اب تک پونے چار لاکھ یاتریوں کی رجسٹریشن‘ جموں،سرینگر شاہراہ پر سیکورٹی اور لاجسٹک انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈرائی رن
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۹ جون
شری امرناتھ یاترا کی رسمی شروعات کے سلسلے میں پیر کے روز جموں اور مقدس امرناتھ غار میں ’پرتھم پوجا‘ ادا کی گئی۔ اس موقع پر جموں شہر میں دریائے توی کے کنارے پہلی مرتبہ ’مہا یگیہ‘کا بھی انعقاد کیا گیا۔
سالانہ۵۷ روزہ شری امرناتھ یاترا؍۳ جولائی سے شروع ہوگی، جو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع۴۸ کلومیٹر طویل روایتی پہلگام راستے اور وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں واقع۱۴ کلومیٹر طویل مگر دشوار گزار بالتل راستے سے انجام دی جائے گی۔
یاتریوں کا پہلا قافلہ۲ جولائی کو جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے روانہ کیا جائے گا، جبکہ یاترا کا اختتا۲۸ اگست کو رکھشا بندھن کے موقع پر ہوگا۔
مقدس امرناتھ غار میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے روایتی ’’پرتھم پوجا‘‘ ادا کی، بابا برفانی کا آشیرواد حاصل کیا اور ملک میں امن، خوشحالی، صحت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ، شری امرناتھ جی شرائن بورڈ، فوج، پولیس، سیکورٹی فورسز، مقامی برادری، خدمت فراہم کرنے والے ادارے اور رضاکار مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ عقیدت مندوں کو محفوظ، سہل اور یادگار یاترا فراہم کی جا سکے۔
سنہا نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری، بہتر سہولیات اور عوام کے بھرپور تعاون کی بدولت انتظامیہ روحانی سفر پر آنے والے تمام یاتریوں کے استقبال کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
شری امرناتھ جی شرائن بورڈ ہر سال جیٹھ پورنیما کے موقع پر مقدس غار میں ’’پرتھم پوجا‘‘ کا اہتمام کرتا ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، اسپیشل ڈی جی (کوارڈینیشن) ایس جے ایم گیلانی، شرائن بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مندیپ بھنڈاری اور کشمیر کے ڈویژنل کمشنر انشول گرگ بھی لیفٹیننٹ گورنر کے ہمراہ موجود تھے۔
دریں اثنا جموں میں نو تعمیر شدہ توی ریور فرنٹ پر منعقدہ ’’مہا یگیہ‘‘ میں متعدد سادھوؤں، مذہبی تنظیموں کے سربراہان، سول و پولیس انتظامیہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ ویدک منتروں کی گونج کے درمیان مقدس آگ میں آہوتیاں پیش کی گئیں۔
انتظامیہ نے یاتریوں کی رجسٹریشن اور سہولت مراکز کو ریلوے اسٹیشن کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے سے منتقل کرکے توی ریور فرنٹ پر قائم کر دیا ہے، جہاں رجسٹریشن کاؤنٹر، لنگر اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
جموں کے رام مندر کے مہنت رامیشور داس نے کہا کہ شہر میں پہلی مرتبہ ’’پرتھم پوجا‘‘ کا انعقاد یاترا کے آغاز کا ایک اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔انہوں نے کہا، ’’ملک بھر کے لوگ اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ توی ریور فرنٹ ایک وسیع مقام ہے جہاں لاکھوں یاتری جمع ہو سکتے ہیں۔ اب رجسٹریشن بھی تمام ضروری سہولیات کے ساتھ یہیں انجام دی جائے گی۔‘‘
گزشتہ برسوں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے بہت سے یاتری ریلوے اسٹیشن کے قریب ناکافی رہائش کے باعث مشکلات کا سامنا کرتے تھے اور بعض کو فٹ پاتھوں پر رات گزارنی پڑتی تھی۔
ان کے مطابق اب انتظامات پہلے سے کہیں بہتر ہیں اور مستقبل میں مزید بہتر بنائے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال بابا برفانی کے درشن کے لیے آنے والے یاتریوں کی تعداد گزشتہ تمام برسوں سے زیادہ ہوگی۔
وشو ہندو پریشد کے جموں، کشمیر اور لداخ یونٹ کے صدر راجیش گپتا نے کہا کہ جیٹھ پورنیما کے موقع پر خصوصی پوجا ہر سال کی روایت ہے اور اس مرتبہ یہ تقریب توی ریور فرنٹ پر نئی رجسٹریشن سہولیات کے آغاز کے ساتھ منعقد ہوئی۔انہوں نے کہا، ’’ہماری دعا ہے کہ زیادہ سے زیادہ عقیدت مند یاترا میں شریک ہوں اور یہ یاترا مکمل امن، سلامتی اور بغیر کسی رکاوٹ کے اختتام پذیر ہو۔‘‘
ایک مذہبی رہنما نے کہا کہ جموں میں منعقدہ ’’مہا یگیہ‘‘ مقدس غار میں ہونے والی ’’پرتھم پوجا‘‘ کی تکمیل ہے۔انہوں نے کہا، ’’سناتن روایت کے مطابق ہر نیک کام کا آغاز ویدک رسومات سے کیا جاتا ہے تاکہ اس کے بہترین نتائج حاصل ہوں۔ توی ریور فرنٹ ایک خوبصورت روحانی مقام بن چکا ہے اور جموں سے کشمیر روانہ ہونے والے یاتری یہاں منفرد روحانی تجربہ حاصل کریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ دیوی بھگوتی کی سرزمین جموں اور بھگوان شیو کی سرزمین کشمیر مل کر ’’اردھناریشور‘‘ کی علامت پیش کرتے ہیں، جو اس یاترا کی روحانی وحدت کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر انتظامیہ نے شری امرناتھ یاترا کے قافلے کی نقل و حرکت، سیکورٹی، لاجسٹک انتظامات اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا جائزہ لینے کے لیے جموں۔سری نگر قومی شاہراہ پر مکمل پیمانے پر ڈرائی رن بھی کیا۔جموں کے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار اور انسپکٹر جنرل پولیس جموں بھیم سین توتی نے صبح پانچ بجے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے قافلے کو روانہ کیا اور خود بھی ایک بس میں سفر کرکے انتظامات کا جائزہ لیا۔
سرکاری حکام کے مطابق اس مشق کے دوران قافلے کی نقل و حرکت، سیکورٹی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے جموں خطے میں یاترا کے بیس کیمپوں، قومی شاہراہ، قیام گاہوں اور دیگر اہم مقامات پر تعیناتی مزید مضبوط کرتے ہوئے ایریا ڈومینیشن پٹرولنگ، تلاشی اور محاصرہ کارروائیاں بھی انجام دیں۔
سرکاری حکام کے مطابق رواں سال کی شری امرناتھ یاترا کے لیے اب تک۳ لاکھ۷۵ ہزار سے زائد عقیدت مند رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔










