ایجنسیاں
سرینگر؍۲۲جون
تہاڑ جیل میں قید رکنِ پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے صدر شیخ عبدالرشید المعروف انجینئر رشید لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام، جنہوں نے انہیں بھاری اکثریت سے منتخب کیا، تک مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے اور ان کی خدمت کرنے سے قاصر ہیں۔
انجینئر رشید، جو دہشت گردی سے متعلق مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ سات برسوں سے تہاڑ جیل میں بند ہیں‘۲۰۲۴کے لوک سبھا انتخابات میں اس وقت ایک بڑی سیاسی حیرت بن کر ابھرے تھے جب انہوں نے بارہمولہ پارلیمانی حلقے سے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو دو لاکھ سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ عدالت نے انہیں مختلف مواقع پر عبوری ضمانت بھی دی، جس کے تحت انہوں نے پارلیمانی کارروائی میں شرکت بھی کی۔
عوامی اتحاد پارٹی کے مطابق انجینئر رشید نے رکنِ پارلیمنٹ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں وہ اپنے ووٹروں کی مؤثر نمائندگی نہیں کر پا رہے۔ تاہم پارٹی نے اس معاملے پر اپنے زمینی سطح کے کارکنوں اور عوام کی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کے چیف ترجمان انعام النبی نے جاری ایک بیان میں کہا کہ پارٹی کی کمیٹی برائے سیاسی امور نے اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا اور بارہمولہ پارلیمانی حلقے کے تمام۱۸؍اسمبلی حلقوں میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے مشاورت کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نبی نے کہا، ’’معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کمیٹی برائے سیاسی امور نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے مختلف سطحوں کے عہدیدار دو روزہ مشاورتی عمل میں حصہ لیں گے تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ انجینئر رشید کو رکنِ پارلیمنٹ کی حیثیت سے برقرار رہنا چاہیے یا اس عہدے سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو پارٹی اپنے کارکنوں کے درمیان خفیہ رائے شماری بھی کرا سکتی ہے تاکہ ہر رکن بغیر کسی دباؤ کے اپنی رائے کا اظہار کر سکے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان کے مطابق پنچایت اور بلاک سطح کے پارٹی عہدیدار عام لوگوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے ملاقاتیں کر کے اس معاملے پر ان کی رائے حاصل کریں گے۔ بعد ازاں وہی رائے پارٹی کے سامنے حتمی سفارشات کی صورت میں پیش کی جائے گی۔
نبی نے کہا، ’’اس مشاورتی عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انجینئر رشید کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ان عوامی خواہشات اور توقعات کے مطابق ہو جنہوں نے ان پر اور پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔‘‘
ترجمان نے مزید بتایا کہ مشاورت اور ممکنہ رائے شماری کے نتائج باقاعدہ طور پر انجینئر رشید تک پہنچائے جائیں گے تاکہ وہ تمام حقائق اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے باخبر فیصلہ کر سکیں۔









