سرینگر؍۳جولائی
سالانہ شری امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز جمعہ کی صبح ہوگیا، جب عقیدت مندوں کے پہلے قافلے بالتال اور ننون (پہلگام) کے دونوں بنیادی کیمپوں سے سطح سمندر سے تقریباً۳۸۸۰میٹر بلند واقع مقدس غار کی جانب روانہ ہوئے، جہاں قدرتی طور پر برف سے بننے والا شیو لنگم موجود ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یاترا کا آغاز علی الصبح دونوں راستوں سے کیا گیا۔ ان میں روایتی۴۸کلومیٹر طویل ننون-پہلگام راستہ اور۱۴کلومیٹر طویل بالتال راستہ شامل ہیں۔ اس دوران وقفے وقفے سے بارش بھی ہوتی رہی۔
حکام نے بتایا کہ مرد و خواتین یاتریوں اور سادھوؤں پر مشتمل قافلے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ننون بیس کیمپ اور وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے سونہ مرگ علاقے میں قائم بالتال بیس کیمپ سے صبح سویرے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔
اس موقع پر ’بم بم بولے‘ کے فلک شگاف نعروں سے پورا ماحول گونج اٹھا، جبکہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پیز) نے قافلوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
جمعرات کو جموں کے بھگوتی نگر یاترا بیس کیمپ سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے۴۸۰۹سے زائد یاتریوں پر مشتمل پہلے قافلے کو روانہ کیا تھا۔یاتری جمعرات کی سہ پہر کشمیر پہنچے، جہاں ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
یاتری مقدس غار میں قدرتی طور پر تشکیل پانے والے برفانی شیو لنگم کے درشن کریں گے۔یاترا کے پُرامن اور محفوظ انعقاد کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور دیگر نیم فوجی دستوں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فضائی نگرانی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔










