چنئی/ ۲۰ ؍اگست
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کو کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے قومی گیت ’وندے ماترم‘ کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ نہ صرف ملک دشمن ہے بلکہ قانون کی کھلی خلاف ورزی اور ’ووٹ بینک‘ کو نظر میں رکھتے ہوئے خوشامد کی سیاست کا مظہر بھی ہے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ قومی گیت کو مکمل طور پر گانے کے بجائے صرف دو بند ہی گائے جائیں گے، شاہ نے تقسیم ہند کی تاریخ کا ذکر کیا اور کہا کہ وندے ماترم کو مختصر کیے جانے کے بعد ملک کو اس کے نتائج بھگتنا پڑے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں الزام عائد کیا، ’’۱۹۳۷ میں خوشامد کی خاطر کانگریس نے ہی وندے ماترم کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔‘‘
شاہ نے کہا، ’’وہیں سے دو قومی نظریے کو تقویت ملی، جس کے نتیجے میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ وندے ماترم کی ۱۵۰ویں سالگرہ کے موقع پر مودی حکومت نے اس تاریخی غلطی کی اصلاح کی اور مکمل گیت کو قانونی حیثیت دی۔ لیکن راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس ایک بار پھر اپنے ووٹ بینک کی خاطر خوشامد کی راہ پر گامزن ہے۔‘‘
وفاقی وزیر داخلہ نے الزام لگایا کہ وندے ماترم کو تقسیم کرنے کی غلطی ایک مرتبہ پہلے بھی ہو چکی ہے اور قوم اس کے نتائج پہلے ہی بھگت چکی ہے۔
شاہ نے کہا، ’’یہ ملک کے باشندوں سے اپیل ہے کہ وہ متحد ہوں اور کانگریس کی اس خوشامد کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔‘‘
کانگریس ورکنگ کمیٹی نے بدھ کو فیصلہ کیا تھا کہ وندے ماترم کے حوالے سے ۱۹۳۷ میں پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد پر عمل کیا جائے گا اور آئندہ پارٹی کی تمام تقریبات میں قومی گیت کے صرف دو بند ہی گائے جائیں گے۔
بی جے پی کے صدر نتن نابین نے بھی کانگریس کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹی ووٹوں کی خاطر ’’نئی مسلم لیگ‘‘ بن گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










