تمام دن پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی‘عمرکا فیصلے کا خیرمقدم
ویب ڈیسک
سری نگر؍۴جولائی
سری نگر ہوائی اڈے نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ پیر اور منگل کو رن وے کی مکمل بندش سے متعلق مجوزہ نوٹس ٹو ایئر مین واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اب ہوائی اڈے پر تمام دن فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری رہیں گے اور آپریشنل/واچ اوقات صبح۸ بجے سے شام۵بجے تک برقرار رہیں گے۔ تاہم رن وے کی رات کے وقت مرمت کے لیے بندش اکتوبر۲۰۲۶تک جاری رہے گی۔
ہوائی اڈے کے ایک سرکاری ترجمان نے کہا’’مسافروں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس سال سری نگر ہوائی اڈے پر ایئر فیلڈ کی مکمل بندش نہیں ہوگی‘‘۔
ترجمان نے مزید کہا’’پیر اور منگل کو رن وے کی مکمل بندش سے متعلق پہلے جاری کیے جانے والے مجوزہ نوٹم کو واپس لے لیا گیا ہے۔ فضائی کمپنیاں موجودہ آپریشنل اوقات کے مطابق اپنے پروازی شیڈول میں تبدیلیاں کرتی رہیں گی‘‘۔
ترجمان نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے قبل اپنی متعلقہ ایئر لائن سے پرواز کی تازہ صورتحال معلوم کر لیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔
ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کی مکمل بندش سے متعلق مجوزہ نوٹم واپس لینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بڑی راحت قرار دیا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’پیر اور منگل کی بندش کا فیصلہ ہمیں بہت زیادہ متاثر کر رہا تھا۔ صرف کل ہی میری سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد سے بات ہوئی تھی اور متعدد سیاحتی گروپوں نے اپنے دورے منسوخ کرنا شروع کر دیے تھے‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو مسلسل مرکزی حکومت کے سامنے اٹھاتے رہے اور ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔انہوں نے کہا’’جب سے یہ خبر سامنے آئی، میں مسلسل کوششیں کر رہا تھا۔ میں نے مرکزی حکومت میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو سے بات کی، حتیٰ کہ جب میری وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات ہوئی تو میں نے یہ معاملہ ان کے سامنے بھی اٹھایا۔ اگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فی الحال پیر اور منگل کو معمول کے مطابق پروازیں جاری رہیں گی تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی راحت ہے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر اکتوبر میں مرمت کی غرض سے ہوائی اڈہ بند کرنا ناگزیر ہو تو اونتی پورہ ایئر فورس بیس سے متبادل پروازوں کا انتظام کیا جانا چاہیے۔بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں عمر عبداللہ نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا}}وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ صاحب اور شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری درخواست قبول کرتے ہوئے ہوائی اڈے کی بندش کے حکم کو معطل کر دیا۔ اس بندش سے عام مسافروں کو شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں اور سیاحتی گروپ اپنے مجوزہ دورے منسوخ کرنے پر مجبور ہو رہے تھے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کی اس اپیل کا بھی خیرمقدم کیا جس میں انہوں نے امرناتھ یاتریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے سفری بجٹ کا کم از کم۱۰فیصد مقامی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کریں۔انہوں نے کہا’’یہ بہت اچھی بات ہے۔ اگر یاتری ایسا کریں گے تو اس سے ہمیں فائدہ ہوگا‘‘۔تاہم انہوں نے کہا کہ یاتریوں کو صرف یاترا تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ انہیں دیگر مقامات کی سیر کی بھی اجازت دی جانی چاہیے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’انہیں گاڑیوں سے باہر نکلنے اور کچھ وقت ادھر اُدھر گھومنے کی اجازت دی جانی چاہیے، ورنہ وہ اپنا دس فیصد بجٹ کہاں خرچ کریں گے؟ انہیں تو قیدیوں کی طرح گاڑیوں میں محدود رکھا گیا ہے۔ انہیں نہ دائیں جانے کی اجازت ہے اور نہ بائیں۔ اگر انہیں تھوڑی آزادی دی جائے تو وہ یہاں خریداری بھی کریں گے جس سے ہمارے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا‘‘۔
امرناتھ یاترا کے حوالے سے اظہارِ امید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں عقیدت مند یاترا میں شریک ہوں گے اور انہوں نے یاتریوں سے جموں و کشمیر میں امن اور بھائی چارے کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا’’ہم امید کرتے ہیں کہ یاتری بڑی تعداد میں آئیں، بخوبی درشن کریں اور خیریت سے واپس لوٹیں۔ منتخب حکومت کی جانب سے جو انتظامات ممکن تھے وہ ہم نے کیے ہیں، جبکہ سکیورٹی، امن و قانون اور شری امرناتھ شرائن بورڈ سے متعلق باقی انتظامات متعلقہ ادارے انجام دے رہے ہیں۔ ہم صرف اتنی درخواست کرتے ہیں کہ جب وہ یہاں آئیں اور عبادت کریں تو جموں و کشمیر، خصوصاً یہاں امن اور بھائی چارے کے لیے بھی دعا کریں‘‘۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب حکومت کی جانب سے کشمیری گوشت تاجروں پر عائد ’منڈی ٹیکس‘ واپس لینے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا۔انہوں نے کہا’’ہمارے لوگوں پر منڈی ٹیکس عائد کرنا سراسر ناانصافی تھی۔ بہرحال اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے تو یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ ہم اس معاملے پر مسلسل پنجاب حکومت کے ساتھ رابطے میں تھے۔‘‘










