(ندائے مشرق خبر)
بڈگام؍۲۵مئی
بڈگام پولیس نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ گلوان پورہ میں کمسن لڑکی کے زیادتی اور قتل کے سنسنی خیز معاملے کو محض۳۶گھنٹوں میں حل کر لیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ایک مقامی نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش جرم کا اعتراف بھی کیا ہے جبکہ مادی شواہد بھی اس کے خلاف پائے گئے ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) بڈگام کے کے ہری پرساد نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد ایک شخص کی مبینہ شمولیت مادی شواہد سے مطابقت رکھتی پائی گئی۔
پرسادنے کہا، ’’ہم نے۳۶گھنٹوں کے اندر قتل اور زیادتی کے اس معاملے کو حل کر لیا ہے‘‘۔پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت مدثر احمد میر ساکن گلوان پورہ کے طور پر کی ہے۔
ایس ایس پی کے مطابق دورانِ پوچھ گچھ ملزم کو شواہد کی بنیاد پر سامنا کرایا گیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کیا۔
پرساد نے کہا، ’’کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ایک مخصوص مشتبہ شخص کے خلاف مادی شواہد سامنے آئے۔ جب اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے جرم قبول کر لیا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر کچھ اہم مادی شواہد بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ تاہم ایس ایس پی نے کہا کہ جرم کے محرکات سے متعلق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید فرانزک و تفتیشی کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
یہ واقعہ اُس وقت وادی بھر میں شدید غم و غصے کا سبب بنا تھا جب کمسن لڑکی اپنی گمشدگی کے بعد گھر کے قریب مردہ حالت میں پائی گئی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اسے زیادتی اور قتل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔
ایس ایس پی ہری پرساد نے کہا کہ واقعے کی مکمل کڑیاں جوڑنے اور عدالتی کارروائی کے لیے تمام ضروری شواہد اکٹھا کرنے کی غرض سے تحقیقات جاری رکھی جائیں گی۔










