سائنسی تحقیق اور عالمی تجربات اس کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں‘پھیلائے جا رہے مغالطوں میں کوئی حقیقت نہیں :مرکز
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۴جولائی
مرکزی حکومت نے ای۲۰ ایتھنول ملاوٹ پروگرام کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گمراہ کن معلومات کی تردید کرتے ہوئے۱۰ نکاتی وضاحت جاری کی ہے۔
حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ ای۲۰ پٹرول کی تیاری میں بے تحاشا پانی استعمال ہوتا ہے، اس سے گاڑیوں کے انجن خراب ہوتے ہیں، انشورنس ختم ہو جاتی ہے اور ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔
وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس نے کہا کہ ای۲۰ پروگرام، جس کے تحت پٹرول میں۲۰ فیصد تک ایتھنول شامل کیا جاتا ہے، سائنسی مطالعات، بین الاقوامی تجربات اور تمام ضروری ضابطہ جاتی حفاظتی اقدامات کی بنیاد پر نافذ کیا گیا ہے۔
وزارت نے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ ایک لیٹر ایتھنول تیار کرنے کے لیے۱۰ ہزار لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ وزارت کے مطابق ایتھنول کی تیاری کے لیے صرف وہ اضافی چاول استعمال کیے جاتے ہیں جو قومی غذائی تحفظ کی ضروریات پوری ہونے کے بعد بچ جاتے ہیں۔
وزارت نے بتایا کہ ایتھنول ڈسٹلریاں ایک لیٹر ایتھنول کی تیاری میں تقریباً۳ سے۵ لیٹر صاف شدہ پانی استعمال کرتی ہیں اور اب زیادہ تر پلانٹس زیرو لیکوئیڈ ڈسچارج نظام کے تحت پانی کو دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ اس وقت ایتھنول کی مجموعی سپلائی کا۴۰ فیصد سے زیادہ حصہ مکئی سے حاصل کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دھان کے مقابلے میں کہیں کم آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں اضافہ کرکے مکئی کی کاشت کو بھی فروغ دیا ہے۔
ای۲۰ پٹرول کو غیر آزمودہ ایندھن قرار دینے والے دعووں کو بھی حکومت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایتھنول ملاوٹ شدہ ایندھن کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، برازیل، کینیڈا، تھائی لینڈ، جاپان اور کئی یورپی ممالک مختلف تناسب سے ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول استعمال کر رہے ہیں۔
گاڑیوں کی کارکردگی سے متعلق خدشات پر وزارت نے کہا کہ آٹوموٹیو ریسرچ ایسوسی ایشن آف انڈیا (اے آر اے آئی) کی نگرانی میں مسافر گاڑیوں پر تقریباً۴۰ ہزار کلومیٹر اور دو پہیہ گاڑیوں پر۲۰ ہزار کلومیٹر کے آزمائشی تجربات کیے گئے، جن میں گاڑیوں کی کارکردگی یا فیول ایفیشنسی پر کوئی نمایاں منفی اثر سامنے نہیں آیا، صرف مائلیج میں معمولی فرق دیکھا گیا۔
وزارت کے مطابق ای۲۰ کے لیے تیار کی گئی گاڑیاں ایتھنول کی زیادہ آکٹین ریٹنگ کی وجہ سے بہتر کارکردگی بھی دکھا سکتی ہیں۔
ای۲۰ پٹرول سے انجن یا اس کے پرزوں کو نقصان پہنچنے کے الزامات پر وزارت نے کہا کہ اے آر اے آئی، انڈین آئل کارپوریشن، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرولیم اور سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز کی مشترکہ تحقیق میں انجن یا دھاتی و پلاسٹک کے پرزوں کی مطابقت سے متعلق کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ البتہ پرانی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے بعض ربڑ کے پرزوں کو نسبتاً جلد تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
حکومت نے یہ دعویٰ بھی مسترد کر دیا کہ ای۲۰ پٹرول استعمال کرنے سے گاڑی کی وارنٹی یا انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔ وزارت کے مطابق گاڑی ساز کمپنیوں اور انشورنس اداروں نے واضح کیا ہے کہ ای۲۰ کے لیے منظور شدہ گاڑیاں اپنی وارنٹی اور انشورنس تحفظ سے بدستور مستفید رہیں گی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ان دعوؤں کی بھی تردید کی گئی جن میں کہا گیا تھا کہ ای۲۰ پٹرول میں شکر موجود ہونے کے باعث چیونٹیاں اور شہد کی مکھیاں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ وزارت نے کہا کہ فیول گریڈ ایتھنول کی کشید کے دوران تمام شکریلے اجزا ختم کر دیے جاتے ہیں اور اس میں ایسے کیمیائی مادے شامل کیے جاتے ہیں جو کیڑوں کو دور رکھتے ہیں، جبکہ پٹرول کی بو اس پر غالب رہتی ہے۔
حکومت نے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا کہ اس نے سپریم کورٹ میں ای۲۰ پروگرام کو محض ایک ’تجربہ‘ قرار دیا تھا۔ وزارت کے مطابق عدالت میں معاملہ صرف ایتھنول کی خریداری سے متعلق معاہدوں کے حوالے سے تھا، نہ کہ ای۲۰ پروگرام کی افادیت سے متعلق۔ اٹارنی جنرل کے دفتر نے بھی ایسی میڈیا رپورٹس کو غلط قرار دیا ہے۔
وزارت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ ای۲۰ پٹرول گاڑی کے فیول ٹینک میں پانی داخل ہونے دیتا ہے۔ اس کے مطابق جدید گاڑیوں اور پٹرول پمپوں میں ایسے تمام حفاظتی انتظامات موجود ہیں جو پانی کے داخلے کو روکتے ہیں۔
اسی طرح سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان ویڈیوز کو بھی من گھڑت قرار دیا گیا جن میں گنے کا رس پٹرول میں ملاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ فیول گریڈ ایتھنول صنعتی عمل کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے اور مقررہ معیار کے مطابق پٹرول میں شامل کیا جاتا ہے۔
ماحولیاتی خدشات پر وزارت نے کہا کہ ایتھنول پلانٹس کے لیے ماحولیاتی منظوری لازمی ہے، زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق ضابطوں کی پابندی کی جاتی ہے اور تمام پلانٹس کو زیرو لیکوئیڈ ڈسچارج نظام کے تحت چلانا ضروری ہے۔
وزارت کے مطابق ای۲۰ پروگرام کے نتیجے میں اب تک۱ء۹ لاکھ کروڑ روپے سے زائد زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے، کسانوں کو۱ء۶ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ادائیگی کی جا چکی ہے، تقریباً۹۳۰ لاکھ میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی ہے اور۲۰۱۴۔۱۵ سے اب تک۳۱۰ لاکھ میٹرک ٹن خام تیل کی درآمد کی ضرورت کم ہوئی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ بھارت نے دسمبر۲۰۲۵ میں پٹرول میں۲۰ فیصد ایتھنول ملاوٹ کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر لیا، جبکہ۲۰۱۳۔۱۴ میں یہ شرح صرف۱ء۵ فیصد تھی۔
وزارت کے مطابق ملک میں ایتھنول پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت اب تقریباً۲ ہزار کروڑ لیٹر تک پہنچ چکی ہے اور۲۰۲۵۔۲۶ کے ایتھنول سپلائی سال کے دوران۱۲۰۰ کروڑ لیٹر سے زیادہ ایتھنول کی خریداری کا اندازہ ہے۔
۔۔۔۔










