وزیر اعظم‘نریندر مودی کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کی اپیل اب ’بہت اہم‘ ہو گئی ہے:سیتا رمن
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵مئی
مرکزی وزیرِ خزانہ‘ نرملا سیتا رمن نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ،ایران جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی بے چینی اور ملک میں بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر بھارت کو تین ’ایف‘ یعنی فیول، فرٹیلائزر اور فاریکس پر خصوصی نظر رکھنی ہوگی۔
ممبئی میں اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا کی ۳۷ ویں سالگرہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’کھاد کی قیمتیں ناقابلِ تصور سطح تک پہنچ چکی ہیں‘‘۔
ان کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایندھن کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیر کو گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں چوتھی مرتبہ اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ۱۱ دنوں میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر۷ء۳۸ روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں، جو تیل کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔ بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً۸۵ تا۹۰ فیصد درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی قیمتوں میں اضافے کا اس پر گہرا اثر پڑا ہے۔
اس تناظر میں نرملا سیتا رمن نے کہا کہ وزیر اعظم‘نریندر مودی کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کی اپیل اب ’بہت اہم‘ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا’تین ایف،فیول، فرٹیلائزر اور فاریکس‘— پر توجہ دینے کی ضرورت ہے‘‘۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ خام تیل کی بڑھتی قیمتیں صرف ایک مسئلہ نہیں بلکہ کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور سونے کی بڑھتی قیمتیں بھی بھارت کے لیے بیرونی محاذ پر مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
یہ بیان وزیر اعظم مودی کی اس حالیہ اپیل کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عوام اور صنعتوں سے غیر ضروری درآمدات کم کرنے، غیر ضروری زرمبادلہ کے اخراج کو روکنے، اختیاری غیر ملکی سفر مؤخر کرنے اور ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کرنے کی درخواست کی تھی۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی افراطِ زر میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں۹۷ کی سطح کے قریب پہنچ گیا تھا، تاہم بعد میں اس میں کچھ بہتری آئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران صرف سفارتی یا جغرافیائی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے کاروبار اور عام لوگوں پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سیتا رمن نے کہا’’اس کا مطلب زیادہ ایندھن لاگت، کارگو میں تاخیر، مہنگی شپنگ، خام مال کی قلت، ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ اور برآمدی آرڈرز میں غیر یقینی صورتحال ہو سکتا ہے۔ ذرا تصور کریں جب یہ سب چیزیں ایک ساتھ سامنے آئیں‘‘۔
موصوفہ نے ملک کی معاشی صورتحال کو ’’مضبوط اور مثبت‘‘قرار دیتے ہوئے ان لوگوں پر تنقید کی جو ان کے مطابق حالات کو ’’تباہی‘‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا،’’بھارت میں ایک طبقہ ایسا ہے جو بہت جلد اپنے ہی لوگوں کی کامیابیوں کو کم تر دکھانے لگتا ہے۔ عوام کی جانب سے کیے جانے والے اچھے کاموں کو نظر انداز کرکے مایوس کن اور منفی بیانیہ بنایا جاتا ہے، جو درست نہیں‘‘۔
سیتا رمن نے مزید کہا’’بھارت خوف پھیلانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے الفاظ اور اقدامات کے ذریعے عوام میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا‘‘۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے مرکزی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باعث حکومت کو ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے تاکہ عوام کو مزید مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
موصوفہ نے ایم ایس ایم ای شعبے میں دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ۸ء۱ لاکھ کروڑ روپے کی تاخیر شدہ ادائیگیاں کاروباری سرمائے کو متاثر کر رہی ہیں اور ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ انہوں نے سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ ایم ایس ایم ایز کی واجب الادا رقوم۴۵دن کی لازمی مدت کے اندر ادا کریں۔
تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت کے معاشی اشاریے مضبوط ہیں۔ انہوں نے جی ایس ٹی وصولیوں میں اضافے، گھریلو طلب میں استحکام اور نجی سرمایہ کاری میں بہتری کو معیشت کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔










