عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے۔ کشمیر کی فضاؤں میں حج کی روحانی کیفیت اور عید کی خوشیاں گھل رہی تھیں۔ بازاروں میں رونق تھی، بچے نئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری میں مصروف تھے، گھروں میں عید کی تیاریوں کا چرچا تھا، لیکن ایسے میں بڈگام کی ایک معصوم نابالغ بچی کے اغوا، عصمت دری اور قتل کی لرزہ خیز واردات نے پوری وادی کو غم، خوف اور غصے میں مبتلا کردیا۔ یہ ایک بچی کا قتل نہیں، بلکہ پورے کشمیری معاشرے کے ضمیر پر لگا ہوا ایک ایسا زخم ہے جس نے ہر حساس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
یہ سوال آج ہر زبان پر ہے کہ ہم کہاں آگئے ہیں؟ کیا اب کشمیر میں ہماری معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں رہیں؟ وہ کشمیر جس کی شناخت صدیوں تک تہذیب، احترام، غیرت اور خواتین کے تحفظ سے رہی، وہاں ایک کمسن بچی کو درندگی کا نشانہ بنانا اس بات کا اعلان ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ نہ کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک مجرمانہ واردات نہیں بلکہ سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی زوال کی خطرناک علامت ہے۔
بڈگام کی اس معصوم بچی کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے گھر سے دَرسگاہ جانے نکلی تھی۔ کون جانتا تھا کہ وہ اپنے گھر واپس زندہ نہیں لوٹے گی۔ جس انداز میں اس بچی کو اغوا کیا گیا، زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قتل کردیا گیا، اس نے پورے کشمیر کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔ ماؤں کی آنکھوں میں خوف ہے، باپوں کے دل دہل گئے ہیں اور ہر گھر میں یہی سوال گونج رہا ہے کہ اگر ہماری بیٹیاں ہی محفوظ نہیں تو پھر اس معاشرے کی بنیادیں کس قدر کھوکھلی ہوچکی ہیں؟
اس واقعہ کے بعد بڈگام کی گلیوں میں اٹھنے والی آہ و بکا دراصل پورے کشمیر کی چیخ تھی۔ خواتین کا سینہ کوبی کرنا، مردوں کا غصے سے مٹھیاں بھینچنا اور نوجوانوں کا سڑکوں پر نکل کر انصاف کا مطالبہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ واقعہ عوام کے دلوں پر بجلی بن کر گرا ہے۔ عید کی خوشیاں ماتم میں بدل گئی ہیں۔ بازار کھلے ضرور ہیں لیکن چہروں پر اداسی چھائی ہوئی ہے۔ ہر ماں اپنی بچی کو سینے سے لگا کر خوف محسوس کررہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ اس نہج تک کیوں پہنچ گیا؟ گزشتہ کئی برسوں میں کشمیر نے بے شمار سماجی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ ایک دور میں نوجوانوں نے بندوق اٹھائی، پھر ایک بڑی تعداد منشیات کی لعنت میں مبتلا ہوگئی، اور اب جرائم کی ایسی لرزہ خیز شکلیں سامنے آرہی ہیں جن کا ماضی کے کشمیر میں تصور بھی محال تھا۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا ایک حصہ ذہنی، اخلاقی اور سماجی طور پر بھٹک چکا ہے۔ بے روزگاری، منشیات، اخلاقی تربیت کی کمی، سوشل میڈیا کا منفی استعمال، گھریلو انتشار اور روحانی خلا نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جہاں انسانیت دم توڑتی محسوس ہورہی ہے۔
اعداد و شمار بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریپ، پوکسو کیسز، گھریلو تشدد اور ہراسانی جیسے جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ پورا سماج ایک سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل شاید حالات مزید بھیانک ہوجائیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ صرف پولیس کارروائیاں یا وقتی احتجاج ایسے واقعات کو روکنے کیلئے کافی نہیں ہوں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ اپنا احتساب کرے۔ والدین کو اپنی اولاد کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اسکولوں، مدارس اور تعلیمی اداروں کو اخلاقی تعلیم کو مضبوط بنانا ہوگا۔ علماء، ائمہ، اساتذہ، سماجی کارکن اور دانشور سب کو مل کر نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی رہنمائی کرنی ہوگی۔ ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں خواتین اور بچوں کا احترام صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی رویہ بن جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔ بڈگام واقعہ کے ملزمان کو فوری طور گرفتار کرکے ان کی شناخت عوام کے سامنے لائی جائے۔ اس کیس کی تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار ہونی چاہئیں تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مقدمہ کیلئے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کی جائے تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔ ایسے مجرموں کیلئے سخت ترین سزا ناگزیر ہے کیونکہ جب تک قانون کا خوف پیدا نہیں ہوگا، درندہ صفت ذہنیت رکھنے والے عناصر باز نہیں آئیں گے۔
لیکن صرف سزا ہی کافی نہیں۔ ہمیں اس سوال پر بھی غور کرنا ہوگا کہ آخر ایسے مجرم پیدا کیوں ہو رہے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان منشیات میں ڈوب رہے ہوں، جہاں ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہو، جہاں اخلاقی اقدار کمزور پڑ رہی ہوں اور جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے تشدد اور بے حیائی عام ہورہی ہو، وہاں جرائم کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اسلئے ہمیں محض واقعات پر ردعمل دینے کے بجائے بنیادی اسباب کا علاج کرنا ہوگا۔
کشمیر ہمیشہ سے اپنی تہذیبی شناخت، روحانی قدروں اور سماجی ہم آہنگی کیلئے جانا جاتا رہا ہے۔ یہاں بیٹیوں کو عزت دی جاتی تھی، بچے پورے محلے کی ذمہ داری سمجھے جاتے تھے، اور خواتین کا احترام ایک روایت تھی۔ اگر آج یہ روایتیں کمزور پڑ رہی ہیں تو ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم اپنی اصل شناخت کھو تو نہیں رہے۔
بڈگام کی اس معصوم بچی کو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن اس کی موت کو ایک اجتماعی بیداری کا سبب ضرور بنایا جاسکتا ہے۔ اگر اس سانحہ کے بعد بھی ہم خاموش رہے، اگر ہم نے وقتی غصے کے بعد سب کچھ بھلا دیا، تو پھر کل کوئی اور معصوم بچی اسی درندگی کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ یہ واقعہ محض ایک خبر بن کر نہ رہ جائے بلکہ ایک اجتماعی عہد میں تبدیل ہو کہ ہم اپنے معاشرے کو دوبارہ محفوظ، مہذب اور انسان دوست بنائیں گے۔
یہ وقت سیاست، فرقہ بندی یا الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی اصلاح کا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کیلئے کیسا کشمیر چھوڑنا چاہتے ہیں۔ خوف اور درندگی والا کشمیر یا امن، احترام اور انسانیت والا کشمیر۔ بڈگام کی اس معصوم بیٹی کا خون ہم سب سے یہ سوال پوچھ رہا ہے، اور اس سوال کا جواب اب صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل میں دینا ہوگا۔





