جموں/ ۲۰ ؍اگست
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج کٹھوعہ ضلع کے سرحدی گاؤں کرول کرشنا کا دورہ کیا۔ یہ گاؤں رٹھوا، گجر چک، گجنال، بوبیا اور کڈیالہ کے ساتھ وائبرنٹ ولیج پروگرام کے دوسرے مرحلے میں شامل ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے مقامی خاندانوں میں مختلف سرکاری اسکیموں کے فوائد اور نوجوانوں کو تقرری نامے بھی تقسیم کیے۔
وائبرنٹ ولیج پروگرام کے دوسرے مرحلے میں شامل چھ سرحدی دیہات کے باشندوں سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سرحدی گاؤں بھارت کے آخری گاؤں نہیں بلکہ ملک کے پہلے گاؤں اور قومی شناخت و ترقی کی اگلی صف ہیں۔
سنہا نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ’سرحد‘ کا لفظ دوری اور پسماندگی کا احساس لیے ہوئے تھا اور یہ گاؤں حکمرانی کی ترجیحات سے دور رہے۔ تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرحدی دیہات کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب بھارت کی ترقی کی داستان لکھی جائے گی تو اس کا پہلا باب کرول کرشنا، رٹھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالہ اور گجر چک جیسے گاؤں سے شروع ہونا چاہیے، جہاں بھارت کی سرحد سانس لیتی ہے اور ترنگا لہراتا ہے۔‘‘
۲۰۱۹ کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کٹھوعہ ضلع کے تمام ۲۱۶ سرحدی گاؤں اب سڑکوں سے منسلک ہیں اور وہاں مکمل بجلی کاری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی مواصلات اور ٹیلی ویژن کی سہولیات، جو پہلے محدود تھیں، اب ہر گھر تک پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یہ اعداد و شمار اور رپورٹیں محض اعداد نہیں بلکہ آپ کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، شہروں کی جانب ہجرت نصف رہ گئی ہے جبکہ دیہی آمدنی میں ۳۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ سرحدی خاندانوں کی حفاظت کے لیے ۲ ہزار سے زائد انفرادی اور اجتماعی بنکر تعمیر کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمارا ہدف ہونا چاہیے کہ پوری آبادی خطِ غربت سے اوپر آجائے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی معیشتوں کو تبدیل کرنے میں خواتین کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن کے تحت ۱۳۰۰ سے زائد خود مدد گروپ قائم کیے گئے ہیں، جن سے ۱۲ ہزار سے زائد خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔
خواتین سلائی، کڑھائی، دستکاری اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہیں، جس سے گھریلو آمدنی کے ساتھ ساتھ گاؤں کی معیشت بھی مضبوط ہو رہی ہے۔انہوں نے سرحدی دیہات کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ بڑے شہروں کے نوجوانوں کی طرح بڑے خواب دیکھیں۔ ان کے مطابق سرکاری اسکولوں میں سہولیات بہتر ہوئی ہیں، ڈیجیٹل کلاس رومز اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے اور تعلیمی سیشن بھی مکمل طور پر جاری ہیں۔
سنہا نے کہا، ’’یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ نسل در نسل آنے والی تبدیلی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی دیہات کی ترقی کے لیے چار اہم ترجیحات کا ذکر کیا۔ پہلی ترجیح خود کفالت ہے، جس کے تحت دیہات کو صرف سڑکوں سے نہیں بلکہ منڈیوں سے بھی جوڑنے، باغبانی کو فروغ دینے اور ڈیری کوآپریٹیو قائم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
دوسری ترجیح نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے، جس کے لیے زراعت، سیاحت، دفاعی معاون خدمات اور دستکاری کے شعبوں میں مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
تیسری ترجیح صحت کی سہولیات میں بہتری ہے، جس کے تحت طبی خدمات اور ٹیلی میڈیسن رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ چوتھی ترجیح مضبوط سکیورٹی بنیادی ڈھانچہ ہے، جس کے لیے سول انتظامیہ اور مسلح افواج کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ایل جی نے کہا، ’’ترقی اور سلامتی الگ الگ اہداف نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو ستون ہیں۔ صرف ایک محفوظ گاؤں ہی خوشحال گاؤں بن سکتا ہے اور صرف خوشحال گاؤں ہی خود کفیل اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کرول کرشنا اور آس پاس کے دیہات کے نوجوانوں اور خاندانوں سے اپنے مستقبل کی تشکیل کی ذمہ داری سنبھالنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا، ’’کرول کرشنا، رٹھوا، گجنال، بوبیا، کڈیالہ اور گجر چک کے نوجوانوں سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک آپ کے آباؤ اجداد نے مشکلات کے باوجود اس سرزمین کو سنبھالے رکھا۔ اب اسے آگے لے جانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ آج وسائل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہیں اور جہاں بھی کوئی کمی ہوگی، اسے فوری طور پر دور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’آج بڑا سوال یہ ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنے گاؤں کو کہاں تک لے جائیں گے؟ کیا کرول کرشنا صرف ایک سرحدی گاؤں کے طور پر جانا جائے گا یا ایسے سرحدی گاؤں کے طور پر جس کے نوجوان ملک کے بہترین نوجوانوں میں شمار ہوں گے؟ یہ فیصلہ اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے سرحدی دیہات کے تمام خاندانوں کو یقین دلایا کہ ترقی کی روشنی ہر گھر تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’وائبرنٹ ولیج پروگرام ایک قومی عزم ہے اور اب ہم سرحدی دیہات کو پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔ آپ بھارت کا ’پہلا نام‘ ہیں۔ آپ ملک کا حاشیہ نہیں بلکہ اگلی صف ہیں۔ آپ وہ مقام ہیں جہاں سے بھارت نظر آتا ہے۔ جب تک سرحد پر ہمارا سپاہی کھڑا ہے اور اس کے پیچھے سرحدی گاؤں مضبوطی سے کھڑے ہیں، بھارت مضبوط ہے، ناقابل تسخیر ہے اور لازوال ہے۔‘‘
مقامی لوگوں کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کٹھوعہ کے باشندوں کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے فوری کارروائی کی جائے گی۔
بعد ازاں کرول کرشنا بارڈر آؤٹ پوسٹ پر لیفٹیننٹ گورنر نے بی ایس ایف جوانوں سے ملاقات کی اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ان کی ثابت قدم خدمات کو سراہا۔ انہوں نے آپریشن سندور کے دوران ان کی غیر معمولی خدمات کی بھی تعریف کی اور دشمن کی کسی بھی جارحانہ کوشش کو ناکام بنانے اور اسے بے اثر کرنے کے لیے مسلسل چوکسی کی ضرورت پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ڈی آئی پی آر )










