نئی دہلی، 23 مئی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان آر پی سنگھ نے پنجاب حکومت پر تشہیر اور دکھاوے کی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور عام آدمی پارٹی (عآپ) کی قیادت میں سنگین مالی اور انتظامی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مسٹر سنگھ نے سوشل میڈیا ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس کے ذریعے ہفتہ کو عآپ اور مسٹر مان کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2022 میں جب آپ اقتدار میں آئی تھی، تب بھی پنجاب پر تقریباً 2.7 لاکھ کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اب 2027 تک 4.5 لاکھ کروڑ روپے کی خوفناک سطح کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اب صرف حساب کتاب کا معاملہ نہیں رہ گیا ہے۔ پنجاب میں مالیاتی تناؤ کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت ہر سال قرض لے رہی ہے۔ ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف پرانے قرضے اور سود چکانے میں جا رہا ہے۔ ترقی پر ہونے والے اخراجات مسلسل گھٹ رہے ہیں۔ تنخواہوں، پنشن اور گرانٹس میں تاخیر ہو رہی ہے اور مختلف شعبوں میں فلاحی اسکیموں کے بقایاجات بڑھتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ رپورٹوں کے مطابق، 2026-27 میں پنجاب کو صرف قرض کی ادائیگی پر ہی 42,000 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں، جس میں تقریباً 29,000 کروڑ روپے صرف سود کی ادائیگی کے لیے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اپنے وزیر خزانہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ نئے قرض کا بڑا حصہ پرانے قرضے چکانے میں ہی خرچ ہو رہا ہے۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ امداد یافتہ کالجوں کے اساتذہ گرانٹ میں تاخیر کی وجہ سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ امرتسر کا ہندو کالج سنگین مالی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کو بھی بار بار فنڈنگ کے تنازعات اور گرانٹس میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ڈی اے کے بقایاجات کو لے کر مسلسل مظاہرے کر رہے ہیں۔ پنشن ہولڈرز اپنے حقوق کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ منریگا کے کارکن تنخواہ میں تاخیر کی شکایت کر رہے ہیں۔ آشا ورکرز زیر التوا ترغیبی رقم اور اعزازیہ کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں۔ شگون اسکیم کے مستفیدین کو وعدہ کی گئی امداد کے لیے لامتناہی انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ صرف "خراب حکمرانی” نہیں ہے۔ یہ گہرے نقدی بحران اور انتظامی جمود کی تصویر پیش کرتا ہے۔ کبھی خوشحالی، زراعت، صنعت اور تعلیم کے لیے پہچانے جانے والا پنجاب آج ایسے حالات میں پہنچ گیا ہے جہاں یونیورسٹیوں، کالجوں، مزدوروں، پنشن ہولڈرز اور فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کروڑوں روپے تشہیر اور سیاسی دکھاوے پر خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عآپ ‘تبدیلی’، شفافیت اور معاشی اصلاحات کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی، لیکن موجودہ وقت میں پنجاب ریکارڈ قرض کے بوجھ، بڑھتی ہوئی سود کی واجب الادا رقم، تنخواہ اور پنشن میں تاخیر، فلاحی اسکیموں کے بقایاجات، اداروں کے فنڈنگ کے بحران اور گھٹتے ہوئے ترقیاتی اخراجات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں پنجاب کے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ ریاست کا پیسہ آخر جا کہاں رہا ہے؟










