جرات، عزم اور مادرِ وطن کے لیے غیر متزلزل وابستگی کی لازوال مثال ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جدید ہندوستان میں بہت کم رہنما ایسے گزرے ہیں جن کی شخصیت میں علم، عوامی خدمت اور اخلاقی یقین اس قدر ہم آہنگ نظر آتا ہو۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں انہیں آرام دہ اور باوقار زندگی میسر آ سکتی تھی، کیونکہ ان کے والد سر آشوتوش مکھرجی اپنے دور کے ممتاز ماہر تعلیم اور دانشور تھے، لیکن انہوں نے آسائش کے بجائے قربانی اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔

مودی نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کا یقین تھا کہ وہ اپنے دور کے چیلنجوں، خواہ وہ استعمار ہو، فرقہ واریت یا انسانی مسائل، کے سامنے خاموش تماشائی نہیں بن سکتے۔انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی کے سفر میں ڈاکٹر مکھرجی نے ذاتی سانحات بھی برداشت کیے، جن میں ایک شیر خوار بچے اور بعد ازاں اپنی اہلیہ کی وفات شامل ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق ان سانحات نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا اور قومی خدمت کے جذبے کو تقویت بخشی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر مکھرجی کی عوامی زندگی کا کوئی سب سے نمایاں نظریہ تھا تو وہ ہندوستان کی وحدت اور ناقابل تقسیم حیثیت تھی۔

مودی نے لکھا’’انہوں نے تقسیمِ ہند کے دوران ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تاکہ مغربی بنگال بھارت کا حصہ رہے۔ چند برس بعد یہی یقین انہیں جموں و کشمیر لے آیا۔ قید انہیں خوفزدہ نہ کر سکی اور تنہائی ان کے حوصلے کو کمزور نہ کر سکی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کی زندگی حراست کے دوران اچانک اختتام پذیر ہوئی، ان لوگوں سے دور جن کی خاطر انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تاریخ میں بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کسی شخص کی آخری قربانی سیاست سے بلند ہو کر قومی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آچاریہ ونوبا بھاوے نے کہا تھا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے اس مقصد کے لیے اپنی جان قربان کی جس پر انہیں کامل یقین تھا۔

مودی نے کہا’’کئی برس بعد۲۰۱۹ میں آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍اے کی منسوخی ان کی شہادت کو پیش کیا جانے والا سب سے موزوں خراجِ عقیدت تھا‘‘۔

واضح رہے کہ۵؍ اگست۲۰۱۹ ء کو مودی حکومت نے آرٹیکل۳۷۰؍ اور۳۵؍ اے کو منسوخ کر دیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے ہمیشہ ’انڈیا فرسٹ‘اور بھارتی اقدار کو ترجیح دی اور ادارے قائم کر کے اس سوچ کو عملی جامہ پہنایا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کلکتہ یونیورسٹی کے سب سے کم عمر وائس چانسلر بنے اور اپنی منفرد قیادت کے ذریعے حب الوطنی اور مستقبل بینی پر مبنی مثبت اصلاحات متعارف کرائیں۔

مودی نے کہا کہ اساتذہ کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مکھرجی نے کہا تھا’تعلیمی اداروں کو محض کلرک یا کم تنخواہ والے ملازمین تیار کرنے والی فیکٹریاں سمجھنا غلط ہے‘۔انہوں نے ڈاکٹر مکھرجی کا یہ قول بھی نقل کیا’ہمیں ایسے طلبہ تیار کرنے چاہئیں جو بلدیاتی اداروں، صوبائی اور مرکزی مقننہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں، مثلاً مالی، تجارتی اور صنعتی میدان میں قیادت فراہم کر سکیں‘۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے کھیل، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی فلاح جیسے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے۲۴ جنوری کو کلکتہ یونیورسٹی کے یومِ تاسیس کے طور پر منانے کی روایت شروع کی تاکہ طلبہ اور سابق طلبہ میں ادارے پر فخر کا جذبہ پیدا ہو۔ انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کو بھی یونیورسٹی کے لیے نغمہ تحریر کرنے پر آمادہ کیا۔

مودی نے کہا کہ ان کی زندگی کے آخری دور میں بھی یہی جذبہ اس وقت نظر آیا جب انہوں نے بھارتیہ جن سنگھ قائم کی۔ اس وقت کانگریس ہر جگہ غالب تھی، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی ترقی اور ثقافتی جڑوں کے تحفظ کے لیے ایک متبادل سیاسی آواز ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید اسی لیے جماعت کا انتخابی نشان دیا رکھا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک چھوٹا سا دیا بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ اپنے وجود سے کہیں زیادہ اندھیرا دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور جن سنگھ نے بھی اپنے وجود کے دوران اور اس کے بعد یہی کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی کا بطور ہندوستان کے پہلے وزیر صنعت و رسد دور اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا تصورِ ترقی انتہائی جامع اور انسان دوست تھا۔

مودی نے کہا کہ انہوں نے دامودر ویلی کارپوریشن، سندھری فرٹیلائزر پلانٹ اور مضبوط صنعتی پالیسی کے ذریعے جدید صنعتی ہندوستان کی بنیاد رکھی، جبکہ دستکاری، کھادی، گھریلو صنعتوں اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔

اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سندھری پلانٹ، جسے ڈاکٹر مکھرجی نے خود انحصاری کے وژن کے تحت قائم کیا تھا، کئی دہائیوں تک نظر انداز رہا، لیکن انہیں خوشی ہے کہ ان کی حکومت کو اس کی بحالی میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔

مودی نے کہا کہ ہندوستان کی تہذیبی روایت ہمیشہ مکالمے اور تبادلہ خیال کی حامی رہی ہے، اور ڈاکٹر مکھرجی بھی اسی جمہوری روایت کے امین تھے۔ انہوں نے ابتدائی برسوں میں جواہر لال نہرو کی کابینہ میں شمولیت اختیار کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ قوم کی تعمیر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ جب انہیں محسوس ہوا کہ قومی مفاد ایک مختلف راستے کا تقاضا کرتا ہے تو انہوں نے باوقار انداز میں وزارت چھوڑ دی اور خود کو مکمل طور پر اس سیاسی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا جسے وہ ملک کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ۷۵ برس قبل نہرو حکومت نے آئین میں پہلی ترمیم لا کر آزادیِ اظہار پر حملہ کیا تھا اور ڈاکٹر مکھرجی اس کے سخت ترین ناقدین میں شامل تھے کیونکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ کانگریس کس حد تک جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا’بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ درست تھے۔ جن لوگوں نے پہلی آئینی ترمیم کی، انہی نے۱۹۷۵ ء میں ایمرجنسی نافذ کی اور۵۰ برس قبل۴۲ ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوری اقدار کو ایک بار پھر نقصان پہنچایا‘۔

مودی نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی اپنی انسان دوستی کے باعث بھی ممتاز تھے۔۱۹۴۳ ء کے بنگال کے قحط کے دوران انہوں نے متاثرین کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔آخر میں وزیر اعظم نے کہا’’جب ہندوستان’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو سب سے بہترین خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ایک مضبوط، متحد، خوداعتماد اور ہمدرد ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہر روز کوشش کریں، جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کا نوجوان اس ذمہ داری کو بخوبی نبھائے گا۔‘‘ (پی ٹی آئی)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سرما،سرما نہیں‘لیکن گرما ،گرما گرم

Next Post

اچانک آنے والے سیلاب سے ڈوڈہ،کشتواڑ شاہراہ بند

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

محکمہ تعلیم کیلئے نئی ٹرانسفر پالیسی وضع
اہم ترین

محکمہ تعلیم کیلئے نئی ٹرانسفر پالیسی وضع

2026-08-21
۸۰ویںیوم آزادی پر ایل جی سنہا کی عوام کو مبارک باد‘کہا گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے
اہم ترین

لیفٹیننٹ گورنر کا کٹھوعہ کے ’وائبرنٹ ولیج‘ کرول کرشنا کا دورہ

2026-08-21
’بی جے پی کا قانونی نوٹس ’محبت نامہ‘اور باعث اعزاز ہے ‘
اہم ترین

’پاکستان، امریکہ کے درمیان گور کے کشمیر بیان پر تنازع دونوں ملکوں کا باہمی معاملہ‘

2026-08-21
کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، کسی بیرونی مداخلت یا ثالثی کو کانگریس تسلیم نہیں کرتی:قرہ
اہم ترین

کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، کسی بیرونی مداخلت یا ثالثی کو کانگریس تسلیم نہیں کرتی:قرہ

2026-08-21
سیاحوں کا جموں و کشمیر آنے کا جوش کم نہیں ہوا:وزیر داخلہ
اہم ترین

’وندے ماترم کے بارے کانگریس کا فیصلہ خوشامد پر مبنی ‘

2026-08-21
بڑے جو و خروش کے ساتھ جموں،سرینگر براہِ راست وندے بھارت ایکسپریس کا باقاعدہ آغاز
اہم ترین

جموں، ادھم پور کے راستے سرینگر  کیلئے تیسری وندے بھارت ٹرین چلائی جائے گی:مرکز

2026-08-21
جموں کے سامبا میں بین الاقوامی   سرحد پر پاکستانی درانداز گرفتار
اہم ترین

کٹھوعہ میں مشتبہ نقل و  حرکت کے بعد تلاشی آپریشن ایجنسیاں

2026-08-21
آزاد اور کھلے ہند- بحرالکاہل کے لیے دفاعی تعاون بڑھائیں گے ہند-جاپان، بحری سلامتی معاہدے پر دستخط
قومی خبریں

آزاد اور کھلے ہند- بحرالکاہل کے لیے دفاعی تعاون بڑھائیں گے ہند-جاپان، بحری سلامتی معاہدے پر دستخط

2026-08-21
Next Post
اچانک آنے والے سیلاب سے ڈوڈہ،کشتواڑ شاہراہ بند

اچانک آنے والے سیلاب سے ڈوڈہ،کشتواڑ شاہراہ بند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.