سات گھنٹے طویل آپریشن میں۶۵کیبنز میں پھنسے تمام سیاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ‘کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
فنی خرابی کے بعد گونڈولا سروس کے دونوں مرحلوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا‘بحالی کا کام جاری ہے :حکام
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۲۵مئی
ایشیا کی بلند ترین کیبل کار سروس گلمرگ گونڈولا میں پیر کے روز فنی خرابی پیدا ہونے کے بعد۶۵کیبنز میں سوار تقریباً۳۰۰ سیاح فضا میں پھنس گئے، جنہیں سات گھنٹے طویل اور دشوار ریسکیو آپریشن کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
فنی خرابی دوپہر کے قریب پیش آنے کے فوراً بعد ایک بڑے مشترکہ ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا، جس میں فوج نے بھی حصہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ بعض کیبنز زمین سے تقریباً۵۰۰ فٹ کی بلندی پر معلق تھیں، جس کے باعث ان سے مسافروں کو نکالنے میں زیادہ وقت لگا۔ علاقے میں شدید بارش بھی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی رہی۔
ایک سرکاری افسر نے شام کے وقت بتایا، ’’ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور تمام پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔‘‘
حکام کے مطابق فنی خرابی کے بعد گلمرگ گونڈولا سروس کے دونوں مرحلوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
ریسکیو کارروائی میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس‘ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس‘ پولیس اور فوج کے اہلکار شامل تھے۔ تربیت یافتہ ٹیموں نے رسیوں اور سیڑھیوں کی مدد سے سیاحوں کو محفوظ طریقے سے زمین پر اتارا۔
حکام نے بتایا کہ کیبل کار نظام کی بحالی کا کام فی الحال جاری ہے۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت صورتحال پر ’’قریبی نظر‘‘ رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا، ’’تمام کیبنز محفوظ ہیں اور تربیت یافتہ ٹیمیں پھنسے ہوئے سیاحوں کو بحفاظت نکالنے میں مصروف ہیں۔ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
حکام کے مطابق تقریباً۶۰ فیصد کیبنز سے مسافروں کو نکال لیا گیا تھا، جبکہ باقی افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری تھیں۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ انہوں نے ڈی جی پی نالین پربھات کو موقع پر پہنچ کر ریسکیو کارروائیوں کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’میں گلمرگ میں فنی خرابی کے باعث کیبل کار کیبنز میں پھنسے سیاحوں کے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہا ہوں۔ پولیس، فوج، ایس ڈی آر ایف، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی مشترکہ طور پر کارروائی انجام دے رہے ہیں تاکہ تمام سیاحوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔‘‘
فوج نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ چنار کور کی مدد سے فوری اور منظم ریسکیو کارروائیاں شروع کی گئیں۔
واضح رہے کہ۲۵ جون۲۰۱۷ کو بھی گلمرگ گونڈولا میں ایک حادثہ پیش آیا تھا جب تیز ہواؤں کے باعث ایک درخت گرنے سے کیبل کار کیبن زمین پر آگری تھی، جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گزشتہ سال جنوری میں بھی تکنیکی خرابی کے باعث گونڈولا سروس کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل آگرہ میں ایک۱۶ سالہ لڑکا زپ لائن کیبل ٹوٹنے سے تقریباً۴۵ فٹ نیچے گر کر ہلاک ہوگیا تھا۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ہدایت پر نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے آج گلمرگ کا دورہ کیا اور فنی خرابی کے بعد جاری ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی۔
ایم ایل اے گلمرگ پیرزادہ فاروق احمد شاہ، سینئر انتظامی و پولیس افسران کے ہمراہ موقع پر موجود رہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو مربوط بناتے رہے۔
جموں و کشمیر حکومت نے کہا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ حکام کے مطابق بیشتر کیبنز خالی کرا لی گئی ہیں جبکہ باقی مسافروں کو محفوظ نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔










