بٹہ مالو اور نوگام میں بیٹی اور اہلیہ کے نام پر غیر منقولہ جائیداد بھی سیل
سرینگر؍۲۷ جون
جموں و کشمیر انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ہفتہ کے روز ڈپٹی کمشنر آفس سری نگر کے سابق ناظر (سینئر انتظامی کلرک) کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں اس کی متعدد غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لیں۔
اے سی بی کے مطابق فردوس آباد بٹہ مالو، سری نگر کے رہائشی امتیاز احمد بھٹ کی جائیدادوں کی ضبطی سال۲۰۲۵ میں پولیس اسٹیشن اے سی بی سری نگر میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی۔ یہ مقدمہ خفیہ جانچ کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے اپنی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے جمع کیے ہیں۔
ضبط کی گئی جائیدادوں میں فردوس آباد بٹہ مالو میں ایک رہائشی مکان، نوگام کے نمبل علاقے میں واقع تین اراضی کے ٹکڑے، جو ان کی اہلیہ اور بیٹی کے نام پر درج ہیں، اور دورانِ تفتیش برآمد کیے گئے تقریباً۱۲۶۶گرام وزنی سونے کے زیورات شامل ہیں۔
اے سی بی کے مطابق تحقیقات کے دوران امتیاز احمد بھٹ کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت عدالت کے حکم کے تحت ضمانت پر ہیں۔
بیورو کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ سرکاری ملازم نے اپنی جائز آمدنی سے کہیں زیادہ مالیت کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کیے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی سربراہی میں دو ٹیموں نے قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے بٹہ مالو اور نوگام میں واقع جائیدادوں کو ضبط کیا۔
اے سی بی نے ضبط شدہ جائیدادوں پر نوٹس بورڈ نصب کر دیے ہیں اور عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان جائیدادوں کی خرید و فروخت یا کسی بھی قسم کے مالی لین دین سے گریز کریں۔
دریں اثنااے سی بی نے ہفتہ کے روز محکمہ محنت کے ایک سینئر اسسٹنٹ کو ایک سینئر افسر کی جانب سے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ شکایت موصول ہوئی تھی کہ بوائلر انسپکشن سے متعلق ایک کیس کی کارروائی مکمل کرنے اور منظوری دینے کے عوض۴۰ ہزار روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق اے سی بی جموں نے عوامی ملازمین انجینئر رویندر کرنڈو، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (اے ای ای)، جو اس وقت محکمہ محنت میں انسپکٹر آف فیکٹریز اینڈ بوائلرز کے طور پر تعینات ہیں، اور گرداس، سینئر اسسٹنٹ، کے خلاف ایک ایف آئی آر کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ترجمان نے کہا کہ ملزم سرکاری افسر انجینئر رویندر کرنڈو نے شکایت کنندہ سے۶۰ ہزار روپے رشوت طلب کی تھی، تاہم بات چیت کے بعد یہ رقم۴۰ ہزار روپے پر طے ہوئی، جو ان کے دفتر کے کلرک گرداس کے ذریعے وصول کی جانی تھی تاکہ شکایت کنندہ کے بوائلر انسپکشن کیس کو نمٹا کر منظوری دی جا سکے۔ شکایت کنندہ رشوت ادا نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے قانونی کارروائی کے لیے اے سی بی سے رجوع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد خفیہ جانچ کی گئی، جس میں متعلقہ سرکاری افسر کی جانب سے اپنے دفتر کے کلرک کے ذریعے رشوت طلب کیے جانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی۔ اس کے بعد پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی گئیں۔
تحقیقات کے دوران اے سی بی نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس نے کامیاب جال (ٹرَیپ) بچھایا۔ کارروائی کے دوران سینئر اسسٹنٹ گرداس کو شکایت کنندہ سے انجینئر رویندر کرنڈو کی جانب سے رشوت کی رقم وصول کرتے ہوئے آزاد گواہوں کی موجودگی میں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم کارروائی کے وقت اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر رویندر کرنڈو اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔
اے سی بی کے مطابق ملزم گرداس کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے رشوت کی نشان زدہ رقم بھی آزاد گواہوں کی موجودگی میں برآمد کر لی گئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ قانون کے مطابق دونوں ملزمان کی رہائش گاہوں پر بھی آزاد گواہوں کی موجودگی میں تلاشی کارروائی جاری ہے، جبکہ مقدمے کی مزید تحقیقات عمل میں لائی جا رہی ہے۔










