حکومت نے پاسپورٹ کو صرف سفری دستاویز قرار دیا؛ ماہرینِ قانون، سیاست دانوں اور عوام نے شہریت کے حتمی ثبوت پر سوالات اٹھا دیے
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵جون
ایک چھوٹی سی کتابچہ نما دستاویز، جس کے سرورق پر سنہری رنگ میں قومی نشان کندہ ہوتا ہے اور جس کے پہلے صفحے پر حامل کا نام اور قومیت درج ہوتی ہے، یعنی پاسپورٹ، اب ایک نئی قانونی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ قانونی طور پر شہریت کا حتمی ثبوت نہیں بلکہ صرف ایک سفری دستاویز ہے، جس کے بعد ملک بھر میں اس معاملے پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ پاسپورٹ ’سخت معنوں میں صرف سفری دستاویز‘ ہے اور اسے ہندوستانی شہریت کے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف پاسپورٹ رکھنے کی بنیاد پر کسی شخص کو بھارتی شہریوں کیلئے مخصوص سرکاری فلاحی اسکیموں کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر حکومت اسے جاری کرنے سے پہلے پولیس کی مکمل جانچ، رہائشی تصدیق اور دیگر مراحل کیوں مکمل کراتی ہے، جبکہ پاسپورٹ پر حامل کی قومیت بھی واضح طور پر ’انڈین‘ درج ہوتی ہے۔
معروف نغمہ نگار جاوید اختر نے حکومت کے مؤقف کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت خود اس بات پر مطمئن نہیں کہ پاسپورٹ رکھنے والا شخص بھارتی شہری ہے تو پھر اسے پاسپورٹ جاری کرنے کا جواز کیا ہے۔
شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے بھی حکومت سے سوال کیا کہ اگر غیر بھارتی شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے تو اس سے بیرونی ممالک میں بھارتی پاسپورٹ کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی؟
اس بحث کے دوران کئی افراد نے آدھار کارڈ اور الیکشن کمیشن کے ووٹر شناختی کارڈ کا بھی حوالہ دیا، جنہیں بھی مختلف مواقع پر شہریت کے قطعی ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ سابق کانگریس رہنما اور رکنِ پارلیمنٹ کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسا کون سا سرکاری دستاویز ہے جسے شہریت کا حتمی ثبوت مانا جائے۔
حکومتی ذرائع نے ایک نیوز پورٹل’ این ڈی ٹی وی‘ کو بتایا کہ پاسپورٹ کبھی بھی قانونی طور پر شہریت کا قطعی ثبوت نہیں رہا۔ ان کے مطابق پاسپورٹ ایکٹ۱۹۶۷کے تحت بعض مخصوص حالات میں غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے۲۰۱۳ میں بمبئی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ چونکہ قانون غیر شہریوں کو بھی پاسپورٹ جاری کرنے کی گنجائش دیتا ہے، اس لیے محض پاسپورٹ کی موجودگی کو شہریت کا فیصلہ کن ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔
ایک رپورٹ کے مطابق شہریت کا تعین دراصل شہریت ایکٹ۱۹۵۵کے تحت کیا جاتا ہے، اور کسی شخص کی قانونی حیثیت اسی قانون کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔
سابق بھارتی سفارت کار نیروپما مینن راؤ نے اس تنازع پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ ایکٹ اور شہریت ایکٹ دو الگ قوانین ہیں۔ ان کے مطابق ایک قانون صرف سفری دستاویز کو منظم کرتا ہے، جبکہ دوسرا قانون کسی شخص کی قانونی شہریت کا تعین کرتا ہے، اور یہی بنیادی فرق اس پوری بحث کی اصل بنیاد ہے۔
راؤ نے مزید کہا کہ عملی طور پر پاسپورٹ دنیا بھر میں شہریت کے سب سے مستند ثبوت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے، تاہم اس تنازع نے ہندوستان کے شہری اندراج اور شناختی نظام کی پیچیدگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ آدھار کارڈ، پین کارڈ، پاسپورٹ اور بینکنگ نظام ایک دوسرے کی تصدیق پر منحصر ہیں، جس سے عام شہری شناخت اور شہریت کے پیچیدہ دائرے میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔
دوسری جانب کئی قانونی ماہرین نے پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ۶(۲) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ کی درخواست مسترد کرنے کی پہلی وجہ یہی ہے کہ درخواست گزار بھارتی شہری نہ ہو۔ ان کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار کی شہریت سے مطمئن ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی ایک دستاویز کو شہریت کا بنیادی ثبوت قرار دیا جائے تو وہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ یا شہریت عطا کیے جانے کا سرٹیفکیٹ ہے۔ تاہم یہ معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں، کیونکہ یکم جولائی۱۹۸۷ کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو اپنی پیدائش کے ساتھ کم از کم ایک والدین کی بھارتی شہریت کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوتا ہے، جبکہ۳ دسمبر۲۰۰۴ کے بعد پیدا ہونے والوں کے لیے دونوں والدین کی شہریت کا ثبوت درکار ہوتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی پیچیدگیوں کے باعث اس معاملے نے نئی بحث کو جنم دیا ہے، اور اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت شہریت کے ثبوت سے متعلق ایسا واضح، یکساں اور آسان نظام متعارف کرائے جس پر ہر شہری بلا شبہ اعتماد کر سکے۔










