نوجوانوں کی بھرتی، دراندازی، دہشت گردی کی مالی معاونت، اسلحہ اسمگلنگ اور دہشت گرد حملوں میں معاونت کے الزامات
(ویب ڈیسک)
سری نگر؍۴ جولائی
مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (یو اے پی اے) کے تحت پاکستان میں مقیم دہشت گرد تنظیموں جیش محمد (جے ای ایم) اور لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے وابستہ۲۳؍ افراد کو انفرادی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ وزارت کے مطابق ان افراد کا جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں براہ راست کردار رہا ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے جاری تین الگ الگ نوٹیفکیشنز کے مطابق ان نامزد افراد پر نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی، سرحد پار دراندازی، دہشت گردی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے، اسلحہ اسمگلنگ اور بھارت میں دہشت گرد حملوں کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کرنے جیسے متعدد ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
نامزد کیے گئے۲۳؍ افراد میں سے۱۱ کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے جبکہ باقی پاکستانی شہری ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سات افراد اس وقت پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں جبکہ چار افراد پاکستان میں مقیم ہیں۔
پی او کے میں مقیم جموں و کشمیر کے سات باشندوں کی شناخت مسعود الیاس کشمیری (راؤلاکوٹ)، مفتی محمد اصغر خان (عباس پور)، حافظ عبدالشکور (کوٹلی)، عبداللہ جہادی (کنڈل شاہی، نیلم)، غلام فرید (باڈنگ، بھمبر)، سوپور کے بلال احمد میر (مظفرآباد) اور بارہمولہ کے عابد قیوم لون (پی او کے) کے طور پر کی گئی ہے۔
پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے چار باشندوں میں اننت ناگ کے ہارون رشید گنائی، ڈوڈہ کے نذیر احمد گوجر، پلوامہ کے اویس فاروق میر اور محمد شہید فیصل شامل ہیں، جن کا تعلق اصل میں بنگلورو سے بتایا گیا ہے لیکن وہ اس وقت راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
ان نئے ناموں کے شامل ہونے کے بعد یو اے پی اے کے تحت انفرادی دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کی مجموعی تعداد۸۰ ہو گئی ہے۔ افراد کو انفرادی دہشت گرد قرار دینے کی قانونی شق اگست۲۰۱۹ میں قانون میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی تھی۔ اس سے قبل صرف تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا تھا۔
نامزد کیے گئے افراد میں جیش محمد کے تین سینئر عہدیدار بھی شامل ہیں جن پر جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں سے براہ راست تعلق رکھنے کا الزام ہے۔
پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں مقیم جیش محمد کے سینئر کارندے مسعود الیاس کشمیری پر دہشت گردوں کی بھرتی، تربیت اور جموں و کشمیر میں دراندازی کرانے کا الزام ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق وہ۲۲؍ اپریل۲۰۲۲کو جموں کے سنجواں میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں بھی ملوث رہا ہے۔
جیش محمد کے ایک اور رہنما محمد مصدق عرف ڈاکٹر کو پاکستان سے دہشت گردوں کی بھارت میں دراندازی کرانے والا اہم ہینڈلر قرار دیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق اس نے مبینہ طور پر ڈرون کے ذریعے سرحد پار اسلحہ اور گولہ بارود پہنچانے، جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے اور بھرتی کرنے کے لیے جیش محمد کا سائبر نیٹ ورک چلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسے بھی۲۰۲۲ کے سنجواں حملے سے جوڑا گیا ہے۔
وزارت نے مفتی محمد اصغر خان عرف ابو سعد کو بھی انفرادی دہشت گرد قرار دیا ہے اور انہیں جموں و کشمیر میں سرگرم جیش محمد کے دہشت گردوں کا لانچنگ کمانڈر بتایا ہے۔ ان پر نومبر۲۰۱۶میں جموں کے ناگروٹہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر حملے کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے۔
فہرست میں لشکر طیبہ کے کئی سینئر رہنما اور تنظیم کے بانی حافظ سعید کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں، جن میں عبدالرؤف، حافظ خالد ولید اور رانا افتخار شامل ہیں۔ ان پر دہشت گرد سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، دہشت گردوں کی بھرتی اور نوجوانوں کو عسکریت پسند تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے کے الزامات ہیں۔
یو اے پی اے کے تحت ان افراد کو دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) سمیت دیگر سیکورٹی اداروں کو ان کے اثاثے منجمد کرنے، مالی لین دین پر پابندیاں عائد کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی مزید مؤثر بنانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرنا اور پاکستان میں بیٹھے ان اہم ہینڈلرز کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو بالخصوص جموں و کشمیر میں تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سرپرستی کرتے رہے ہیں۔










