اننت ناگ اور پہلگام کے جنگلاتی و پہاڑی علاقوں میں تلاشی کارروائیاں تیز، گوجر و بکروال برادری کے ڈھوکوں کی بھی تلاشی
ویب ڈیسک
سری نگر؍۲۷ جون
امرناتھ یاترا سے قبل سکیورٹی فورسز نے ہفتہ کے روز ضلع اننت ناگ کے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں ایریا ڈومینیشن مشق شروع کی، حکام نے یہ بات بتائی۔
فورسز نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے کے گھنے جنگلات اور بالائی پہاڑی علاقوں میں تلاشی کارروائیاں بھی مزید تیز کر دیں۔
مشق کے دوران گوجر اور بکروال برادری کے مٹی سے بنے مکانات، جنہیں مقامی زبان میں ’’ڈھوک‘‘ کہا جاتا ہے، کی بھی تلاشی لی گئی۔
امرناتھ یاترا ؍۳جولائی سے شروع ہوگی اور تقریباً دو ماہ تک جاری رہے گی۔
گزشتہ سال پہلگام کے بائسرن میدان میں ہونے والے دہشت گرد حملے، جس میں۲۵ سیاح اور ایک مقامی گھوڑا بان ہلاک ہو گیا تھا، کے پیش نظر فورسز نے یاترا کے روایتی راستے کے اطراف سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق جی ڈی سی چوک سے کھنہ بل سنال کراسنگ تک ایک مشتبہ ڈرون کی پرواز کا فرضی منظرنامہ (سمولیشن) تیار کیا گیا تاکہ ابھرتے ہوئے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے فورسز کی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ادھر بیجبہاڑہ پولیس تھانے کے دائرہ اختیار میں پولیس نے کھاد فروخت کرنے والی دکانوں اور تعلیمی اداروں میں قائم کیمیکل لیبارٹریوں کا بھی معائنہ کیا۔
اس دوران یاترا کے پیش نظر ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سینٹرل کشمیر رینج (سی کے آر) راجیو پانڈے نے آج جوائنٹ پولیس کنٹرول روم (جے پی سی آر) بالتل میں سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ لیا۔
اجلاس میں ایس ایس پی گاندربل سدھانشو دھاما اور پولیس و سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
دورے کے دوران ڈی آئی جی سینٹرل کشمیر رینج نے مجموعی سکیورٹی تیاریوں، فورسز کی تعیناتی، مواصلاتی نظام، ٹریفک انتظامات اور مختلف اداروں کے درمیان قائم رابطہ کاری کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا، تاکہ یاترا کے دوران محفوظ، پُرامن اور ہموار ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ایس پی گاندربل نے دیگر سینئر پولیس افسران کے ہمراہ ڈی آئی جی کو بالتل روٹ پر قائم سکیورٹی نظام، پیشگی تیاریوں اور یاترا کے سلسلے میں کیے گئے مختلف حفاظتی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر ڈی آئی جی راجیو پانڈے نے ہدایت دی کہ زیادہ سے زیادہ چوکسی برقرار رکھی جائے، تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ابھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل کا مؤثر نظام قائم رکھا جائے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ایریا ڈومینیشن، نگرانی، یاترا روٹ کی سکیورٹی اور یاتریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔










