رام مندر، کاشی وشوناتھ کاریڈور اور مہاکال لوک کے ساتھ فلاحی اسکیموں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی نے ملک کو نئی رفتار دی:شاہ
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۸ جون
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ۱۲ برس ترقی اور ثقافتی ورثے کے حسین امتزاج کا سنہری دور ثابت ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امت شاہ نے کہا، ’’مودی حکومت کے۱۲ سال ترقی اور ورثے کے سنگم کا سنہری دور رہے ہیں۔ ان برسوں میں ایک طرف شری رام مندر، کاشی وشوناتھ کاریڈور اور اجین کے مہاکال لوک جیسے عظیم منصوبے مکمل ہوئے، تو دوسری جانب پردھان منتری آواس یوجنا، آیوشمان بھارت، انا بھنڈار، عالمی معیار کے رابطہ نظام، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور ’میک اِن انڈیا‘ جیسی اسکیموں نے ملک کی ترقی کو بے مثال رفتار بخشی ہے۔‘‘
امت شاہ کا یہ بیان اس موقع پر سامنے آیا جب مرکزی حکومت نے ’’وکاس بھی، وراثت بھی‘‘ کے موضوع کے تحت گزشتہ۱۲برسوں میں شروع کی گئی مختلف پہلوں اور منصوبوں کو اجاگر کیا۔
حکومتی بیان کے مطابق ان برسوں کے دوران ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی اور ورثے کے تحفظ کو قومی ترقی کے وسیع تر اہداف کے ساتھ جوڑا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک کروڑ تاریخی ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن‘۶۶۸ قدیم نوادرات کی وطن واپسی، قبائلی آزادی پسندوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے۱۱عجائب گھروں کا قیام اور۱۱ ہندوستانی زبانوں کو کلاسیکی زبان کا درجہ دینا اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق تاریخی مقامات، مندروں اور یادگاروں کی بحالی، زائرین کے لیے بہتر سہولیات، ورثہ شہروں کی ترقی اور مذہبی سیاحتی راستوں کی توسیع کے لیے بھی مختلف منصوبے نافذ کیے گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان کی یادگاریں، نوادرات، مخطوطات اور تاریخی مقامات نسل در نسل منتقل ہونے والے مشترکہ ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں۔۲۰۱۴ کے بعد حکومت نے ان اثاثوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے اور انہیں سیاحت، روزگار، معاشی ترقی اور ثقافتی سفارت کاری کے ساتھ جوڑا۔
حکومت نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کو قومی ترقی کے عمل کا حصہ بنایا گیا۔ اس ضمن میں۶۶۸ سے زائد چوری شدہ نوادرات کی واپسی، کاشی وشوناتھ کاریڈور اور شری رام جنم بھومی مندر جیسے روحانی و مذہبی ڈھانچوں کی تعمیر اور ہندوستانی روایات کو عالمی سطح پر شناخت دلانے کی کوششوں کو نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
بیان کے مطابق مخطوطات کی ڈیجیٹلائزیشن، مذہبی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور سیاحتی رابطوں میں بہتری جیسے اقدامات مستقبل کی نسلوں کے لیے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے مقصد سے انجام دیے گئے ہیں۔










