کہاسالانہ امرناتھ یاترا کیلئےحکومت ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۸ جون
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے جمعرات کو وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقے میں واقع کھیر بھوانی مندر کا دورہ کر کے سالانہ میلے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
رگنیہ دیوی، جو ماتا کھیر بھوانی کے نام سے مشہور ہیں، کے اس مقدس مندر میں پیر کے روز منعقد ہونے والے سالانہ میلے میں شرکت کے لیے ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے سینکڑوں عقیدت مند، بالخصوص کشمیری پنڈت، پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے یاتریوں کے لیے فراہم کی گئی مختلف سہولیات کا معائنہ کیا اور میلے کے پُرامن اور منظم انعقاد کے لیے کی گئی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے مندر میں حاضری دے کر عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ ایک مقدس دن ہے۔ ملک اور دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ یہاں ماتا کے درشن اور آشیرواد حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ میں بطور وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور گاندربل کے رکن اسمبلی یہاں انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لینے آیا ہوں۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ مندر کے پجاریوں اور دیگر ذمہ داران سے ملاقات کے دوران بعض مسائل ان کے سامنے رکھے گئے، جنہیں۲۲ جون کو منعقد ہونے والے میلے سے قبل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ۳ جولائی سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کے انتظامات کی نگرانی شری امرناتھ شرائن بورڈ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یاترا کے کامیاب اور پُرامن انعقاد کی بنیادی ذمہ داری بورڈ پر عائد ہوتی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے جو بھی تعاون درکار ہوگا، وہ فراہم کیا جا رہا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں امن اور بھائی چارے کے لیے دعا کریں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم امید کرتے ہیں کہ چاہے ماتا کھیر بھوانی کا میلہ ہو یا امرناتھ یاترا، تمام زائرین سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی عبادات انجام دیں اور جموں و کشمیر میں امن، محبت اور بھائی چارے کے لیے بھی دعا کریں۔‘‘
گاندربل میں کسانوں کو آبپاشی کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ پورے گاندربل میں نہیں بلکہ چند مقامات تک محدود ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’نہروں اور دیگر ذرائع کے ذریعے آبپاشی کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسانوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی بارش سے پانی کی قلت میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔ تاہم جہاں بھی ضرورت ہوگی، میں وزیر جاوید رانا اور متعلقہ افسران کو موقع پر بھیجوں گا تاکہ باقی ماندہ مسائل کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔‘‘










