بھارت نے۲۰۲۵ میں دفاعی اخراجات کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں بڑی طاقت کا درجہ برقرار رکھا: سیپری رپورٹ
(ویب ڈیسک)
سرینگر ؍۸جون
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سیپری)کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارت نے۲۰۲۵کے دوران اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں معمولی اضافہ کیا ہے اور نئے جوہری ہتھیار بردار نظاموں کی تیاری بھی جاری رکھی ہے، جس کے نتیجے میں جوہری صلاحیت کے معاملے میں پاکستان پر اس کی برتری مزید مستحکم ہوئی ہے۔
۸ جون کو جاری ہونے والی سیپری ایئر بُک۲۰۲۶ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا جوہری جدیدکاری پروگرام اب تیزی سے ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری پر مرکوز ہے جو چین کے تمام ممکنہ اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تاہم پاکستان کے ساتھ روایتی رقابت بھی اس کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں مئی۲۰۲۵ میں ہونے والے آپریشن سندور کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک’غیر معمولی حد تک سنگین فوجی بحران‘ قرار دیا گیا ہے۔
سیپری کے مطابق مئی۲۰۲۵کی کشیدگی کے دوران بھارت نے پاکستان کے ایسے فضائی اور میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق جوہری سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدامات بھی کیے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان نے پہلی مرتبہ ایک فعال فوجی تنازع کے دوران سائبر آپریشنز کو بھی اپنی حکمت عملی کا حصہ بنایا، جو خطے میں جنگ اور دفاعی توازن کی بدلتی ہوئی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔
سیپری کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے۲۰۲۵ میں دفاعی اخراجات کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں بڑی طاقت کا درجہ برقرار رکھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے فوجی اخراجات بڑھ کر۹۲ء۱؍ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں۸ء۹فیصد زیادہ ہیں۔ دفاعی اخراجات کے اعتبار سے بھارت سے آگے صرف امریکہ، چین، روس اور جرمنی ہیں۔
۲۰۲۱ سے۲۰۲۵ دوران بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک رہا۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں عالمی اسلحہ درآمدات میں بھارت کا حصہ۸ء۲ فیصد رہا۔ یوکرین، بھارت، سعودی عرب، قطر اور پاکستان اسلحے کے پانچ بڑے خریدار ممالک رہے، جنہوں نے مجموعی عالمی درآمدات کا۳۵فیصد حصہ حاصل کیا۔
سیپری کے اندازے کے مطابق۲۰۲۶کے آغاز تک بھارت کے جوہری وارہیڈز کی تعداد بڑھ کر تقریباً۱۹۰ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی۲۰۲۵ کے دوران نئے جوہری ہتھیار بردار نظاموں کی تیاری اور فِسائل مواد (جوہری دھماکہ خیز مواد) کے ذخائر میں اضافہ جاری رکھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آئندہ دہائی میں پاکستان کے جوہری ذخائر میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق۲۰۲۶ کے آغاز پر دنیا کے نو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک‘امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، بھارت، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل‘ کے پاس مجموعی طور پر تقریباً۱۲ہزار۱۸۷ جوہری ہتھیار موجود تھے۔
ان میں سے۹ہزار۷۴۵ وارہیڈز فوجی ذخائر میں موجود تھے جبکہ تقریباً۴ہزار۱۲ وارہیڈز عملی طور پر تعینات حالت میں تھے۔ ان میں سے۲۱۰۰ سے۲۲۰۰وارہیڈز ایسے تھے جو فوری استعمال کے لیے ہائی الرٹ پر رکھے گئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد میں کمی آ رہی ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور روس کی جانب سے پرانے وارہیڈز کو ختم کرنا ہے۔
امریکہ اور روس اب بھی دنیا کے تقریباً۸۶فیصد جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں اور دونوں ممالک اپنے جوہری ذخائر کو جدید بنانے کے وسیع منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔چین نے بھی اپنے جوہری ذخیرے میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اس کے وارہیڈز کی تعداد۶۰۰سے بڑھ کر تقریباً۶۲۰ ک پہنچ گئی ہے۔
سیپری رپورٹ کے مطابق۲۰۲۵ میں بین الریاستی مسلح تنازعات کی تعداد۲۰۲۴ کے مقابلے میں دوگنی ہو کر چھ تک پہنچ گئی۔ان تنازعات میں افغانستان،پاکستان، کمبوڈیا،تھائی لینڈ‘ بھارت‘پاکستان، ایران،اسرائیل/امریکہ، روس/شمالی کوریا،یوکرین اور کانگو۔روانڈا شامل ہیں۔










