ایجنسیاں
جموں؍۲۳ جون
کانگریس رکن پارلیمان اور خارجہ امور سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ششی تھرور نے منگل کو کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے دورے پر موجود کمیٹی کا دورہ خوش اسلوبی سے جاری ہے اور وفد یونین ٹیریٹری کے دورے کی تکمیل کے بعد ہی اپنی سفارشات اور نتائج مرتب کرے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ۱۰ رکنی وفد نے اب تک صرف جموں کے سچیت گڑھ سرحدی علاقے کا دورہ کیا ہے اور ریجنل پاسپورٹ آفس اور پاسپورٹ سیوا کیندر کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔
کانگریسی رکن پارلیمان نے کہا، ’’ہم اب سری نگر جا رہے ہیں جہاں لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقاتیں اور تبادلہ خیال ہوگا۔ اس کے بعد پرسوں کارگل اور پھر اگلے روز لیہ جائیں گے۔ تمام مقامات کا مشاہدہ مکمل ہونے کے بعد ہی ہم فیصلہ کریں گے کہ اپنی رپورٹ میں کیا لکھنا ہے۔‘‘
پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے پیر کے روز بھی یونین ٹیریٹری میں اپنی سرگرمیوں کے سلسلے میں جموں کا دورہ کیا تھا۔
ریجنل پاسپورٹ آفس جموں اور پاسپورٹ سیوا کیندر کے دورے کے بعد ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’یہ ادارے بظاہر خوش اسلوبی سے کام کر رہے ہیں۔‘‘
تھرور نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’آج صبح جموں میں پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا تفصیلی اجلاس منعقد ہوا جس میں ریجنل پاسپورٹ آفس اور پاسپورٹ سیوا کیندروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ ہم نے پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق افسران اور پولیس، سی آئی ڈی اور محکمہ ڈاک کے نمائندوں سے کئی سخت اور اہم سوالات کیے۔ پاسپورٹ کی کارروائی، پولیس تصدیق اور اجرا میں ہونے والی بعض ناقابل قبول تاخیر کی نشاندہی کی گئی اور ان پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ متعلقہ حکام نے بہتری کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘
کانگریس رہنما نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس دواخانے کا بھی مشاہدہ کیا جہاں مقامی رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سیاست میں آنے سے قبل بیس برس تک طبابت کرتے رہے تھے۔
تھرور نے کہا، ’’یہ اسی عمارت کے ایک گوشے میں واقع ہے۔ یہ اس حقیقت کی خوش آئند یاد دہانی ہے کہ بیشتر ارکان پارلیمان کی سیاست سے پہلے اور بعد میں بھی ایک حقیقی زندگی ہوتی ہے۔‘‘
کانگریسی رکن پارلیمان‘ جو۱۰رکنی پارلیمانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، اتوار کی شام جموں پہنچے تھے۔ انہوں نے اسی روز سوشل میڈیا پر سری نگر میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے لوک بھون میں ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
تھرور نے لکھا، ’’ہم نے جموں و کشمیر کی صورتحال اور معمول کی زندگی کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو لیفٹیننٹ گورنر کشمیری رائٹرز ایسوسی ایشن اور خواتین کی ایک تنظیم کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ میں نے اس مثبت رابطہ کاری کا خیر مقدم کیا۔ اگرچہ ابھی بھی کئی چیلنجز درپیش ہیں اور بہت کچھ کرنا باقی ہے، لیکن میں اس ملاقات سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت احساسات کے ساتھ واپس لوٹا۔‘‘
پیر کے روز تھرور نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا دورہ تین مخصوص موضوعات کے مطالعے کے لیے ہے، جن میں بھارت،پاکستان تعلقات‘ بھارت،چین تعلقات اور پاسپورٹ دفاتر و پاسپورٹ سیوا کیندروں کی کارکردگی شامل ہیں۔
تھرور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے صرف گورنر سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ ابھی مجھے دیگر معاملات دیکھنے یا مختلف لوگوں کی آراء سننے کا موقع نہیں ملا۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دورہ وادی کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے نہیں ہے۔ کمیٹی یہاں تین امور کا مطالعہ کر رہی ہے:بھارت،پاکستان تعلقات، بھارت-چین تعلقات اور پاسپورٹ دفاتر و پاسپورٹ سیوا کیندروں کی کارکردگی۔ ہم صرف انہی موضوعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم داخلی معاملات کا مطالعہ کرنے نہیں آئے کیونکہ یہ ہمارے دائرۂ کار میں شامل نہیں ہے۔ ہم خارجہ امور کی کمیٹی ہیں۔‘‘
کمیٹی کے چیئرمین نے سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ہر شہری کو سرحدی علاقوں میں ان کی خدمات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
تھرور نے کہا، ’’بی ایس ایف کے جوان ملک کی حفاظت کے لیے جو خدمات انجام دے رہے ہیں وہ واقعی قابلِ ستائش ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہر ہندوستانی شہری کو سرحد کا دورہ کرکے ان کی قربانیوں اور خدمات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک شاندار تجربہ تھا۔‘‘ (ایجنسیاں)










