ایجنسیاں
جموں؍۲۲ جون
کانگریس کے سینئر رہنما اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین ششی تھرور کی جانب سے جموں و کشمیر میں ’معمول کے حالات کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت‘ سے متعلق دیے گئے بیان پر ان کی اپنی جماعت کے مقامی رہنماؤں نے اعتراض کیا ہے۔
ششی تھرور اس وقت پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے سربراہ کی حیثیت سے جموں و کشمیر کے دورے پر ہیں۔
اتوار کے روز سری نگر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کے بعد تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہم نے جموں و کشمیر کی صورتحال اور معمول کے حالات کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو لیفٹیننٹ گورنر کشمیری رائٹرز ایسوسی ایشن اور خواتین کی ایک تنظیم کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے، جسے میں نے ایک مثبت رابطہ کاری قرار دیا۔ اگرچہ ابھی بھی بہت سے چیلنجز موجود ہیں اور بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن میں اس ملاقات سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت احساسات کے ساتھ واپس لوٹا ہوں۔‘‘
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان رویندر شرما نے تھرور کی اس پوسٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کشمیر کے عوام سے بھی ملاقات کرنی چاہیے تھی تاکہ زمینی حقائق کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
رویندر شرما نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’کشمیر کے لوگ بھی یہ توقع کر رہے تھے کہ آپ ان سے ملاقات کریں گے تاکہ زمینی صورتحال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کم از کم آپ کو اپنی ہی پارٹی کے کارکنوں سے ملنے کے لیے کچھ وقت نکالنا چاہیے تھا جو گزشتہ سات برسوں سے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘
اس تنازعے کے درمیان پیر کو ششی تھرور نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا جموں و کشمیر کا یہ دورہ وادی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نہیں ہے اور اس کی توجہ صرف امور خارجہ سے متعلق معاملات پر مرکوز ہے، جن میں ہند،پاک تعلقات‘ ہند،چین تعلقات اور پاسپورٹ خدمات شامل ہیں۔
دس رکنی پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی قیادت کرتے ہوئے تھرور اتوار کی شام جموں پہنچے تھے۔
کمیٹی نے پیر کی صبح سینئر پولیس حکام سے ملاقات کی اور بعد ازاں علاقے میں پاسپورٹ دفاتر اور پاسپورٹ سیوا کیندروں کے کام کاج کا جائزہ لیا۔اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ اب تک انہوں نے صرف لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی ہے اور وادی کے مختلف طبقات سے ان کی کوئی وسیع ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
تھرور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ابھی دیگر مقامات کا جائزہ لینے اور مختلف لوگوں کی آراء سننے کا موقع نہیں ملا ہے۔ اس لیے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دورہ کشمیر وادی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نہیں ہے۔‘‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ کمیٹی جموں و کشمیر میں تین مخصوص موضوعات کا مطالعہ کرنے آئی ہے، جن میں ہند،پاک تعلقات‘ ہند،چین تعلقات اور پاسپورٹ دفاتر و پاسپورٹ سیوا کیندروں کی کارکردگی شامل ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں داخلی معاملات کا جائزہ لینے نہیں آئے ہیں، یہ ہمارا دائرۂ کار نہیں ہے۔ ہم امور خارجہ کی کمیٹی ہیں اور ہمارا کام اسی تک محدود ہے۔‘‘
پارلیمانی کمیٹی میں اسد الدین اویسی، ارون گوول، اروند گنپت ساونت، وجے باگھیل، کے لکشمن، بی ایس مبارک، وکاس کمار اور بی ایس راوت بھی شامل ہیں۔ کمیٹی منگل کو کشمیر روانہ ہونے سے قبل فوجی ہیڈکوارٹر کا دورہ کرے گی اور سرحدی علاقوں کی صورتحال پر بریفنگ حاصل کرے گی۔ مطالعاتی دورے کے حصے کے طور پر کمیٹی لداخ کا بھی دورہ کرے گی۔
تھرور نے کہا کہ کمیٹی نے علاقائی پاسپورٹ دفتر، وزارت خارجہ، پولیس اور محکمہ ڈاک کے حکام کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں جموں و کشمیر میں پاسپورٹ کے اجرا میں تاخیر کے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان نے پاسپورٹ کے اجرا اور ترسیل کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس دورے کو مفید قرار دیا۔
کانگریسی لیڈر نے مزید کہا کہ کمیٹی آئندہ چار روز تک اپنا جائزہ جاری رکھے گی اور اس کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ موجودہ نظام میں بعض اصلاحات کی ضرورت ہے جن کا ذکر کمیٹی کی رپورٹ میں کیا جائے گا۔
ادھر بی جے پی کے رکن پارلیمان ارون گوول نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے کو ملی ہے۔انہوں نے کہا، ’’اب صورتحال بہت اچھی محسوس ہوتی ہے۔ سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے اور یہاں ہر روز بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام انجام دیے جا رہے ہیں۔‘‘
اپنے سابقہ دوروں کو یاد کرتے ہوئے اداکار سے سیاست دان بننے والے گوول نے کہا، ’’ہم اس سے پہلے بھی یہاں آ چکے ہیں، حتیٰ کہ ان دنوں میں بھی جب یہاں فائرنگ اور تشدد کے واقعات ہوتے تھے۔ اب صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے اور سب کچھ بہتر ہے۔‘‘انہوں نے کانگریس کی جانب سے ششی تھرور پر کی جانے والی تنقید پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہر اچھی بات کی مخالفت کرنا اپنا معمول بنا چکی ہے۔
دریں اثنا بی جے پی رہنما شاہنواز حسین نے کہا کہ جب بھی ششی تھرور ایک رکن پارلیمان کی حیثیت سے ’’سچ بولتے ہیں‘‘ تو کانگریس انہیں تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’کانگریس نہیں چاہتی کہ اس کے ارکان پارلیمان کی کوئی ذاتی رائے ہو۔ پارٹی چاہتی ہے کہ اس کے تمام ارکان صرف راہل گاندھی کی سوچ کو دہرائیں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔










