سرینگر؍۲جون
نیشنل کانفرنس کی سینئر رہنما اور وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے منگل کو پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے عوامی مفاد کے بجائے سیاسی اقتدار کو ترجیح دی اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کے خاتمے سمیت کئی اہم پیش رفتوں کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی کی حالیہ سیاسی رابطہ مہم پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ پی ڈی پی سربراہ کے سیاسی فیصلوں نے جموں و کشمیر کو درپیش موجودہ چیلنجز میں نمایاں کردار ادا کیا، جن میں دفعہ۳۷۰؍اور دفعہ۳۵؍ اے کی منسوخی، ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا جانا اور عوام کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔
ایتو نے الزام لگایا کہ۲۰۱۸ میں پی ڈی پی-بی جے پی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد نیشنل کانفرنس کے صدر‘فاروق عبداللہ نے بی جے پی کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے محبوبہ مفتی کو غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی تھی، تاہم سیاسی وجوہات کی بنا پر اس پیشکش کو مسترد کر دیا گیا۔
وزیر صحت نے کہا، ’’جب بی جے پی نے ان کی حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی تو فاروق عبداللہ صاحب نے بغیر کسی وزارت یا عہدے کے مطالبے کے غیر مشروط حمایت کی پیشکش کی تھی۔ مقصد صرف یہ تھا کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھا جائے اور جموں و کشمیر کے مفادات کا تحفظ کیا جائے، لیکن محبوبہ مفتی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا کیونکہ ان کی ترجیح عوام نہیں بلکہ اقتدار تھا۔‘‘
ایتو نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کے اتحاد کے نتائج بالآخر جموں و کشمیر کے عوام کو بھگتنا پڑے۔
موصوفہ نے کہا، ’’آج نہ ریاستی درجہ باقی ہے، نہ دفعہ۳۷۰؍اور نہ ہی دفعہ۳۵؍ اے۔ ہزاروں لوگوں نے مشکلات برداشت کیں، بہت سے افراد کو جیل جانا پڑا اور جموں و کشمیر کو بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑی۔ اس دور میں کیے گئے فیصلوں نے ہمیں اس صورتحال تک پہنچایا۔‘‘
ایتو نے اگست۲۰۱۹کے آئینی اقدامات کے بعد کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فاروق عبداللہ مسلسل علاقائی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور مشترکہ پلیٹ فارم کے قیام کی وکالت کرتے رہے تاکہ جموں و کشمیر کے مفادات کا اجتماعی تحفظ کیا جا سکے۔
وزیر صحت نے کہا، ’’فاروق صاحب ہمیشہ سیاسی اتحاد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی بات کرتے رہے تاکہ عوام کے حقوق اور شناخت کا تحفظ کیا جا سکے، لیکن افسوس کہ محبوبہ مفتی نے ایسی کوششوں کی حمایت نہیں کی اور اقتدار میں واپسی پر ہی توجہ مرکوز رکھی۔‘‘
نیشنل کانفرنس کی رہنما نے مزید الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کی حالیہ تاریخ کے اہم مواقع پر بھی پی ڈی پی سربراہ نے وسیع تر عوامی مفاد کے بجائے سیاسی عزائم کو ترجیح دی۔
واضح رہے کہ محبوبہ مفتی نے آج ہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو خطوط لکھ کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطے کی مشترکہ کوشش کی اپیل کی تھی تاکہ جموں و کشمیر کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
حالیہ انہدامی کارروائیوں اور انسدادِ تجاوزات مہم پر تبصرہ کرتے ہوئے ایتو نے قانون کے مبینہ طور پر امتیازی نفاذ پر تنقید کی اور تمام خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کا مطالبہ کیا۔
وزیر صحت نے کہا، ’’اگر غریب لوگوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے تو ان بااثر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے مبینہ طور پر وسیع اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار نہیں رکھ سکتا۔‘‘
اپنی جماعت کے موقف کو دہراتے ہوئے ایتو نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی اور عوام کے سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ریاستی درجے کی بحالی اور اپنے عوام کی شناخت، وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہی ہمارا عزم ہے۔‘‘










