کوئی بھی منشیات اسمگلر قانون کی گرفت سے باہر نہیں :ایل جی سنہا
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۵مئی
جموں و کشمیر میں نارکو دہشت گردی کے خلاف مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے پیر کے روز بانڈی پورہ میں ایک بڑی پدیاترا کی قیادت کی تاکہ اس مقصد کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’پینتالیس روز قبل میں نے عہد کیا تھا کہ نہ صرف اسمگلروں اور نارکو دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے گا بلکہ ایک ایسی تحریک بھی شروع کی جائے گی جو نوجوانوں کو بااختیار بنائے اور منشیات کی لعنت سے متاثرہ خاندانوں کا وقار بحال کرے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر متحد ہے، اپنے عزم میں مضبوط، اپنے مقصد میں واضح اور معاشرے کو ہمیشہ کے لیے منشیات سے پاک کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
ایل جی نے کہا’’نارکو دہشت گردوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ یہ اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک جموں و کشمیر کی مقدس سرزمین سے ہر منشیات اسمگلر کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ہماری ایجنسیوں نے نارکو دہشت گردوں اور ان کے خفیہ نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے غیر معمولی مہم شروع کر رکھی ہے۔ کوئی بھی منشیات اسمگلر، منشیات فروش یا ہمارے معاشرے کو زہر آلود کرنے والا شخص قانون کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ پورے نارکو دہشت گردی کے نظام کا تعاقب کیا جا رہا ہے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ کئی ایسے منشیات سپلائی نیٹ ورک جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں تھا، ان کی نشاندہی کرکے انہیں توڑا جا رہا ہے جبکہ دہائیوں سے سرگرم منشیات کارٹیلز کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہم نے واضح پیغام دیا ہے کہ جموں و کشمیر اُن لوگوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا جو دوسروں کی تباہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میرا عزم ہے کہ ہم اس سرزمین سے ہر نارکو دہشت گرد اور منشیات اسمگلر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے‘‘۔
سنہا نے مزید کہا’’جن لوگوں نے ہمارے خاندانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، ان کا وجود اس سرزمین سے مٹا دیا جائے گا۔ اب قانون سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ نارکو دہشت گردوں کو سزا دی جا رہی ہے، نوجوانوں کا تحفظ کیا جا رہا ہے، خاندانوں کی مدد کی جا رہی ہے اور معاشرے میں نئی امید لوٹ رہی ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ جلد ہی ایک جامع بازآبادکاری پالیسی متعارف کرائے گی تاکہ منشیات کی لت میں مبتلا ہر نوجوان کو دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی نوجوان پیچھے نہ رہ جائے۔ ہم انہیں روزگار، مواقع اور باوقار زندگی گزارنے کے وسائل فراہم کریں گے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی کامیابی صرف گرفتار ہونے والے اسمگلروں کی تعداد سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ ان زندگیوں سے ہوگی جنہیں ہم دوبارہ سنوار سکیں گے۔ یہ اُن گھروں سے ناپی جائے گی جو دوبارہ آباد ہوں گے اور اُن نوجوانوں سے جو اپنے خواب پورے کر سکیں گے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک ان کے خواب حقیقت نہیں بن جاتے ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ حکومت اکیلے منشیات کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لیے خاندانوں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور ہر ذمہ دار شہری کی حمایت ضروری ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت بحالی کے ایک منصوبے ’وقار نالج سینٹر‘ کا بھی افتتاح کیا۔
بانڈی پورہ انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے گئے وقار نالج سینٹر کا مقصد منشیات کی لت سے باہر آنے والے افراد کو بحالی، مثبت سرگرمیوں اور دوبارہ سماج میں شمولیت کے لیے ایک تعمیری پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
یہ اقدام اس پیغام کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ منشیات کی لعنت چھوڑنے کے خواہش مند افراد کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف مواقع اور امدادی نظام دستیاب ہیں۔










