پاکستان کی دھمکیوں یا جارحانہ بیانات سے اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی‘ترجمان وزارت خارجہ کا بیان
’ معاہدہ پاکستان کی مسلسل دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث معطل ہے‘سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ترک کرے‘
ویب ڈیسک
سرینگر/۳جولائی
بھارت نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو معطل رکھنے کے اپنے فیصلے پر وہ بدستور قائم ہے اور پاکستان کی دھمکیوں یا جارحانہ بیانات سے اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
بھارت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت مکمل اور قابلِ اعتماد انداز میں ترک نہیں کرتا، اس وقت تک معاہدہ معطل ہی رہے گا۔
بھارت نے اپریل۲۰۲۵ میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گرد حملے، جس میں۲۶ سیاح ہلاک ہوئے تھے، کے بعد سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا’’سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بھارت کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ پاکستان کی مسلسل سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کے جواب میں یہ معاہدہ معطل رکھا گیا ہے۔ پاکستان کو ناقابلِ واپسی اور قابلِ اعتماد انداز میں دہشت گردی کی حمایت ترک کرنا ہوگی‘‘۔
بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بین الاقوامی دریاؤں کی تقسیم کے نظام کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے، تاہم نئی دہلی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کی پالیسی ہے۔
دفاعی و تزویراتی ماہرین کے مطابق پاکستان خود اپنی پالیسیوں کے باعث اس معاملے میں مشکل صورتحال سے دوچار ہے، لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی ہفتے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے نزدیک یہ معاہدہ بدستور مؤثر، قانونی اور قابلِ عمل ہے۔
اسی تقریب میں سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں’جوہری آپشن‘کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر معاہدہ بحال کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو پاکستان کو جوہری آپشن پر بھی غور کرنا چاہیے۔ تاہم دفاعی ماہرین نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
بھارت گزشتہ برس بھی واضح کر چکا ہے کہ جب تک معاہدہ معطل رہے گا، وہ اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند نہیں ہوگا۔ وزارتِ خارجہ نے جون۲۰۲۵ میں کہا تھا کہ کسی بھی ثالثی عدالت، خصوصاً ایسی عدالت جس کے قیام کو بھارت غیر قانونی قرار دیتا ہے، کو بھارت کے خودمختار فیصلوں کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل نہیں۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ۱۹۶۰ میں عالمی بینک کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا نظام وضع کیا گیا تھا۔
ادھر بھارت نے کہا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی گمراہ کن مہم کو بخوبی سمجھتی ہے۔ اسی تناظر میں جاپان اور بھارت نے حال ہی میں ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان سے جنم لینے والی سرحد پار دہشت گردی کی سخت مذمت کی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور مالی معاونت کے نیٹ ورک کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ مشترکہ بیان وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپانی ہم منصب کے درمیان دو طرفہ مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا۔
دریں اثنا، وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گناہ شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔









