ایجنسیاں
سرینگر؍۲۹ جون
جموں و کشمیر پولیس نے بارہمولہ میں دہشت گردانہ حملے اور شری امرناتھ جی یاترا کی مبینہ منسوخی سے متعلق جعلی خبریں پھیلانے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر دانستہ طور پر ایسی من گھڑت خبریں پھیلائی گئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے بارہمولہ کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، شہر بھر میں سرکاری دفاتر پر فائرنگ کی، اور وزیر اعلیٰ نے شری امرناتھ جی یاترا کو منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
پولیس نے کہا کہ اس طرح کا من گھڑت مواد پھیلانے کا مقصد بظاہر عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا، امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنا اور جاری شری امرناتھ جی یاترا کے دوران عوامی اعتماد کو مجروح کرنا ہے۔
ایک بیان میں پولیس ضلع بارہمولہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے بارہمولہ کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملے، شہر کے مختلف سرکاری دفاتر پر فائرنگ اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے شری امرناتھ جی یاترا کی منسوخی کی تجویز سے متعلق تمام اطلاعات مکمل طور پر جھوٹی، بے بنیاد اور حقائق سے عاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’’بارہمولہ میں کہیں بھی اس نوعیت کا کوئی دہشت گردانہ حملہ یا فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا، جبکہ شری امرناتھ جی یاترا کی مجوزہ منسوخی سے متعلق معلومات بھی سراسر جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔‘‘
پولیس نے مزید کہا کہ اس قسم کا فرضی مواد جان بوجھ کر پھیلانا ایک منظم کوشش معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا، عوامی سکون میں خلل ڈالنا اور جاری شری امرناتھ جی یاترا کے دوران عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔
اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ سالانہ شری امرناتھ یاترا؍۳ جولائی سے شروع ہو رہی ہے، جو۵۷ روز جاری رہنے کے بعد۲۸ اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
پولیس نے کہا کہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات تیار کرنے، شائع کرنے اور پھیلانے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جن میں وہ افراد بھی شامل ہوں گے جو جان بوجھ کر ایسی جھوٹی معلومات کو مزید پھیلاتے یا آگے بھیجتے ہیں۔
بارہمولہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا مواد کو آگے بھیجنے یا شیئر کرنے سے گریز کریں۔
پولیس نے کہا، ’’جعلی خبروں کی تشہیر نہ صرف غیر ضروری خوف و ہراس پیدا کرتی ہے اور عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالتی ہے بلکہ قانون کے تحت قابل سزا بھی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ پُرسکون رہیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور صرف سرکاری اور پولیس کے مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔‘‘ (ایجنسیاں)










