سرینگر/ ۲۰ ؍اگست
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق امریکی سفیر سرجیو گور کے ریمارکس پر پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا جانا پاکستان اور امریکہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔
عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔ نہ آپ اس بارے میں کچھ کر سکتے ہیں اور نہ میں کچھ کر سکتا ہوں۔ امریکی سفیر نے جو کہا، وہ کہا۔ اب یہ دونوں ملکوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔‘‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے لیے خصوصی ایلچی بھی سرجیو گور نے بدھ کو اپنے جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر ’’بھارت کا ایک اہم حصہ ہے‘‘۔ انہوں نے جموں و کشمیر اور لداخ کے دو روزہ دورے کے پہلے دن سری نگر میں عمر عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔
اس کے بعد پاکستان نے امریکی سفیر کے ان ریمارکس پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور ایک ’’سخت احتجاج‘‘ درج کرایا۔ پاکستان نے گور کے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بیان کو ’’حقائق کے منافی ریمارکس‘‘ قرار دیا۔
گور نے بدھ کو عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ (کشمیر) بھارت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں یہاں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ میں یہاں آکر اور اس مقام کو دیکھ کر بے حد خوش ہوں۔ ابھی ہماری ایک بہت اچھی ملاقات ہوئی۔ ہمارے درمیان کچھ امور پر مزید پیش رفت ہونی ہے، اس لیے ہم واشنگٹن اور دہلی کو آگاہ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی پُرتپاک اور خوشگوار ملاقات تھی اور ہم اس تعلق کو مزید آگے بڑھانے کے منتظر ہیں۔‘‘
جب عمر عبداللہ سے کانگریس کی جانب سے اس سوال کے بارے میں پوچھا گیا کہ بھارت کو امریکہ سے یہ سننے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ جموں و کشمیر ملک کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں، تو انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی رائے رکھنے کی حقدار ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں اس معاملے میں نہیں پڑ رہا۔ کانگریس کا ایک نقطۂ نظر ہے۔ وہ ایک سیاسی جماعت ہے اور ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔ ان کی ایک رائے ہے اور وہ اس کے اظہار کی حقدار ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’میں اس معاملے پر لفظی جنگ میں الجھنے والا نہیں ہوں۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










