نئی دہلی، 23 مئی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش کے سنگرولی کے گھنے جنگلاتی علاقے میں کوئلہ کان کنی پروجیکٹ کے خلاف قانونی چیلنج کا متبادل ابھی کھلا ہے اور حکومت کو ماحولیات اور مفادِ عامہ سے جڑے اس معاملے میں حساسیت کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ گزشتہ سال مئی میں ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے مدھیہ پردیش کے سنگرولی ضلع کے گھنے جنگلاتی علاقے میں کوئلہ کان کنی کی ایک تجویز کو منظوری دی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 7000 ایکڑ کا یہ علاقہ سال 2011 میں جنگلات کی شادابی اور ہاتھی راہداری (ایلیفینٹ کوریڈور) کی موجودگی کی وجہ سے کان کنی کے لیے ‘نو گو ایریا’ کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ بڑی بات یہ بھی تھی کہ اس پروجیکٹ سے چھ لاکھ سے زیادہ درختوں کی کٹائی ہونی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی حساسیت کے مدنظر کارکنوں نے اس منظوری کو نیشنل گرین ٹریبیونل (این جی ٹی) میں چیلنج کیا تھا لیکن گزشتہ اپریل میں ٹریبیونل نے درخواست تاخیر سے دائر کیے جانے کی بنیاد پر معاملے کے میرٹ پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹریبیونل کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ 21 مئی 2026 کو سپریم کورٹ نے تاخیر کے مسئلے پر سماعت کے بعد درخواست گزاروں کو درخواست واپس لینے اور قانون کے تحت دستیاب دیگر متبادل اپنانے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے یہ واضح ہے کہ معاملہ ابھی بھی قانونی چیلنج کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ماحولیاتی اور عوامی مفاد سے جڑے اس موضوع پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ حساسیت اور سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔










